‘پولیس کی کوئی یونین نہیں، اس لئے حکومت نے سب اداروں کی تنخواہیں بڑھائیں، ہماری نہیں’

حکومت نے متعدد اعلانات کے باوجود محکمہ پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا جب کہ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ’بیلٹ فورس‘ ہونے کی وجہ سے وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کی کوئی یونین ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

نیا دور سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا، اسلام آباد میں وفاقی ملازمین کے احتجاج کے بعد ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا مگر کرونا کے حالات میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوا۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ کرونا کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے محکمہ صحت اور پولیس اہلکاروں کے لئے 25 فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا مگر حکومت نے ایسا کوئی وعدہ وفا نہیں کیا۔

نیا دور سے بات کرتے ہوئے چند پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ہر سال تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے مگر جس قدر مہنگائی بڑھ رہی ہے تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں۔ پہلے الاؤنس کی مد میں تنخواہ میں اضافہ کر دیا جاتا تھا مگر جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بنیادی تنخواہ اور الاؤنس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں شدید اضافہ ہوا ہے اور کم تنخواہیں کرپشن کی وجہ بنتی ہیں۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ہمارا ادارہ خود مختار نہیں بلکہ براہ راست صوبائی حکومت کے تابع ہے اس لئے جو بھی حکومت کے احکامات ہوتے ہیں ہمیں ان پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں حکومتوں نے پولیس کو قبضے کرنے کے لئے استعمال کیا اور موجودہ حکومت نے قبضے چھڑانے کے لئے پولیس کا استعمال کیا۔ لہٰذا ہمیں جو احکامات دیے جاتے ہیں ہمیں ان پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ہماری فورس فوج کی طرح خود مختار نہیں بلکہ حکومتی احکامات کے تابع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سٹی 42 کی ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے حال ہی میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کو عید پیکج کے تحت تنخواہوں میں اضافے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ مئی جون کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس پیسہ ہے لہٰذا حکومت تنخواہیں بڑھا سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی کو پولیس میں بھرتی کیا جاتا ہے تو اس سے حلف نامہ لیا جاتا ہے کہ وہ کسی قسم کا احتجاج نہیں کریں گے اسی لئے پولیس اہلکار باقاعدہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے کوئی احتجاج یا دھرنا نہیں دے سکتے اور نہ ہی کسی سینیئر افسر سے اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ البتہ اس ادارے کو دیگر محکموں کے احتجاجوں اور دھرنوں کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس والوں کے جیسے حالات ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دھرنے اور احتجاج سمیٹنے والے خود ہی دھرنے پر بیٹھ جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر محکمے میں یونین ہوتی ہے جو ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے۔ پولیس کی کوئی یونین نہیں اور نہ ہی اس ادارے کے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ سی ایس ایس کر کے بھرتی ہوئے ان کے سینیئر افسران کی بھی یونین ہے مگر ہم عام سپاہیوں اور پولیس اہلکاروں کو یونین سازی کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہاں سینیئر پولیس افسر تو اپنی یونین کے ذریعے اپنے مطالبات منوا لیتا ہے مگر عام سپاہی کے پاس اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔

پولیس اہلکاروں کا مطالبہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ان کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے۔