ڈاکٹر عطا الرحمن : کائنات کے سب سے بڑے معیشت دان!

ہم آج تک ڈاکٹر عطا الرحمن کو ایک عظیم ماہر تعلیم اور سائنسدان سمجھتےرہے۔    یہ علم نہ ہوا کہ وہ اس سے بھی بہت آگے کی چیز ہیں۔  یہ راز تب افشاء ہوا جب نیو خان سرکار نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن(HEC) کے چئیرمین ڈاکٹر طارق بنوری کی چھٹی کی۔ اللہ میاں کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت یا مشیت ہوتی ہے۔ بنوری صاحب کی چھٹی کے پیچھے کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر عطا الرحمن سے پنگا لیا اور سزا بھگتی۔ لیکن اگر یہ پنگا نہ لیتے تو قوم یہ راز جانے بنا ہی دنیا سے رخصت ہو جاتی کہ کائنات کا سب سے بڑا معیشت دان اور کاروباری ذہن کون ہے۔ نہ بل گیٹس نہ مارک زوبر نہ امبانی نہ زرداری بلکہ اپنے ہر دلعزیز ڈاکٹر عطا الرحمن! جی ہاں۔ اگر یقین نہ آوے تو یہ لنک کلک کریں اسےمکمل غور سے سنیں۔

 

اور اگر مکمل سننے کا حوصلہ نہیں تو لب لباب ہم لکھے جا رہے ہیں، وقت ہو تو پڑھ لیجئے گا۔  دراصل بنوری صاحب کو نیو خان نے یوں برطرف کیا کہ پاکستان کی تیزی سے مضبوط ہوتی معیشت کے لئے وہ ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے تھے۔ وہ ایسے کہ HEC ہر سال ڈاکٹر عطا الرحمن کے تین تحقیقاتی اداروں بشمول HEJتین ارب روپیہ دیا کرتی تھی۔ بنوری صاحب نے یہ خیرات یہ کہہ کر روک دی کہ بھئی ان اداروں کی کارکردگی تو صفر ہے۔ پہلے یہ کچھ کر کے دکھائیں پھر بھیک بھی مل جائیگی۔

پھر برطرفی کے بعد بنوری صاحب ٹی وی چینلز پر نظر آنا شروع ہوئے۔ پہلے پہل تو ڈاکٹر عطا الرحمن کے بغیر اور ایک پروگرام میں ان کے ساتھ بذریعہ فون جس کا لنک اوپر دیا گیا ہے۔

عطا صاحب کیا دور کی کوڑی لائے ملاحظہ ہو۔ اینکر کو بتلا رہے ہیں کہ وہ قوم کو ہر سال دس کروڑ روپے کما کر دے رہے تھے۔ بنوری صاحب کی حماقت کی وجہ سے قوم اب اس خطیر رقم سے محروم ہو گئی ہے۔ اگر بنوری صاحب عطا صاحب کو ہر سال تین ارب کی معمولی خیرات دیتے رہتے تو ان کا ادارہ HEJ ملک کو ہر برس دس کروڑ کما کر دیتا اور جلد ہی یہاں دودھ اور شہد کی نہریں تو کیا دریا بہنے لگتے۔  اسے کہتے ہیں business senseجس کا علم طارق بنوری ایسے سکالر کے پاس کہاں جس نے اپنا وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے اور بعد میں اسی لیول کی یونیورسٹیوں میں پڑھانے میں ضائع کیا۔

ہماری نیو خان سے گذارش ہے کہ فی الفور ڈاکٹر عطا الرحمن کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جائے تا کہ ہم جلد از جلد دنیا کی امیر ترین ریاست بن سکیں۔