طارق نام میں ہی مسئلہ ہے!

قلندر کے آستانے پر آج  صبح سویرے اسکے استاد، محسن و مربی ڈاکٹر طارق بنوری جلوہ افروز ہو گئے۔ قلندر گہری نیند میں تھا۔ حکم یہ تھا کہ اگر وہ سو رہا ہو تو کسی صورت بیدار نہ کیا جائے بھلے قیامت ٹوٹ پڑنے کو پر تول رہی ہو مگر صرف ایک صورت میں۔ اگر آستانے پر طبلہ نواز استاد ذاکر حسین یا قلندر کے کوئی دوسرے استاد آ جائیں تو انہیں انتہائی عزت و احترام سے بٹھایا جائے۔ چائے، کافی، بھنگ ، روح افزاء یا مشروب مغرب  جو بھی ان کا من پسند ہو سے تواضع کی جاوے۔ فن سے شوق رکھتے ہیں تو ریشماں کو حکم تھا کہ کتھک پیش کرے۔ لہذا قلندر کے حکم کی روشنی میں اسے جگانا ہی پڑا۔ یہ کٹھن کام اس کے پرسنل سیکریٹری سید اسحاقے کنجر نے انجام دیا۔ قلندر بنوری صاحب کا نام سنتے ہی فوراً چوکس ہو گیا۔ روشنی کی رفتار سے لاونج کی جانب بڑھا اور بنوری صاحب کے چرن چھوئے۔ ان کا آشیرواد لیا۔

“حضور آپ نے کیوں زحمت کی۔ مجھے حکم دیا ہوتا۔ سر کے بل آپکے محل میں حاضر ہو جاتا۔ ” قلندر اپنے استاد سے مخاطب تھا۔

“خوش رہو قلندر میاں۔ تمہارے آستانے کا بڑا نام سنا ہے میں نے۔ ہارورڈ میں اس پر پی ایچ ڈی بھی ہو رہی ہے میری ہی نگرانی میں۔ میں نے سوچا کہ پی ایچ ڈی  کی نگرانی تو میرے ذمے ہے پر آستانہ تو میں نے دیکھا ہی نہیں۔ کل کلاں اگر نیو خان نے نیا الزام لگا دیا تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا۔ اس لئے خود ہی آ گیا۔ بھئی کمال کا سیٹ اپ ہے۔ ” بنوری صاحب بولے۔

“حضور کی کیا خدمت کر سکتا ہے یہ غلام؟” قلندر نے پوچھا۔

“بھئی قلندر تم تو ساری عمر خدمت ہی کرتے رہے ہو۔ اب تمہارے آرام کرنے کے دن ہیں۔ بس ایک سوال ہے جس کا جواب نہ مجھے ملا نہ نواز شریف کو۔ اس کا جواب ساری کائنات میں اگر کوئی دے سکتا ہے تو وہ تم ہی ہو۔۔۔” بنوری صاحب نے ارشاد فرمایا۔

“اور حضور وہ سوال ہو گا: مجھے کیوں نکالا!” قلندر اپنے استاد کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑا۔

“ارے تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہ ہی سوال پوچھنے والا تھا؟” بنوری صاحب حیرت زدہ تھے۔

“آخر شاگرد کس کا ہوں۔ آپ کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ مجھے معلوم ہے آجکل یہ ہی ایک سوال آپکے ذہن میں کلبلا رہا ہو گا۔ میں تو آپ کو ای میل پر اس کا جواب آپکے سوال کرنے سے پہلے ہی دینے والا تھا پر  کل سے آستانے کا وائی فائی کام نہیں کر رہا۔ یہ پی ٹی سی ایل اپنی حرمزدگیوں سے باز نہیں آتا۔ آئے دن وائی فائی خراب رہتا ہے۔ اب سوچ رہا ہوں  اپنا سیٹلائٹ بھیج دوں سپیس میں۔ یہ ٹنٹہ ہی ختم۔۔۔” قلندر بولا۔

“ہاں میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ میں تمہیں اپنے انجینئر سے ملوا دونگا۔ میرا نام لینا تمہیں سستے میں کر دے گا۔ ” بنوری صاحب بولے۔

“جی ضرور۔ بہت شکریہ۔  تو آپ کے سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔”

“وہ کیسے؟” بنوری صاحب نے پوچھا۔

“حضور ساری خرابی آپ کے نام میں ہے!” قلندر بولا

“ہیں! یہ کیا بات ہوئی بھلا!”

