دی بیٹل فار پاکستان، پاک، امریکا تعلقات کا مستقبل

اگر ہم پاکستان کو خارجہ محاذ پر مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندرونی معاملات کو بہتر کرنا ہوگا، بنیاد کو پکا کرنے کی ضرورت ہے، 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات ملے مگر ابھی تک سینٹر میں بابو راج قائم ہے، شجاع نواز

پاکستان میں مسئلہ کشمیر کے اوپر حکومت پر تنقید کی جاتی ہے جو لوگ تنقید کررہے ہیں وہ ہی اس کا حل بتا دیں تنقید کرنا آسان ہوتا ہے امریکا میں ہزاروں کی تعداد میں تھینک ٹینک ہیں پچھلے بیس سالوں میں انکی خارجہ پالیسی دنیا کے سامنے ہے، اعجاز حیدر

جب امریکا نے پاکستان سے افغان جنگ کیلئے ائیر بیس مانگی تھی تو مشرف کو چاہیے تھا کہ وہ کہتے میں پارلیمنٹ سے بات کرکہ جواب دونگا، عراق پر حملہ کیلئے جب امریکا نے ترکی سے یہ مطالبہ کیا تھا تو ان کی پارلیمنٹ نے مسترد کردیا مطالبہ اور بات ختم ہوگئی، شجاع نواز

مشرف نے افغان جنگ میں داخل ہونے سے پہلے اس کے نتائج پر توجہ نہیں دی اسی طرح آج ہم چائنہ کیساتھ معاشی تعلقات بڑھا رہے کیا ہم نے اسکے نتائج پرکچھ سوچا اسی طرح افغان امن مذاکرات کی بات ہے، ہمابقائی

دنیا میں اب ترجیحات بدل گئیں ہیں۔ مضبوط معیشت، صحت اور تعلیم اب کسی قوم کے طاقت کے پیمانے ہیں، دنیا میں اب جو بھی نیا کام ہورہا ہے اس میں معاشی قوت کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے، رضا رومی