ڈالر مہنگا، روٹی مہنگی، پیٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، سڑکیں بند: ‘لیکن آپ نے گھبرانا نہیں’

آج سے تقریبا تین سال پہلے عمران خان وزیراعظم بنے۔ 2013 کے الیکشن کے بعد ہی وعدوں کی لمبی قطاریں لگا رکھی تھی۔ 136 دن کے دھرنے میں جمہوریت کو اسکی اپنی موت مارتے ہوئے بجلی کے بلوں کو سرعام جلایاگیا ۔ حلف بردادی کی تقریب کے چند ہی دن بعد پہ در پہ عوام سے وعدے کرنے کی قطاریں لگا دیں ۔ جس میں عوام سے کئی وعدوں کے ساتھ ساتھ ایک کڑور نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی دعوہ کیا کہ وہ کبھی آئی ایم ایف کی آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اور آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کو ترجیح دیں گے۔

2018 سے لے کر اب تک ڈالر کی اونچی اوڑان سے لے کر چینی اور آٹے کے پروں تک، سونے کی بڑھتی نایابی سے لے تعلیم کی کم یابی تک ، ملکی قرضوں کی لمبی لسٹ سے لے کر ملکی خزانے کی بدحالی تک ، غریب کی آہ و زار سے لے کر امیر کی چمکتی پجارو تک زندگی بلک بلک کر اپنا دم توڑ رہی ہے۔

ملک کا یہ حال ابھی نہیں ہوا اس ملک کو ستر سال کی طویل جدوجہد کے بعد اس حال میں پہنچایا گیا ہے اور اب رہی سہی کسر آئی ایم ایف پوری کرے گا۔

1947 میں اپنے قیام کے بعد گیارہ سالوں تک آئی ایم ایف کی بارہا پیشکش کے باوجود پاکستان نے آئی ایم ایف سے کوئی قرضہ نہیں لیا تھا۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے دور میں آئی ایم ایف نے پہلا قرضہ پاکستان کو دیا۔ پاکستان گذشتہ 69 برسوں میں قرضے کے حصول کے لیے22 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔

2019 میں 39 مہینوں کے پروگرام کے تحت پاکستان کیلئے آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر کا ایک بیل آوٹ پیکج منظور کیا تھا اور یہ پیکج ملکی معشیت کو سہارا دینے کیلئے لیا گیا تھا۔ مگر یہ معاہدہ دو اقساط کے بعد ختم ہوگیا ۔ اب دوبارہ دس ماہ کے طویل عرصے کے بعد آئی ایم ایف سے تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کو دوبادہ بحال کیا گیا ہے۔

اس معاہدے کے مطابق پاکستان کو ایگزیکٹو بورڑ سے منطوری کے بعد پاکستان کو 500 ملین ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔

معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کے مطابق آئی ایم ایف سے دوبارہ معاہدے سے دنیامیں نہ صرف اچھا پیغام جائے گا بلکہ اس سے ملکی معشیت میں بہتری آئے گی۔ اس طرح ترسیلات زر میں اضافہ اور درآمدات میں کمی سے کرنٹ اکاوئنٹ خسارے کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بات روز اول کی طرح واضح ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی پہ سبسڈی بھی کم کرنے کا مطالبہ بھی زور و شور سے کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی رقم حاصل ہو گی جس کے ذریعے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپے کی قدر کو بھی سپورٹ حاصل ہو گی تاہم چند ماہرین معیشت کے نزدیک ان 50 کروڑ ڈالر کی بہت بڑی قیمت پاکستان کو معاشی نقصان کی صورت میں برداشت کرنی پڑے گی۔ کیونکہ شرائط سے عمل درآمد سے نا صرف ایک عام آدمی کی معیشت متاثر ہو گی بلکہ صنعت و تجارت بھی اس سے شدید متاثر ہوں گے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کا پاکستان سے تعلق اس کے دوسرے ممالک کے تعلق کے مقابلے میں اب بدل چکا ہے کیونکہ پاکستان میں آئی ایم ایف براہ راست معیشت کو کنٹرول کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا اب ہم اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ جہاں پر قرض اس لیے حاصل نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے معاشی گروتھ کو مدد دی جا سکے بلکہ یہ قرض گزشتہ قرض کو اتارنے کے لیے لیا جا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری بھی دے دی ہے اور بجلی کے نرخ کم از کم 4.97 فی یونٹ بڑھانے کی منظوری بھی کچھ دن پہلے دی ہے۔