“حضور یہ ہی بات ہے۔ آپ تو سال میں  پندرہ مہینے باہر رہتے ہیں۔ آپکے علم میں ہی نہیں ہوتا کہ آپکے پیچھے اس ملک خداداد میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ طارق نام میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اور اسکی تال چیئرمین کے عہدے سے میل نہیں کھاتی۔ اسکا ثبوت ہے طارق ملک!”

“یہ طارق ملک کون ہیں؟”بنوری صاحب نے پوچھا۔

“یہ اس حکومت کے دور میں نادرا کے چیئرمین تھے جس نے آپکو HEC کا چئیرمین مقرر کیا تھا۔”قلندر بولا۔

“طارق ملک صاحب نے بطور چیئرمین نادرا بائیو میٹرک سسٹم متعارف کروایا جس سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو انتخابات میں دھاندلی پکڑنے میں بہت مدد ملی۔ بس رات ایک بجے انہیں لاہور سے اسلام آباد بلوایا اور فارغ کر دیا بغیر کوئی وجہ بتلائے۔ اس کے علاوہ طارق ملک نے چوہدری نثار علی خان سے پنگا لیا تھا جو کہ اسوقت وزیرِ داخلہ تھے۔ آپ نے پنگا ڈاکٹر عطا الرحمن سے لیا۔ ملک صاحب چوہدری صاحب کی اور آپ رحمن صاحب کی نہیں سنتے تھے۔ اسکے علاوہ انہوں نے چھ ارب روپے کا ایک ٹھیکہ سری لنکا سے نادرا کو دلوایا تھا جو کہ پہلے کسی بھارتی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ اس ٹھیکے پر یہ monitoring systemوضع کرنا چاہتے تھے جیسے آپ کرنا چاہتے تھے۔ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ گئے اور عدالت نے انہیں فی الفور بحال کر دیا۔ حکم دیا کہ کام جاری رکھیں۔ آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر سندھ ہائی کورٹ چلے گئے اتنی دور! آنے جانے میں وقت تو لگتا ہے۔ لہذا آپ کی بحالی کا بھی حکم آئے گا مگر لگتا ہے وہ راستے میں ہے۔ شاید اسی سرکاری ایمبولینس میں آ رہا ہے جو قائدِ اعظم کو زیارت سے کراچی لے جا رہی تھی۔  پھر اسکے بعد انہیں اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ انہیں پتہ ہی نہ چلا۔ پتہ تب چلا جب انہیں اپنا ہی شناختی کارڑ دوبارہ بنوانا پڑا۔ پھر ان کے اہل خانہ کو دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ آخر کار انہوں نے تنگ آ کر استعفی دے دیا۔ کچھ عشق کیا کچھ کام آخر میں دونوں کو طلاق دے دی۔ ”

“آپکی طرح یہ بھی انتہائی پڑھے لکھے اور لائق انسان تھے۔ ورلڈبینک میں اعلی عہدے پر کام کر چکے تھے۔ آجکل اقوام متحدہ میں ہیں۔ اور کچھ جاننا چاہیں گے کہ کیوں نکالا آپ کو؟ ” قلندر نے پوچھا مگر بنوری صاحب کسی سوچ میں گم تھے۔ جواب نہ دیا تو قلندر پھر سے شروع ہو گیا۔

“طارق کا مطلب ہے صبح کا تارا۔ یہاں روشنی لوگوں کو پسند نہیں۔ اجالا انکی صحت کے لئے مضر ہے۔ اگر آپ کا نام طارق کے بجائے تاریک ہوتا تو آپ اس ملک میں بے انتہا ترقی کرتے۔ جہالت میں ڈوبی اس قوم کو تاریکی میں ہی رہتے دیں۔ روشنی اسے اندھا کر دے گی!”

“واہ قلندر ! تم نے تو میرے چودہ طبق روشن کر دیے۔ ” بنوری صاحب بولے۔

“ارے حضور چودہ طبق تو آپکے ریشماں روشن کرے گی جب میں طبلہ بجاؤں گا اور یہ ناچے گی۔” قلندر نے کہا اور محفل شروع ہو گئی۔