• آن لائن اشتہاری ٹیرف
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • ہمارے لئے لکھیں
  • نیا دور انگریزی میں
جمعرات, مارچ 23, 2023
نیا دور
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
نیا دور
No Result
View All Result

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

حمایت پر مائل عدلیہ اور منقسم اسٹیبلشمنٹ، بدنام سیاسی حریفوں اور میڈیا کی منقسم حکمت عملی کی موجودگی میں عمران خان اقتدار میں واپسی کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر انہیں نااہل بھی قرار دے دیا جاتا ہے جس کے امکانات کافی زیادہ ہیں، اس کے باوجود جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو وہ ان میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

رضا رومی by رضا رومی
مارچ 20, 2023
in ایڈیٹر کی پسند, تجزیہ
95 1
0
112
SHARES
533
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

پولیس کی جانب سے وافر مقدار میں ہونے والی شیلنگ کے بدصورت مناظر، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس فورس پر پتھراؤ اور سابق وزیر اعظم عمران خان جنہیں اسلام آباد کی عدالت نے طلب کر رکھا تھا، کو گرفتار کرنے میں حکومت کی حتمی ناکامی سے پاکستانی ریاست کے اندر موجود ایک شدید بحران کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تعصب پر مبنی آرا کسی ایک فریق یا دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا سکتی ہیں لیکن آخر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنے میں ناکامی ایک سنگین سوال ہے جس پر توجہ دی جانی چاہئیے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور یہ بھی کہ ان پر ڈیپ سٹیٹ کی جانب سے قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے۔ وہ درجنوں مقدمات میں مطلوب ہیں جن میں سے کچھ واضح طور پر سیاسی نوعیت کے ہیں، جبکہ بعض دیگر مقدمات ان کے بطور سیاست دان کردار اور تین سال سے زائد عرصے تک ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے سے متعلق ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیٹھے مقتدر لوگوں کو پانچ خطرناک علامات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے کیا اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود مختلف مفاد پرست گروہوں کے مابین مقصد سے متعلق شفافیت اور اتحاد ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر سے کس انداز میں نمٹنا چاہتے ہیں جو دن بدن حقیقی سیاسی نقطہ نظر کے لحاظ سے ناقابل قبول ہوتا جا رہا ہے؟ اگر تو مقصد یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ سابق وزیر اعظموں جیسا برا سلوک کیا جائے تو اس کے لئے جو طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں وہ بے اثر ہیں۔

RelatedPosts

‘عمران خان کے کارناموں کی وجہ سے پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے’

گورنر جنرل غلام محمد جنہوں نے سیاست میں فوجی اور عدالتی مداخلت کی بنیاد رکھی

Load More

دوسرا یہ کہ اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں کی صفوں میں موجود ظاہری کنفیوژن اور تقسیم کے باعث قانونی اور سیاسی تنازعات کے منصفانہ اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر عدلیہ کی تیزی سے خراب ہوتی ساکھ کی عکاسی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی گرفتاری سے بچ رہے تھے، ان کی قانونی ٹیمیں مختلف دائرہ اختیار میں مختلف عدالتوں سے رجوع کر رہی تھیں، جس کے نتیجے میں عدالتوں سے متعدد ایسے احکامات حاصل کیے گئے جو ایک دوسرے سے متصادم تھے۔

تیسرا یہ کہ لاہور کے زمان پارک میں گرفتاری سے بچنے کا عظیم الشان شو جاری ہے، پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ کیا وہ عمران خان کی طرح ہی ملک کے شہری ہیں یا نہیں۔ سوشل میڈیا پوسٹس اس طرح کی شکایات سے بھری ہوئی تھیں: اگر عمران خان کا تعلق چھوٹے صوبے سے ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا ان کے ساتھ اسی طرح کا ترجیحی سلوک کیا جاتا؟ اس بات پر غور کیا جائے کہ ایک منتخب رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو صرف اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کا نام لینے اور ان کے ادارے کی ناقص پالیسیوں پر تنقید کرنے کے جرم میں دو سال سے زائد عرصے تک کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔

