سینیٹ اپوزیشن لیڈر :جماعتیں اتفاق کریں نہیں تو جس کی اکثریت اسی کا اپوزیشن لیڈر ہو، جماعت اسلامی

ترجمان جماعت اسلامی  قیصر شریف نے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے لیے حزب اختلاف کی جماعتیں مشاورت کریں۔  انہوں نے کہا کہ جماعت کا موقف ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو مل کر ایک نام پر متفق ہونا چاہیے ۔ اس معاملے پر اگر اتفاق نہیں ہوتا تو اپوزیشن لیڈر اکثریتی پارٹی کا ہونا چاہیے۔ پارلیمانی روایت کی پاسداری جمہوریت کا حسن ہے۔  

یاد رہے کہ پرسوں بلاول بھٹو زرداری نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی تھی اور انہیں پی ڈی ایم میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ جسے ذرائع کے مطابق سراج الحق کی جانب سے معذرت کے ساتھ رد کر دیا گیا تھا۔ تاہم حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار نبھانے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن اتحاد میں اتفاق پر زور دیا تھا۔

دوسری جانب آج پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، دونوں رہنماوَں میں ملکی سیاسی صورت حال پر گفتگو ہوئی۔

ذرائع جے یو آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نشست ن لیگ کی ہے، لہذاٰ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کو مشترکہ فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ذرائع نے  بتایا کہ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے تمام معاملات مل کر حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے اہم سربراہی اجلاس میں استعفوں کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے، اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ن لیگ کا ہوگا یہی حتمی فیصلہ ہے، جب کہ اس بیان کی تصدیق مولانا فضل الرحمان نے بھی کی تھی کہ شاہد خاقان عباسی کے گھر میں ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں تمام اپوزیشن جماعتیں حمایت کریں گے جب کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ (ن) کا ہی ہوگا۔