• آن لائن اشتہاری ٹیرف
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • ہمارے لئے لکھیں
  • نیا دور انگریزی میں
پیر, مارچ 27, 2023
نیا دور
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
نیا دور
No Result
View All Result

ترقی پسند طلبہ کے مارچ کی کال پر لبیک

سلمان درّانی by سلمان درّانی
نومبر 18, 2019
in تجزیہ, تعلیم, جمہوریت, میگزین, نوجوان
2 0
0
ترقی پسند طلبہ کے مارچ کی کال پر لبیک
12
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

وہ لوگ جو کہ اس سسٹم سے متاثرہ ہیں ان سے نہیں بلکہ حکومت نے اپنے نئے پاکستان کے تعلیمی پلان میں بھی تعلیم کے دھندے پر خرچ کرنے والے ڈونرز اور این جی اوز کی ہی مدد طلب کی ہے۔ دھندا لفظ موقعے کی عین مناسبت سے ہی استعمال کیا گیا ہے اس پر بھی اطمینان رکھتے ہوئے آگے بڑھیے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر یہ طریقہ کار اتنا ہی کارآمد ہے تو اب تک ہم آکسفورڈ اور کیمبرج کے معیار تک بھی کیوں نہ پہنچ گئے۔ معلوم رہے کہ آکسفورڈ اور کیمبریج کو تعلیمی معیار ماپنے کا میرا حتمی خیال خود پہ سوار نہ کیجیے گا، یہ بحث ہم کسی اور دن کے لئے رکھ لیتے ہیں۔ فی الحال اژدھا بن جانے والے تعلیمی سسٹم پر ایک نظر جو ایک کے بعد ایک طالبعلم کو نگلے ہی جا رہا ہے۔۔ اس نکتے پر ہمیں اس تضاد کو سمجھنا ہے جو دراصل پالیسی بنانے والوں اور اس پالیسی کی زد میں آنے والوں کے بیچ کا تضاد ہے۔

’میں اپنی موت کا ذمہ دار آپ ہوں‘

RelatedPosts

جنرل باجوہ کی توسیع؟ کابینہ کمیٹی کی آرمی ایکٹ میں ترمیم، ‘دوبارہ تقرر’ کی جگہ ‘برقرار’ لکھنے کی تجویز

حکومت پاک فوج اور افسر کے خلاف ہتک عزت پر قانونی کارروائی کرے: آئی ایس پی آر

Load More

رُشان فرُخ نے کچھ ہی روز پہلے لاہور کی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی چھت سے چھلانگ لگا کر خود کو ہلاک کر لیا۔ معاملہ خودکُشی کا تھا یا کسی حادثے کا نتیجہ، جس موضوع پر سبھی بات کر رہے ہیں یا دراصل معاملہ اس ذہنی دباؤ کا ہر صورت ہے، جس کا تعلق ہمارے ناقص تعلیمی نظام اور معاشرت سے ہے۔ فیصل آباد کے ادارے این ایف سی میں کیمیکل انجینئیرنگ کے طالبعلم سیف اللہ جمالی نے تو سب کو بتا کر عین یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے خود کو گولی ماری تھی۔ اس کے ہاتھ میں بھی ایک پرچی ملی جس پر لکھا ہوا تھا کہ اس کی موت کا سوال کسی بھی شخص سے نہ کیا جائے، میں اپنی موت کا ذمہ دار آپ ہوں۔ سیف کا یہ لکھنا کیا ہمارے ان سوالوں کا جواب دیتا نظر نہیں آتا جس کا تعلق ذہنی انتشار بڑھاتے ہمارے تعلیمی دھندوں سے ہے؟ ان دونوں مثالوں نے ہمیں اس بات پر یکجا کرنے کی ہر ممکن کوشش تو کی ہے کہ مسئلے کا تعلق اس رسولی سے ہے جس کو کینسر بننا ہے یا تقریباً بن چکا ہے، جس کو ہم سر کا درد سمجھے بیٹھے ہیں اور کب سے غلط علاج کیے جا رہے ہیں۔

