فوج کا سیاست سے تعلق ہے یا نہیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے!

قلندر کوآج آستانے پر مریدوں کے فضول سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا تھا۔ اس بلائے ناگہانی کا سبب فوج کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کی درجنوں اینکروں ، جن کا کام دن رات بلاتکان بھونکنے کے علاوہ اور کچھ نہیں، سے سات گھنٹے پر مشتمل مختصر مگر خفیہ ملاقات تھی۔ یہ ملاقات رمضان المبارک ایسے بابرکت مہینے میں ہوئی۔ اس ملاقات سے نسوار خان کو بےخبر رکھا گیا تھا کیونکہ یہ جید جہلاءلئے تھی ارسطو یا لقمان کے لئے نہیں!

مریدوں کی سب سے بڑی تشویش یہ تھی کہ ہمارا آرمی چیف اتنا ویلا ہے کہ اینکروں پر سات گھنٹے ضائع کردے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ملاقات خفیہ تھی۔ اگر کم بخت مودی کو اس کی بھنک بھی پڑ جاتی تو پاکستان پر حملہ کر دیتا۔ باجوہ صاحب کی بارڈر سے اس طرح کی سات گھنٹوں پر محیط دوری، وہ بھی لفافہ صحافیوں اور بوٹ پالشیوں کی خاطر ،نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام اور امت مسلمہ کے لئے سنگین خطرات پیدا کر سکتی تھی۔

‘جاہلوں اگر چیزوں کا مکمل علم نہ ہو تو بکواس کرنے سے گریز کیا کرو۔ اب سنو جواب اپنے تمام خدشات کا!’ قلندر مریدوں سے مخاطب ہوا۔

‘سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جنرل باجوہ بارڈر پر ہی ڈٹے رہے۔ ایک لمحے کے لئے بھی ادھر سے ادھر نہ ہوئے ۔ خوشامدی ٹٹوؤں سے ملاقات ان کے ڈپلی کیٹ نے کی تھی۔ دوسری بات، مودی کو ملاقات کا پتہ لگ گیا تھا۔ کسی کم بخت نے مخبری کر دی تھی۔ شاید جو بائیڈن ہو گا یا پوٹین۔ مودی لمبا چوڑا لشکر لے کر بارڈر پر پہنچ بھی گیا تھا۔ مگر دور سے ہی جنرل باجوہ کو چوکس پا کر دم دبا کر بھاگ گیا۔  ‘

‘اچھا!!’ سب مریدوں کے منہ سے نکلا۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ محسوس کرتے ہی قلندر نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا: ‘اب اگلا ایشو سات گھنٹوں کا ہے۔ تمہیں ہمارے صحافیوں اور اینکروں کی تعلیمی و علمی قابلیت کا تو بخوبی اندازہ ہے۔ جہالت میں ابو جاہل کے بھی باپ ہیں۔ تو ایک سادی سی بات ان کے بھس بھرے دماغ میں بٹھانے کے لئے بیچارے ڈپلیکیٹ کو سات گھنٹے لگ گئے۔’

‘اچھا!!’ مریدوں کے منہ سے پھر نکلا۔ وہ ابھی تلک ورطہ حیرت میں تھے۔ ‘تو پھر کیا کرنا چاہیے؟’ مریدوں نے پوچھا۔

‘بھئی باجوہ صاحب بھی اسی آستانے کے مرید ہیں۔ جب سے آرمی چیف بنے ہیں دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس لئے حاضری نہیں دے پاتے ۔ لیکن سکائپ پر مجھ سے رابطے میں رہتے ہیں۔ میں نے انہیں یہ مشورہ دیا ہے کہ علی الااعلان  کہہ دیں کہ فوج کا سیاست سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔  ‘

