پاکستانی مردوں کی تعریفیں کرنی والی غیر ملکی بلاگر کیتھرین جارج کا اکاؤنٹ جعلی نکلا

پاکستانی مردوں کی تعریفیں کرنی والی غیر ملکی بلاگر کیتھرین جارج کا اکاؤنٹ جعلی نکلا۔

گزشتہ دنوں سے ٹوئٹر پر گردش کرنے والی غیر ملکی بلاگر کی جانب سے پاکستانی مردوں کی تعریفوں پر ایک اکاؤنٹ سے دو ٹوئیٹس کی گئیں۔

ٹوئٹر پر “کیتھرین” نامی اکاؤنٹ سے ایک بیرون ملک لڑکی کی پاکستانی مردوں کے ساتھ تصویر پر لکھا گیا کہ “دنیا میں کوئی بھی خواتین کی اتنی عزت نہیں کرتا جتنا پاکستانی مردوں کی طرح ہے۔ بہت ہی احترام اور شائستہ” اور “پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو پیار کرتا ہے اور خواتین کا احترام کرتے ہیں ”
تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹ جعلی ہے۔

 

حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی مردوں کی تعریف کرنے والی کیتھرین جارج کا اکاؤنٹ جعلی ہے۔ کسی نے پولینڈ کی خاتون ’ایلیکس معروز‘ کی تصاویر کا استعمال کیا اور پاکستانی حامی مردوں کے مواد شائع کرنے کے لئے جعلی اکاؤنٹ بنایا۔

اس کا اصل نام معروز ہے۔ معروز پاکستان میں رہائش پذیر پولش خاتون ہیں جو ٹریول اسٹوڈیو 92 کے تحت لوگوں کے لئے دوروں کا اہتمام کرتی ہیں۔ اسے جعلی اکاؤنٹ سے آگاہ کردیا گیا جس کے بعد انکا کہنا تھا کہ نہ یہ میرا نام ہے اور نہ ہی میرا اس اکاؤنٹ اور اس پر شئیر کئے گئے مواد سے کوئی لینا دینا ہے۔

انہوں نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے ان کے جعلی نام سے بنی آئی ڈی سے کی گئی پوسٹوں کی سٹوری لگائی اور لکھا کہ کسی نے میری اجازت کے بغیر ٹوئیٹر پر میری تصاویر لگائیں اور انہیں پوسٹ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ٹھیک ہے کہ میں تھوڑے عرصہ کے لئے پاکستان رکی ہوں یہاں انہیں اچھے طریقے سے دیکھاگیا مگر۔۔۔

انہوں نے لکھا کہ وہ پاکستانی خواتین کی نمائندگی نہیں کر سکتیں کیونکہ انہیں اپنے معاملات اور مسائل کا ادراک ہے۔

پولینڈ کی خاتون ’ایلیکس معروز‘ نے اپنی تصاویر بغیر اجازت استعمال ہونے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ من پسند تصاویر اور مواد فیک آئی ڈی بنا کر اس وقت چلایا گیا جب پاکستان میں ’عورت مارچ‘ مردوں کی وباء کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