پاکستان میں فرقہ واریت کی لہر: ‘پراکسیز کے کھیل میں ترکی بھی شامل’

پاکستان میں گزشتہ چند ماہ میں اچانک فرقہ واریت کی نئی لہر مشاہدے میں آرہی ہے۔ محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران مختلف مکاتب فکر کے حلقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہو یا پھر اسلام آباد میں مبینہ طور پر فرقہ ورانہ بنیادوں پر قتل ان سب سمیت ملک میں عمومی طور پر فرقہ ورانہ بنیادوں پر منافرت بڑے پیمانے پر سامنے آئی ہے۔ اب اس حوالے سے ملک کے سینئر صحافی اور اینکر سلیم صافی نے نئے انکشافات کر دیئے ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں بھارت سمیت دیگر ممالک شریک ہیں جن میں مسلمان ممالک بھی موجود ہیں جبکہ  ان ممالک میں ترکی کا اضافہ ایک نیا اضافہ ہے۔

سلیم صافی لکھتے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں گزشتہ تین چار ماہ سے پریشان اور سرگرداں ہیں جبکہ اب عام آدمی کو بھی نظر آگیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی منظم سازش ہورہی ہے۔

بھارت تو اِس میں ملوث ہے ہی لیکن بعض اوقات شک پڑتا ہے کہ اِسے مغربی ممالک کی شہہ بھی حاصل ہے، شومئی قسمت کہ حکومت میں بھی بعض ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو اس آگ کو دانستہ یا نادانستہ بھڑکا رہے ہیں۔

سعودی عرب اور ایران نے اپنے اپنے پراکسیز کو گرم کردیا ہے جبکہ اب ترکی بھی میدان میں کود پڑا ہے، ترکی فرقہ واریت کو ہوا نہیں دے رہا لیکن وہ سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے اپنا اثرورسوخ بڑھا کر پراکسیز پیدا کرنے میں مصروف ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے ڈرامے ارطغرل غازی کو نہ صرف پاکستان میں نشر کروایا تھا جبکہ اسے مکمل سیاسی سپورٹ بھی فراہم کی تھی۔