بلوچ طلبہ پیدل مارچ 12 روز بعد لاہور پہنچ گیا، چئرنگ کراس پر احتجاجی دھرنے کا اعلان

بہاولدین زکریہ یونیورسٹی ملتان کے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کا پیدل مارچ 12 روز بعد لاہور پہنچ گیا جہاں بلوچ کونسل لاہور، بلوچ سالیڈیریٹی کمیٹی، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، مزدور کسان پارٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں اور کارکنان نے ٹھوکر نیاز پر انکا پرتپاک استقبال کیا۔ طلبہ پر پھولیں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔ 12 روزمیں ملتان سے لاہور پیدل چل کر آنے والے طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ پر امن طریقے سے اپنا حق مانگ رہے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بہاولدین ذکریہ یونیورسٹی سمیت پنجاب کی تمام جامعات میں بلوچ طلبہ کیلئے مختص کوٹہ کو دوبارہ بھال کیا جائے جو موجودہ حکومت کی طرف سے کم کر دیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انکا مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان و دیگر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا کوٹہ بھی بڑھایا جائے۔

طلبہ نے پرتپاک استقبال پر مظاہرین کا شکریہ ادا کیا۔ چئیرمین بلوچ کونسل بہاولدین زکریہ یونیورسٹی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملتان سے لاہور راستے میں بہت سی طلبہ تنظیمیوں اور سیاسی جماعتوں نے انکا استقبال کیا جس پر وہ تہہ دل سے مشکور ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ تقریباً 400 کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد انکے ساتھیوں کے پاوں پر زخم اور چھالے بن چکے ہیں تاہم انکے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مارچ کی اگلی منزل اسلام آباد ہے۔ جب تک ہماری سکالر شپس اور کوٹہ سیٹیوں کو نہ بڑھایا گیا ہمارا مارچ جاری رہے گا۔

مارچ ٹھوکر نیاز بیگ سے چئرنگ کراس کی جانب رواں دواں ہے جہاں طلبہ نے احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