ہمارے سپہ سالار عام انسان ہیں انکا انسانوں کی قطار میں کھڑے ہونا بڑی بات نہیں

پاکستان کے باشندوں سے درخواست ہے صالح ظفر کی اس رپورٹ (جس میں فوج کے سپہ سالار کے اسلام آباد کلب میں بمعہ اہل او عیال آنے اور ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے درمیان کا کھانا کھانے کا ذکر ہے) درج ذیل وجوہات کے مدنظر سنجیدگی سے نہ لیں:

انتہای قابل خبر نگار جناب صالح ظفر لکھتے ہیں:

 جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہل خانہ نے اسلام آباد کلب میں سنڈے برنچ عام شہریوں کے ساتھ کیا انہوں نے پلیٹ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر کھانا پلیٹ میں ڈالا انہوں نے دیگر مہمانوں کے کی طرح کھانا لینے کے لئے اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس موقع پر کلب انتظامیہ نے ایک اسپیشل سیٹ اپ بنا کر کرٹن لگائے مگر قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہٹا دیئے گئے آملیٹ کی ٹیبل پر کچھ رش زیادہ تھا مگر قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلخانہ نے قطار میں اپنی باری کا انتظار کیا،وہاں موجود ایک مہمان کے مطابق چیف آف دی آرمی اسٹاف قمرجاوید باجوہ دیگر مہمانوں میں گھل مل گئے

یہ عبارت پڑھ کر ایسا گمان گذرتا ہے کہ غالبا صالح ظفر نے زندگی میں کبھی کسی انسان کو کھانا لیتے نہیں دیکھا۔ ہر انسان اپنے ہاتھ ہی میں پلیٹ اٹھاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی انسان کو ہاتھوں کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے سے پلیٹ اٹھاتے دیکھا ہے؟ خبر تو تب ہی بن سکتی ہے نا۔ جیسے کہ وہ مشہور سبق ہے جو صحافت میں پڑھایا جاتا ہے کہ خبر یہ نہیں کے کتے نے انسان کو کاٹ لیا ہے۔ خبر تو وہ ہے کہ انسان کتے کو کاٹ لے۔  جنرل بھی انسان ہی بنتے ہیں اور ہر جنرل کے اندر تھوڑا بہت انسان تو بستا ہی ہے۔  سب ہی باشعور انسان قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور پھر وہ کام مکمل کرتے ہیں جسکے لئے قطار بنی تھی۔  اس خبر کو پڑھ کر یہ تو واضح ہو گیا کہ ہمارے سپہ سالار بھی انسان ہی ہیں اور انسانو ں کی طرح ہی معمولات زندگی ادا کرتے ہیں۔  یہ حقیقت تو خیر ہمارے علم میں تھی ہی مگر لگتا ہے کہ صالح ظفر اور وہ تمام پڑھنے والے جو اس پر طرح طرح کا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔۔ان سب حضرات کو اس خبر کے پہلے چھپنے سے یہ معلوم نہ تھا  کہ باجوہ صاحب انسان ہیں۔  مگر اب معلوم ہو گیا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے!

کچھ حاسدین صالح ظفر اور جنگ اور دی نیوز کے صحافتی معیار کو نشانہ بنا رہے ہیں، کہ دیکھیں جناب اب ملک کے سب سے بڑے اخبار میں یہ کچھ چھپنا شروع ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ صالح ظفر ایسے نامہ نگار سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کیا وہ این رام (دی ہندو اخبار کے مالک) کی طرح بوفور سکینڈل کی خبر لیکر آئیگا اور ہر خطرہ مول لیکر چھاپے گا؟ کیا اس سے پہلے یہ اخبار کوئی آسمانی صحیفہ ہو ا کرتا تھا؟ کل کو کوئی اور سپہ سالار آ جائیگا اور صالح ظفر صاحب اسی اخبار میں یہ ہی خبر شائع کر دینگے۔ صرف نام تبدیل ہو گا۔ باقی سب کچھ ویسا ہی رہے گا۔

اور ہاں اگر یہ خبر فوج کے متعلقہ شعبے نے خود چھپوائی (یقینا ان کی نیت اچھی ہو گی) تو اتنا ہی کہا جا سکتا ہے: ہوے تم دوست جسکے دشمن اسکا آسماں کیوں ہو! دیکھتے ہیں