لینڈ مافیا کو طارق بنوری کا مشکور ہونا چاہیے!  

اگر لینڈ مافیا نے  ڈاکٹر طارق بنوری کا یہ انٹرویو نہیں دیکھا یا سنا تو اب دیکھ سن لے اور مزید تاخیر کئے بنا مفت کی زمین ہتھیانے میں تاخیر نہ کرے۔ بنوری صاحب  ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین تھے اور حال ہی میں راتوں رات ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنے عہدے سے سبکدوش کئے گئے ہیں۔ گو کہ انہوں نے اس آرڈیننس  جسے وہ شب خون سمجھتے ہیں کو عدالت میں چیلنچ کیا ہوا ہے مگر ان کو انصاف ہرگز نہیں ملنے والا۔ اس کی وجہ یہ ہر گز نہیں کہ ہماری عدالتیں انصاف نہیں کرتیں۔بالکل کرتی ہیں اور طاقتور لوگوں کا تو بھیانک طریقے سے کرتی ہیں۔  ذولفقار علی بھٹو کا انجام ذہن میں رکھیں۔  وجہ بنوری صاحب کی پارہ صفت شخصیت ہے۔ نہ تو ان میں صبر ایوب ہے اور نہ ہی ان کے پاس عمر خضر۔  ہمارے یہاں ان دو اوصاف حمیدہ کے بغیر انصاف کاتصور ممکن نہیں۔ اب یہ لنک ملاحظہ ہو:

داد دیں بنوری صاحب کو۔   کیا کمال کا گر بتلا گئے۔ نیوخان کی حکومت نے انتہائی نیک نیتی سے بنوری صاحب سے گذارش کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ  کا جگاڑ کر کے یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔ نہ جانے کہاں سے بنوری صاحب کے دماغ میں یہ شک سما گیا کہ اس سکیم کا مقصد سرکاری یونیورسٹیوں کی زمین ہتھیانا ہے۔ حالانکہ یہ کام تو اس ملک میں بنا کسی پارٹنرشپ کے ہو رہا ہے۔ اپنے سابقہ چئیرمین سینیٹ  سید نئیر بخاری ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی قانونی جنگ جیتنے کے باوجود قائدِ اعظم یونیورسٹی کی 400 ایکڑ زمین اکیلے ہی ہڑپ کر چکے ہیں۔ لیکن یہ غیر قانونی ہتھکنڈہ ہے جو قانونی سرپرستی میں ہمارے یہاں جگہ جگہ ہو رہا ہے۔ بنوری صاحب  کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ وہ لینڈ مافیا کو قانونی طریقے سے حکومت کی سرپرستی میں مفت کی زمین ہتھیانے کا تیر بہدف نسخہ دے چکے ہیں۔

بنوری صاحب کی تو ہو گئی ہے چھٹی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی آڑ میں ان ہی کی ذات سب سے بڑا روڑا تھی  ۔ یہ مذکورہ بالا پارٹنرشپ کے خلاف نہیں تھے بس یہ چاہتے تھے کہ ایک مضبوط مانیٹرنگ سسٹم وضع کیا جائے جو اس پارٹنرشپ کا ناجائز استعمال نہ ہونے دے۔ ان کی رخصت کے ساتھ یہ سسٹم بھی فنا  ہوا۔ اب ہماری لینڈ مافیا کو چاہیے کہ اسی پارٹنر شپ کے تحت جابجا یونیورسٹیاں قائم کرے۔ ایک دو کچے کمرے ڈال کر یونیورسٹی شو کر دے۔ کونسا کسی نے چیک کرنا ہے۔ مانیٹرنگ سسٹم والی بات تو آئی گئی ہو گئی۔ باقی زمین پر  ہاؤسنگ سوسائٹی ہو زبردست قسم کی مثلاً ڈی ایچ اے ، بحریہ ٹاؤن وغیرہ۔ اس ملک میں غربت بے پناہ ہے۔ غربت مٹانے کا اس سے بہترین گُر اور کوئی نہیں۔ اور دیکھا جائے تو ہماری یونیورسٹیاں کرتی کراتی تو کچھ ہیں نہیں۔ کروڑوں ایکڑ اراضی بے کار پڑی ہے۔ ان پر ہاؤسنگ سوسائیٹیاں قائم ہوں تو روٹی ، کپڑا اور مکان والی ضروریات زندگی میں ایک تو پوری ہو گی۔ ہمارے ملک میں میڑک سے پی ایچ ڈی تک جعلی ڈگریاں ملتی ہیں۔ بقول پرویز ہودبھائی ہمارے ملک کا پی ایچ ڈی O/A Level  کا پرچہ تک حل نہیں کر سکتا۔ لہذا یونیورسٹی تو کیا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سکول، کالج اور مدرسے بھی کھولے جائیں۔ ایک کچہ کمرا تدریسی کام کے لئے اور باقی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی۔ ایسا کرنے سے ہمیں ملتان میں لاکھوں آموں کے درخت کاٹ کر ڈی ایچ اے بنانے کی ضرورت نہ ہو گی۔ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بنجر زمین کسی  مفیدکام آئے گی۔ غریب کا بھلا ہو گا۔ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