اوکاڑہ: مردہ خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والے گورکن کا ویڈیو انٹرویو، ہولناک انکشافات

چند روز قبل اوکاڑہ کے قبرستان میں مردہ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والا درندہ پکڑا گیا تھا۔ اس حوالے سے نجی خبر رساں ادارے اردو پوائنٹ نے اوکاڑہ میں متعلقہ علاقے چک جوئیہ کے سابق چئیرمین علی یاسین اور مجرم گورکن سے گفتگو کی ہے۔

چئیرمین چک جوئیہ نے اس حوالے سے بتایا کہ چار سال سے اس طرح کی شکایتیں آ رہی تھیں کہ کوئی انسان یا جانور قبروں کو اکھاڑ دیتا ہے۔ ہم نے تحقیقات کی لیکن یہ واضح نہ ہو سکا کہ یہ شرمناک حرکت کرنے والا کون ہے، حیران کن بات یہ تھی کہ صرف عورتوں کی قبریں اکھیڑی جاتی تھیں، مردوں کی قبروں کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔ اور مردوں کی قبریں محفوظ رہتیں۔ ہم نے گورکن کو معاملے پر نظر رکھنے کے لیے کہا لیکن آج سے 7 دن قبل ایک عورت کی وفات ہوئی۔ دو دن بعد لوگ میرے پاس آئے اور بتایا کہ ایک بار پھر قبر کے ساتھ یہی عمل ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: اوکاڑہ میں مردہ خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والا گورکن گرفتار

چئیرمین نے مزید بتایا کہ جب میں نے قبر کا جائزہ لیا تو ایسا لگا کہ یہاں کوئی جانور آیا ہے۔ اس کے بعد ہم نے قبرستان میں پہرہ دینے کے لیے کچھ لڑکوں کو ذمہ داری سونپی، قبرستان سے کوئی جانور جا رہا تھا تو لڑکوں نے اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا۔ اس وقت گورکن بھی وہیں موجود تھا اور اس کو لگا کہ میں پکڑا گیا ہوں، اور اس نے بھی دوڑ لگا دی، وہاں پر لڑکوں نے دیکھا کہ قبر سے ایک سر برآمد ہوا ہے اور جیکٹ پہنے ایک بندہ باہر نکل رہا ہے۔

چئیرمین نے مزید بتایا کہ لڑکے گورکن کو کوئی آفت سمجھ کر ڈر گئے، اس دوران گورکن نے لڑکوں پر حملہ کر دیا، اس دوران کچھ لوگ اور جمع ہوئے اور مذکورہ گورکن کو پکڑ لیا۔

علی یاسین نے مزید بتایا کہ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد یہ بھی واضح ہوا کہ اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔لہذا قبروں کی بے حرمتی پر کوئی قانون بننا چاہیے۔

شرمناک کام کرنے والے گورکن نے انٹرویو میں بتایا کہ میں نے قبر ضرور کھولی لیکن اس بار میں نے ایسا کوئی فعل نہیں کیا۔ جب میں نے ڈر کر بھاگنا شروع کیا تو لوگوں نے پکڑ لیا۔

اس نے مزید کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، میں مردہ عورتوں کے ساتھ بدفعلی کرنے کے لیے قبریں کھودتا تھا اور وہاں لیٹ کے زیادتی کرتا تھا۔