انھوں نے کہا اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان ٹیکنکیل طور پر ڈیفالٹ کر چکا ہے کیونکہ قرض لے کر قرض کی واپسی ڈیفالٹ ہی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سٹرکچرل ریفارمز سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آتی بلکہ اس سے قرضوں کی ادائیگی کو تحفظ دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اضافی ٹیکس اس لیے اکٹھا کرنے پر زور دیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے قرض کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔

انھوں نے پروگرام کی بحالی سے جڑی ہوئی شرائط کو پاکستان کی معیشت کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا قرار دیا اور کہا کہ اس سے معاشی گروتھ ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔

انھوں نے کہا ان شرائط کے بعد ملک کی اکنامک مینجمنٹ کی بحث ہی ختم ہو گئی ہے اور اب ایک ہی چیز نظر آتی ہے کہ قرض کا چکر اسی طرح جاری رہے گا۔

ڈاکٹر رشید امجد نے کہا قرض لے کر قرض واپس کرنا کمرشل اور آئی ایم ایف کے قرض کے سلسلے میں صحیح بات ہے لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے منصوبوں کے لیے قرضے لیے جاتے ہیں۔

ماہرین معیشت کے مطابق آنے والے دنوں میں اس مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو ملکی معاشی پیداوار کو بری طرح متاثر کرے گا اور مصنوعات کو مہنگا کرے گا۔

سٹیٹ بینک کے تخمینوں کے مطابق بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ اور چینی و گندم کی قیمتیں، جنوری اور فروری کے اعدادوشمار کے مابین مہنگائی میں 3 فیصد درجے اضافے کے تقریباً 1.5 فیصد درجے کی ذمہ دار ہیں۔

بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آئندہ مہینوں کے دوران عمومی مہنگائی کے اعدادوشمار میں ظاہر ہوتا رہے گا جس سے مالی سال 2021 میں اوسط مہنگائی قبل ازیں اعلان کردہ 7-9 فیصد کی حدود کی بالائی حد کے قریب رہے گی۔

ملکی معشیت اور آئی ایم ایف کے حالات خوفناک اژدھے کا روپ دھار چکے ہیں مگر گبھرانا منع ہے* کیونکہ ہمارے وزیراعظم کہہ چکےہیں کہ گبھرانا نہیں ہے۔ لیکن ان سے گزارش ہے کہ وہ یا تو عوام کے نازک کندھوں سے مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کریں یا پھر ہمیں گبھرانے کی اجازت ہی دے دیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے آگے ایف بی آر سے مزید 1.27 ٹریلین روپے کا ٹیکس کا ہدف مقرر کیا ہے۔ موجودہ سال ایف بی آر کیلئے 4.6 ٹریلین کا حدف ہے جبکہ 2021 سے 2022 میں یہ حدف 5.96 کی بلند ترین سطح پہ پہنچ جائے گا۔ اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4.97 روپے کا اضافہ بھی منظور کیا گیا ہے۔

حکومتی موقف کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خدمختاری دے کر ملکی معشیت کے حق میں بہت اچھا فیصلہ ہوگا لیکن اگر ایسا ہی ہے تو حکومت باقی اداروں کی جومختاری میں ٹانگ آڑاتی کیوں نظر آتی ہے اور ہر معاملہ ان کے یو ٹرنز کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی خودمختاری کھو دیں گے؟ کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر سے ہم سے ہماری آزادانہ حثیت چھین رہا ہے؟ کیا ایک بار پھر ہمیں غلامی کا طوق پہنا دیا جائے گا؟ کیا آئی ایم ایف بھی آہستہ آہستہ ہمارے اختیار پہ قبضہ جما رہا ہے؟