‘یہ کیا بات ہوئی!’  قلندر کا مرید کانا دوراندیش اختلافی انداز میں بولا۔

‘ابے کچھ حقیقتیں اٹل ہوتی ہیں۔ یہ بکواس کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیےان کے لیے چھوڑ دو جو احمقوں کی جنت کے مکین ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کوئی سقراط لیول کا ذہن نہیں کامن سینس کافی ہے۔  فرض کرو فوج کا سربراہ مر جاتا ہے۔ کیا فوج اسکے بیٹے یا بیٹی کو آرمی چیف بنا دے گی؟ بھٹو مر جاتا ہے تو اسکی بیٹی جماعت کی رہنما بن جاتی ہے۔ جب وہ قتل ہو جاتی ہے تو اس کا بیٹا اماں کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ سیاستدان جن کی عمریں گل سڑ گئیں سیاست میں ادب سے کل کے لونڈے کے حضور ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔  نواز شریف کو دیکھ لو جس کا ریکارڈ ہ میدان جنگ میں پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا ہے، آجکل لندن کے کسی چھید میں گھسا بیٹھا ہے۔ اب اس کی لونڈیا جماعت کی قیادت کر رہی ہے۔ اور وہ جنکا سیاست میں تجربہ اس بچی کی عمر سے زیاد ہ ہے اور جماعت کے لئے بےمثال قربانیاں ہیں، اسکے تلوے چاٹ رہے ہیں۔ ایسا مسخرہ پن فوج میں ممکن ہے؟ اگر کچھ ایسا کرشمہ ہو جاوے کہ فوج مکمل طور پر سیاسی جماعتوں کے نیچے ہو، یہ لوگ جیالے اور یوتھیوں کو کور کمانڈر اور آرمی چیف لگائیں گے۔ ہر ادارے میں سیاست گھسی ہے۔ جو تھوڑا بہت میرٹ نظر آتا ہے وہ فوج میں ہی ہے۔ یہ سیاست دان اس کا بھی منٹوں میں بیڑہ غرق کر کے چھوڑیں گے۔ سیاستدان چاہتے تو اپنی اپنی جماعتوں کو ایک مضبوط و موثر ادارہ بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے اسے کریانے کی دکان بنا کر رکھ دیا۔  لیڈر مر جائے تو اسکا بیٹا یا بیٹی گلے پر بیٹھ جاتا ہے۔ ‘

‘جب فوج حکومت کرتی ہے تو کیا فضائیہ یا بحریہ یا رینجرز اسکے خلاف سازشیں کرتے ہیں؟ نہیں نا! لیکن جب سیاسی حکومت ہوتی ہے تو دیگر پارٹیاں بشمول اسکے اپنےبندے اسکی قبر کھودنا شروع کر دیتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں آرمی چیف سے ملاقاتیں کر کے یہ منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ حضور اس حکومت کو چلتا کردیں۔ ہم نے آپکا کام آسان کر دیا ہے۔ قبر بھی تیار کر دی ہے۔  آج تک یہ لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ اتفاق میں برکت اور طاقت ہوتی ہے۔ یہ کہتے ہیں فلانے حلقے میں ہماری سیٹ اتنی مضبوط ہے کہ اگر کتا بھی کھڑا کر دیں تو وہ بھی جیت جائے گا۔ کتے کی شان میں ایسی گستاخی،  توبہ، توبہ!’

‘سیاسی جماعتیں ٹکٹ بیچتی ہیں۔ امیر لوگ اسے اور ووٹوں کو خریدتے ہیں۔ ووٹ کی قیمت ایک پلیٹ بریانی ہے۔ پھر اسکے بعد وزارتیں ، سینٹ کے ٹکٹ اور اہم ادارے برائے فروخت ہوتی ہیں۔ امیر لوگ اسے بھی خریدتے ہیں۔ اسکے بعد نام نہاد ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں جن کا مقصد اس سرمایہ کو منافع کے ساتھ واپس نکالنا ہوتا ہے جو اسمبلی تک پہنچنے کے لئے لگایا تھا۔ بس یہ ہی لکی ایرانی سرکس سیاستدان ہمیں ستر سالوں سے دکھا رہے ہیں۔ عوام کا تو ایک بھی مسئلہ حل نہ ہوا۔ انہیں تو ابھی تک صاف پانی، نکاس، صحت، تعلیم اور انصاف  نہ ملا۔ مکان تو دور کی بات۔ سندھ میں سولہ لاکھ بچے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ گذشتہ آٹھ برس میں سندھ حکومت نے ان کے لئے ایک کرسی یا ڈیسک تک نہیں خریدا۔ اور سندھ میں روز اول سے پی پی پی کی حکومت ہے جس کا نعرہ روٹی ، کپڑا اور مکان ہے۔ لعنت ایسی جمہوریت پر! ‘