’ہم نجی تعلیمی اداروں پر ہاتھ کبھی بھول کر بھی نہیں ڈال سکتے‘

مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں ہے کہ حکومت اپنے نئے تعلیمی پلان میں صوبوں سے مکمل مشاورت کے ساتھ چل رہی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی پاکستان پر حکمرانی کے دور میں تعلیم کو لے کر کونسا مثالی کام ہوا جس کی مثال میں یہاں بخوشی پیش کروں؟ اس کی ہزار توجیہات بھی گھڑ لیں مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کراچی میں اس دھندے پر ہاتھ ڈالے جانے کا غلطی سے پچھلے دنوں بٹن دب گیا تھا جس کو سعید غنی کے بیان نے ری سٹور کر لیا کہ نہیں جناب ہم نجی تعلیمی اداروں پر ہاتھ کبھی بھول کر بھی نہیں ڈال سکتے، تمام سکول، کالج، یونیورسٹی مالکان بغیر فکر فاقہ اپنا دھندا قائم دائم، جاری و ساری رکھیں۔ دھندے کو چلانے میں مرکزی مدد جس کردار کی درکار ہوتی ہے وہ ہمارے معاشرے کی بڑی معصوم سی مخلوق ہے۔ میں اساتذہ ہی کی بات کر رہا ہوں جناب۔ ان اساتذہ کو بھی ملا لیں جو جوان طلبہ و طالبات سے جنسی حرکتیں کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں اور وہ بھی جو طلبہ کو دو جمع دو کا نتیجہ پانچ بتاتے ہیں۔ مالک کے کاروبار کے لئے قدرے زائد کا ذریعہ تو بنے ہی ہوئے ہیں نا۔ اب اس بات کا ادراک ان لوگوں تک کیسے ہو کہ دراصل استحصال تو ان کا بھی برابر ہو رہا ہے لیکن ذرا پینٹ کوٹ پہنا کر کیا جا رہا تو بس احساس زائل ہو جاتا ہے۔؎

اساتذہ ذرا بتائیں مالک ایک دن کی چھٹی کرنے پر کتنے روپے تنخواہ کاٹتا ہے

میں استاد نہیں ہوں، مگر یہ جانتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے مالکان اساتذہ کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ذرا بتائیے گا کہ مالک ایک دن کی چھٹی کرنے پر کتنے روپے تنخواہ کاٹتا ہے، یہ بھی کہ مالک آٹھ سے دس گھنٹے، کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ دیر دماغ کھپانے کے کتنے پیسے دیتا ہے؟ کیا پہلے ماہ کی تنخواہ آپ کو بخوشی مل جاتی ہے؟ کیا مالک آپ کی کبھی بھی کسی بھی جگہ سرزنش نہیں کرتا؟ چلیں ان سوالوں کو چھوڑیے، یہ بتائیے کہ آپ کی خود کی تعلیم کتنی ہے؟ آپ طلبہ کو کن قدروں پر جانچتے ہیں۔ امتحانات میں کچھ خاص طلبہ کے گریڈز کن بنیادوں پر بڑھا دیے جاتے ہیں۔ کیا امتحان کے روز آپ ہی نہیں ہوتے جو فیسوں کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو کمرہ امتحان سے باہر نکال دیتے ہیں اور ان کا اچھا خاصہ وقت ضائع کر کے واپس بھیج دیتے ہیں۔ اگر آپ کو میرے سوال بُرے لگ رہے ہیں تو چلیں کوئی اور بات کر لیتے ہیں۔