چوتھا مرکزی دھارے کے نیوز میڈیا کا کردار جس نے زمان پارک کے تصادم کو ایک ویڈیو گیم کے طور پر پیش کیا اور عوام کو یہ بتائے بغیر سنسنی خیز رپورٹنگ جاری رکھی کہ عدالتی وارنٹ خواہ کتنا ہی متنازعہ کیوں نہ ہو، اس کی تعمیل لازمی ہوتی ہے۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ نظریات کے بغیر مزاحمت کے عمل کے طور پر اور مذہبی یا سیکولر فرقوں کی خدمت کے طور پر پولیس اہلکاروں کو مارنا پیٹنا 2017 میں ڈیپ سٹیٹ کی جانب سے کروائے جانے والے فیض آباد دھرنے کے بعد سے ایک معمول کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ فیض آباد دھرنے کے بعد سول اتھارٹی کو ہجوم کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا، جن ججوں نے اس دھرنے کا نوٹس لیا انہیں دھمکایا گیا۔ عمران خان اور ان کے حامی پچھلے کچھ دنوں سے جو کچھ کر رہے ہیں، مستقبل میں دوسرے سیاسی گروہوں کی جانب سے بھی ایسا ہی کیا جائے گا اور عمران خان کو خبردار کیا جانا چاہئیے کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آتے ہیں تو انہیں دوسروں کی جانب سے اسی قسم کے انحرافی رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مختصراً یہ کہ ریاستی رٹ کی اس ناکامی کی منصوبہ بندی بھی خود ریاستی اداکاروں ہی نے کی ہے۔ ناکام ریاستوں کے دیگر معاملات کے برعکس جہاں غیر ریاستی عناصر زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں، یا ریاست مکمل طور پر اپنی قانونی حیثیت کھو بیٹھتی ہے، یہاں ایک ایسا منظر نامہ ہے جہاں ریاستی اداروں کے اندر آپس کی لڑائی کے نتیجے میں انتشار سے ملتی جلتی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ شاذ و نادر ہی ریاستوں نے اپنی تباہی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اس طرح کے حالات پیدا کیے ہوں گے۔

یہاں تک کہ پی ٹی آئی کے عروج کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور دائیں بازو کی پاپولزم کا معاملہ بھی سنجیدگی سے غور طلب ہے۔ دوسرے ممالک کے برعکس جہاں پاپولسٹ رہنماؤں نے منظم سیاسی تحریکوں کے ذریعے سے اقتدار حاصل کیا، ہمارے ورژن کی کامیابی کا انحصار ڈیپ سٹیٹ کی کاوشوں اور آئی ایس آئی کے کم از کم چار سربراہوں پر ہے جنہوں نے بیانیہ بنانے، معروضی حالات ترتیب دینے اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنرل پاشا کی مدد کے بغیر کیا پی ٹی آئی کا 2011 کا لاہور میں ہونے والا ‘تاریخی’ جلسہ حالیہ تاریخ میں کبھی ایک اہم موڑ بن سکتا تھا؟ یا جنرل ظہیر الاسلام کے ‘اچھے دفاتر’ کے بغیر کیا 2014 کا دھرنا 126 دن تک جاری رہ سکتا تھا؟ یا سیاسی چیلنجز کو ختم کرنے میں جنرل فیض حمید کی مداخلت کے بغیر کیا عمران خان کو کبھی اقتدار کے لئے منتخب کیا جا سکتا تھا؟ 2022 میں ان کی برطرفی کے بعد بھی کچھ طاقتور اداکاروں کی خاموش حمایت کے بغیر کیا عمران خان بلا خوف و خطر عوام کو متحرک کرنے اور تفرقہ انگیز سیاست کو جاری رکھنے میں کامیاب ہو سکتے تھے؟

انصاف کی بات یہ ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے پہلے پروجیکٹ تھے اور نہ ہی آخری۔ اس سے قبل 1980 کی دہائی میں نواز شریف اور 1960 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پروان چڑھایا تھا۔ لیکن اس بار ان کا یہ جرات مندانہ تجربہ کہیں زیادہ کارآمد ثابت ہوا ہے کیونکہ عمران خان کی متوسط طبقے کے لیے اپیل انتہائی دلکش ہے اور اس اپیل کی گونج اب ریاست کے اہم ستونوں کی صفوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ سماجی طبقات جو غیر منتخب اداروں کو تشکیل دیتے ہیں، عمران خان کی جانب سے عوامی طور پر مذہبی علامتوں کی نمائشں، روایتی سیاسی اشرافیہ سے نفرت، ‘کرپشن’ کی نیو لبرل تعریف اور امریکہ سے دشمنی جیسے تمام اجزا سے مرعوب نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان گزشتہ حکمرانوں کے شدید دشمن ہیں۔ وہ بیک وقت ان کی پروڈکٹ بھی ہیں اور ان کے مخالف بھی۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان نے حالیہ آرمی چیف کو اپنی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ سابق فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کے کورٹ مارشل کے مطالبے کے بعد عمران خان نے اب اعصاب کی جنگ میں اپنا کھیل تیز کر دیا ہے۔ کیا اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص انہیں ڈھیل دے گا یا عمران خان سے کوئی مُک مُکا کرے گا یا اس لمحے کو ایسا مقام سمجھے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہے، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ عمران خان کا اپنی موجودہ حکمت عملی پر اعتماد کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔ حمایت پر مائل عدلیہ اور منقسم اسٹیبلشمنٹ، بدنام سیاسی حریفوں اور میڈیا کی منقسم حکمت عملی کی موجودگی میں عمران خان اقتدار میں واپسی کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر انہیں نااہل بھی قرار دے دیا جاتا ہے جس کے امکانات کافی زیادہ ہیں، اس کے باوجود جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو وہ ان میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پیدا کردہ بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ نظام کے کریش کر جانے کی تمام شرائط پوری ہوتی نظر آ رہی ہیں۔