‘لعنت لعنت ہزار بار لعنت!!’ سب مرید یکدم بولے۔

‘اور ان جمہوری حکومتوں کے کارنامے دیکھو۔ پنجاب کا محکمہ تعلیم کہتا ہے کہ آیزک نیوٹن کی تصویر پر دوپٹہ ڈالو۔ محکمہ تعلیم میں بیٹھے بقراط وگ پہنے نیوٹن کو بے پردہ عورت سمجھ بیٹھے۔ پاکستان اور اسلام دونو ں ہی فحاشی کو وجہ سے خطرے میں پڑ گئے۔ اب نیوٹن باپردہ ہو گا تو امت مسلمہ محفوظ ہو گی۔ ‘

‘فوج میں رشوت دیکر کوئی کیڈٹ بھرتی نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کپتان سے یکدم کرنل بن سکتا ہے۔ اس ملک کا مسئلہ جمہوریت نہیں انداز حکمرانی یعنی گورننس ہے۔ عوام کو غرض نہیں گورننس فوج کرتی ہے یا سیاستدان۔ انہیں تو اپنے مسئلوں سے غرض ہے۔ حمام میں کیا سیاستدان کیا جرنیل سب کے سب ننگے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورننس اور مینجمنٹ کس کی اچھی ہے۔ ‘

‘سیاستدان دن رات جنرل ضیاء کو کوستے ہیں کہ ملک کی اسلامائزیشن اس نے شروع کی۔ بھول جاتے ہیں کہ اس کا سہرا بھٹو صاحب کے سر ہے۔ بھٹو نے ہی شراب، ریس، جوئے، کسینو، نائٹ کلبوں پر پابندی لگائی۔ جمعہ کو چھٹی کا دن قرار دیا۔ اور آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو کافر قرار دیا۔  اور یہ اپنے نواز شریف جو جمہوریت کے بہت بڑے علمبردار بنے پھرتے ہیں اپنے دو تہائی مینڈیٹ والی سرکار کو بھول گئے جس کے نشے میں چلے تھے یہ امیرالمومنین بننے اپنے متعارف کئے گئے شریعت بل کی بدولت۔ اور پھر اپنے گلو بٹ ٹائپ غنڈے انہوں نے نومبر 28 ، 1997کو سپریم کورٹ پر چھوڑ دیے کیونکہ اسوقت کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ انکے خلاف توہین عدالت کیس کی کاروائی جاری رکھنے پر بضد تھے۔ یہ ہی بھاری مینڈیٹ عوام کی بھلائی کے لئے بھی تو استعمال کیا جا سکتا تھا! اور یہ یاد دلانے کی تو ضرورت نہیں کہ الیکڑانک میڈیا جس کی بدولت دو ٹکے کا صحافی اب کروڑوں کما رہا ہے کسی منتخب حکومت کی نہیں ایک ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی دین ہے۔ آرمی کو شوق سے نتھ ڈالیں لیکن کچھ کر کے۔ اپنی شرمناک حرکتیں بند کریں۔ دیانت داری سے ملک کے معاملات چلائیں۔ جب فوج چلتا کر دے تو پھر یہ نہ بتائیں کہ آرمی نے کام نہیں کرنے دیا۔ اگر نہیں کرنے دیتی تو مستعفی ہو جائیں۔ آپکا اقبال بلند ہو گا۔ آرمی کب تک دیانتدار قیادت کو گھر بھیجتی رہے گی۔ اپنا گریبان صاف ہو تو آرمی کی مجال نہیں آپکے کاموں میں دخل دے۔’

‘واہ حضور واہ۔ آئی ایس پی آر کا چیف تو آپکو ہونا چاہیے تھا۔’ سب مرید بولے اور قلندر نے انہیں جھڑک دیا  وہی پرانا جملہ ادا کر کے: ‘حرامزادوں مجھے خوشامد اور خوشامدیوں سے شدید نفرت ہے!’