’’احسان اللہ احسان ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں، فرار نہیں ہوئے‘‘

گذشتہ چند دنوں سے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان اور جماعت الاحرار کے سینئر رہنما احسان اللہ احسان کے پاکستانی اداروں سے فرار کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، ان خبروں کی کسی ریاستی ادارے کی جانب سے واضح تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم کچھ میڈیا چینلز اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبر درست ہے اور وہ اس وقت ترکی میں مقیم ہیں۔

اس حوالے سے ایک دعویٰ سینئر صحافی صابر شاکر نے بھی کیا ہے، انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ احسان اللہ احسان ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں، وہ فرار نہیں ہوئے۔

صابر شاکر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے مابین جاری مذاکرات کے تحت امریکہ نے افغان طالبان کو رہا کیا جبکہ افغان طالبان نے بھی بدلے میں امریکی اور افغانی قیدیوں کو رہا کیا۔ یہ سب ایک معاہدے کے تحت ہوا۔ احسان اللہ احسان کی رہائی بھی اسی قسم کے ایک معاہدے کا حصہ تھی۔ تاہم ان کی جانب سے فرار ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے وہ ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں۔

احسان اللہ احسان کون ہیں؟

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے عمر خراسانی جیسے طالبان رہنماؤں کے ساتھ مل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ایک الگ گروپ بنایا تھا جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے احسان اللہ احسان کا ایک اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔ ویڈیو میں ٹی ٹی پی کے ترجمان نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اور کہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان نے بطور ترجمان تحریک طالبان پاکستان، ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ جس میں ملالہ یوسفزئی پر حملہ، شیعہ کمیونٹی پر راولپنڈی اور کراچی میں ہونے والے حملے، باچا خان انٹرنیشل ائیرپورٹ پر ہونے والے راکٹ حملہ، گلگت بلتستان میں سیاحوں پر قاتلانہ حملے، لاہور میں واہگہ بارڈر، کرسچن کمیونٹی اور پارک میں ہونے والے حملے، قبائلی اضلاع میں پاک فوج پر ہونے والے حملے اور پنجاب کے سابق وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاعت خانزادہ پر ہونے والا حملہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ احسان اللہ احسان پر اے پی ایس حملے میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے، جس میں 140 سے زائد بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس وقت جو آڈیو وائرل ہے اس کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ مبینہ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اور اپنی گرفتاری اور فرار کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں دیں گے۔