بھارت نواز شریف خاندان: تسنیم اسلم سے چار سوال

پاکستانی دفترِ خارجہ کی سابق ترجمان تسنیم اسلم نے اتوار کی رات ایک انٹرویو کے دوران یہ دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں حکومت کی طرف سے ہدایت تھی کہ بھارت اور کلبھوشن یادیو کے بارے میں بات نہیں کرنی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شریف خاندان بھارت نواز ہے اور یہ بھی کہ نواز شریف کے دل میں بھارت کے لئے نرم گوشہ ہونے کی وجہ ان کے کاروباری مفادات تھے۔

ایسے الزامات ماضی میں بھی لگتے رہے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری بھی گذشتہ دورِ حکومت میں دعویٰ کرتے تھے کہ نواز شریف کی شوگر ملوں میں 350 بھارتی کام کرتے ہیں۔ خود وزیر اعظم عمران خان جلسوں میں نواز شریف کو مودی کا یار کہتے تھے، اور حافظ سعید صاحب کی سرپرستی میں ایک ملّی مسلم لیگ بھی وجود میں آئی تھی جس کا نعرہ ہی ’مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے‘ تھا۔ جی ہاں، یہ انہی حافظ سعید صاحب کی جماعت تھی جو حال ہی میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں مالی امداد کے کیس میں 11 سال قید کے حقدار ٹھہرے ہیں۔

گو کہ ماضی میں یہ تمام الزامات ثابت نہیں کیے جا سکے، اور اس وقت بھی ان الزامات کی اہمیت اور حیثیت ماضی کے الزامات سے زیادہ نہیں، مسئلہ یہاں صرف ان الزامات کا نہیں ہے۔ ان الزامات کی بنیاد پر کچھ سوالات ہیں جن کا اٹھایا جانا ازحد ضروری ہے۔

سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ تسنیم اسلم صاحبہ جو کہ نواز شریف کے دور میں ہی دفترِ خارجہ کی سرکاری ترجمان لگائی گئی تھیں، یہ احکامات کیسے مانتی رہیں۔ خارجہ پالیسی کے انتہائی اہم اور حساس موضوع پر کوئی بھی حکمتِ عملی دفترِ خارجہ کی ترجمان تک واضح احکامات کی صورت میں آنی چاہیے۔ کیا تسنیم اسلم صاحبہ کو کوئی تحریری حکم موصول ہوا تھا؟ اگر ہوا تھا تو انہوں نے ملکی مفاد اور ذاتی نظریات کو پیشہ ورانہ مجبوریوں کے نام پر کیوں تیاگ دیا؟ کیا انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دیا؟ کیا انہوں نے اپنے تحفظات کا تحریری صورت میں اظہار کیا؟ اگر کیا تو اس کا کوئی ثبوت انہیں ضرور سامنے لانا چاہیے۔ اور ساتھ ہی وہ تحریری حکمنامہ بھی جس کے تحت انہوں نے کئی سال تک بھارت اور کلبھوشن کے خلاف لب کشائی نہ کی۔ کیونکہ اگر وہ بغیر کسی تحریری حکم نامے کے قومی سلامتی کے اس اہم ترین معاملے پر ایک زبانی حکم پر عمل کرتی رہی ہیں تو یہ ان کی پیشہ ورانہ قابلیتوں پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

دوسرا سوال ان کے الزامات سے متعلق ہے۔ یہ انتہائی سنگین نوعیت کا الزام ہے جس کی تحقیقات تو ہونی ہی چاہئیں، یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ نواز شریف کے وہ کاروباری مفادات جن کی بازگشت گذشتہ کئی سالوں سے میڈیا میں سنائی دے رہی ہے، وہ سامنے کیوں نہیں لائے جا رہے؟ گذشتہ دو سالوں میں لوگوں کے گھروں کو پناہ گاہوں تک میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو پیشیوں کا جھانسہ دے کر جعلسازوں کے سے انداز میں گرفتار کیا گیا ہے۔ زیرِ حراست سابق وزیر اعظم کو نیب نے جیل سے نکال کر اپنی حراست میں لیا ہے۔ تو پھر ان ’کاروباری مفادات‘ پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

اور اسی الزام کے حوالے سے محترمہ تسنیم اسلم صاحبہ سے سوال بنتا ہے کہ انہوں نے کیا یہ الزام محض اس لئے لگا دیا کہ وہ نواز شریف کی بھارت سے متعلق پالیسی سے اختلاف رکھتی تھیں؟ یا ان کے پاس کوئی ثبوت بھی ہیں؟ اگر ثبوت ہیں تو کہاں ہیں؟ اور اگر نظریاتی مخالفت کی بنا پر الزام لگایا جا رہا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلہ لینے کا استحقاق کس کا ہے؟ عوام کی منتخب کردہ حکومت کا؟ یا ایک بیسویں یا اکیسویں گریڈ کے سرکاری ملازم کا؟

نواز شریف کو نااہل ہوئے تین سال ہونے کو آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سے اب تک دو نمائندہ اور ایک نگران حکومت برسر اقتدار رہ چکی ہیں۔ کلبھوشن یادیو تاحال جیل میں ہے۔ اس کے حوالے سے اب تک عالمی عدالتِ انصاف میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ پاکستان یہ مقدمہ تاحال کیوں نہیں جیت پایا؟ نواز شریف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کا نام لینے یا نہ لینے سے اس مقدمے کی صحت پر کیا اثر پڑا ہے؟ عمران خان صاحب نے کلبھوشن کا نام متعدد مواقع پر لیا ہے، اس سے کیا فوائد حاصل ہوئے؟ سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھنے والی سابق ترجمان کو اس پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کشمیر کاز کو جتنا نقصان کارگل مہم جوئی اور گذشتہ برس بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے سے پہنچا ہے، کسی بھی حکومت کے دور میں نہیں پہنچا۔ جنرل مشرف یا عمران خان میں سے کسی پر بھی بھارت نواز ہونے کا الزام نہیں لگایا جاتا۔ یہ دونوں شدھ ’پاکستان فرسٹ‘ قسم کے افراد ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر موجودہ حکومت کی کارکردگی تو پاکستان کی تاریخ میں بدترین رہی ہے کہ جس نے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنائے جانے پر بھی کھوکھلی تقاریر اور جمعہ کی نماز کے بعد عوام کو دھوپ میں کھڑا رکھنے جیسے مضحکہ خیز اقدامات کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ یہ واحد دورِ حکومت ہے کہ جس میں وقت کے وزیرِ خارجہ نے میڈیا کو کورا جواب دیتے ہوئے کہہ دیا کہ دنیا ہماری بات ہی سننے کو تیار نہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود حیران کن طور پر سابق بیوروکریٹ صاحبہ کو موجودہ نہیں بلکہ سابق حکمرانوں کی حب الوطنی پر ہی شک ہے۔

آج کورونا مریضوں کی تعداد 52 ہو چکی ہے اور اب بھی اطلاعات یہی ہیں کہ لاہور کے سروسز اسپتال میں کورونا کا ٹیسٹ کروانے کے لئے غیر ملکی سفر کی شرط لازمی ہے۔ یہ وائرس پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور عالمی معیشت کا بھٹہ بٹھانے کے درپے ہے۔ پاکستانی میڈیا سے گذارش ہے کہ یہ غداروں اور باغیوں کی تلاش میں ان چلے ہوئے کارتوسوں میں سے چنگاری نکالنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دے۔ جو کہ اس کا اصل کام ہے۔