رضا رومی کا یہ مضمون The Friday Times میں شائع ہوا جسے نیا دور اردو قارئین کے لئے ترجمہ کر کے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

Tags: آرمی چیفاسٹیبلشمنٹپروجیکٹ عمران خانپی ٹی آئیچیف جسٹسزمان پارکعدالتی ریلیفعدلیہعمران خانملٹری اسٹیبلشمنٹ
Previous Post

پیمرا نے آج کسی بھی قسم کی ریلی کی براہ راست، ریکارڈ کوریج پر پابندی لگا دی

Next Post

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

رضا رومی

رضا رومی

مصنّف نیا دور میڈیا کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ اس سے قبل وہ روزنامہ ڈیلی ٹائمز اور فرائڈے ٹائمز کے مدیر تھے۔ ایکسپریس اور کیپیٹل ٹی وی سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔

Related Posts

پختون سرزمین کو میدان جنگ بنانے والے لاہور میں صوفی محمد کے ایک ساتھی کی موجودگی پر گھبرا گئے

پختون سرزمین کو میدان جنگ بنانے والے لاہور میں صوفی محمد کے ایک ساتھی کی موجودگی پر گھبرا گئے

by طالعمند خان
مارچ 20, 2023
0

اگر لڑ نہیں سکتے تو لڑائی مول کیوں لیتے ہو؟ آج کل پنجابی اسٹیبلیشمنٹ اور اس کے سویلین اشرافیہ کے دو دھڑوں...

پاکستانی تارکین وطن عمران خان کو مسیحا مانتے ہیں

پاکستانی تارکین وطن عمران خان کو مسیحا مانتے ہیں

by ارسلان ملک
مارچ 21, 2023
0

حالیہ مہینوں میں میں نے امریکہ میں اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے ساتھ پاکستانی سیاست اور معیشت سے جڑی غیر یقینی صورت...

Load More
Next Post
معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تلاش کریں

No Result
View All Result

ایڈیٹر کی پسند

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

by شاہد میتلا
مارچ 22, 2023
1

...

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

by ہارون خواجہ
مارچ 18, 2023
1

...

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

by رضا رومی
مارچ 20, 2023
0

...

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

by مزمل سہروردی
مارچ 15, 2023
0

...

جنرل فیض حمید

نواز شریف کو نکالنے کے ‘پروجیکٹ’ میں باجوہ اور فیض کے علاوہ بھی جرنیل شامل تھے، اسد طور نے نام بتا دیے

by نیا دور
مارچ 14, 2023
0

...

Newsletter

ہماری مدد کریں

ٹویٹس - NayaDaur Urdu

نیا دور کے صفِ اوّل کے مصنفین

پیٹر جیکب
پیٹر جیکب
View Posts →
حسن مجتبیٰ
حسن مجتبیٰ
View Posts →
عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
View Posts →
نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
View Posts →
نبیلہ فیروز
نبیلہ فیروز
View Posts →
محمد شہزاد
محمد شہزاد
View Posts →
توصیف احمد خان
توصیف احمد خان
View Posts →
رفعت اللہ اورکزئی
رفعت اللہ اورکزئی
View Posts →
فوزیہ یزدانی
فوزیہ یزدانی
View Posts →
حسنین جمیل
حسنین جمیل
View Posts →
مرتضیٰ سولنگی
مرتضیٰ سولنگی
View Posts →
اسد علی طور
اسد علی طور
View Posts →
ادریس بابر
ادریس بابر
View Posts →
رضا رومی
رضا رومی
View Posts →
علی وارثی
علی وارثی
View Posts →

This message is only visible to admins.
Problem displaying Facebook posts.
Click to show error
Error: Server configuration issue

خبریں، تازہ خبریں

  • All
  • انٹرٹینمنٹ
  • سیاست
  • ثقافت
کم از کم اجرت 20 ہزار، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ: بجٹ 2021 پیش کر دیا گیا

اقتدار کے ایوانوں سے جلد کسی ‘بڑی چھٹی’ کا امکان ہے؟

اکتوبر 31, 2021
ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

اکتوبر 27, 2021
بد ترین کارکردگی پر الیکشن نہیں جیتا جاسکتا، صرف ای وی ایم کے ذریعے جیتا جاسکتا ہے

ای وی ایم اور انتخابات: ‘خان صاحب سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ لینے کے لیئے بے تاب ہیں’

اکتوبر 24, 2021

Naya Daur © All Rights Reserved

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English

Naya Daur © All Rights Reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In