جعلی ڈگریاں بیچنے کا کھیل کھیلنے والوں کا دھندا اب تک بند کیوں نہ ہو سکا؟

ابھی تو یہ سوال بھی باقی ہے کہ ڈی جی خان کے انڈس انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کے ساتھ سالہا سال سے جعلی ڈگریاں بیچنے کا کھیل کھیلنے والوں کا دھندا اب تک بند کیوں نہ ہو سکا؟ مولوی عبدالکریم نامی شخص جو کہ پچھلی حکومت میں ن لیگ کا منتخب ایم این اے اور وزارت تعلیم میں طاقت رکھنے والا عہدیدار تھا، انڈس انسٹیٹیوٹ کے نام پر دھندا کرنے پر، طلبہ کی زندگیاں تباہ کرنے پر اب تک کسی کی عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا؟ نئے پاکستان کو بنے ہوئے سو دن ہو چلے۔ لاہور میں PIMSAT انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے کے طلبہ بھی جعلی ڈگریوں کے کھیل کا نشانہ بنے اور عرصہ دراز سے عدالتوں کی خاک چھان رہے ہیں، مگر انصاف کو ابھی شاید مزید کئی سال درکار ہیں۔ ان تمام مسائل کا ہم طلبہ کی زندگیوں سے براہ راست تعلق ہے جن سے دھیان ہٹا کر آج تک ہماری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر ہمیں مسلسل لوٹا جا رہا ہے۔

طلبہ کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کو دائیں دکھا کر بائیں جانب سے مارا جا رہا ہے

یہ بات بھی شامل بحث ہو کہ پچھلے دنوں این سی اے راولپنڈی اور لاہور کے طلبہ نے اپنے اپنے کیمپسز کو بند کر دیا تھا، وجہ یہ تھی کہ دوسرے شہروں سے آئے طلبہ فیسز کے ڈبل کردیے جانے اور تعلیم کے گرتے معیار سمیت ہوسٹل کے مسائل سے دوچار تھے۔ اس آواز کو خاموشی میں بدلنے میں بھی چند ہی دن لگے ہونگے۔ آج ان مسائل پر کوئی آواز بلند کرنے پر آمادہ کیوں نہیں؟ کیا واقعی وہ مسائل سب کے سب حل کر دیے گئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو میں این سی اے کے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، اگر نہیں تو خاموشی کی وجہ واضح کر دی جائے۔ دراصل میں خود بھی ایک یونیورسٹی سے اب بھی وابستہ ہوں۔ بھاری فیسیں ادا کرنے کے بعد بھی طلبہ کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کو دائیں دکھا کر بائیں جانب سے مارا جا رہا ہے۔ ایک بھی ایسا استاد نہیں کہ جسے صحیح معنوں میں پڑھانے کا منصب دیا جانا چاہیے، مگر کیا ہے دھندا ہے، تو اس کو چلانا ہے، گزارے کے لائق لوگوں کو بھرتی کر لیا جاتا ہے کہ جن سے بزنس میں یقینی فائدہ ہو، تعلیمی معیار گیا بھاڑ میں۔

پچھلے سال میں نے ان اداروں کے اس کانفلکٹ کو مینیج کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔ یہ لوگ طلبہ کو فیسوں کی عدم ادائیگی، یونیفارم اور مختلف انتہائی فضول قسم کے رولز سے ڈرائے رکھتے ہیں تاکہ طلبہ میں سے کسی ایک کی بھی آواز نہ نکلے، یہ سوچنا تو محال کہ ان کا استحصال جما کے ہو رہی ہے۔

بچوں کے دماغوں کو بنانے والے مخصوص اساتذہ کو لگایا جاتا ہے کہ بچہ آزاد سوچنے کی خواہش چھوڑ دے

کامریڈ عمار علی جان کو پنجاب یونیورسٹی سے نکالے جانا سوچنے پر پابندی کی ایک بڑی بدصورت مثال ہے۔ میری یونیورسٹی میں تو سوچ پر کنٹرول کرنے کا بہت ہی کمال منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جس پر یونیورسٹی والے کاربند ہیں۔ پہلے تین سمسٹر میں بچوں کے دماغوں کو بنانے والے مخصوص اساتذہ کو لگایا جاتا ہے کہ بچہ آزاد سوچنے کی خواہش چھوڑ کر ایک مخصوص رُخ اختیار کر لے جہاں سے ہر طرح کی سوچ کی تحریک کو ہتھکڑی لگ جائے۔ ان اساتذہ کی اپنی قابلیت پر وہ خود کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے یہ سب پڑھا ہی نہیں جو ہم آپ کو پڑھا رہے ہیں، لیکن بچوں اور ان کے والدین کے دماغوں سے کھیلنا خوب آتا ہے۔ مسئلہ تب پیش آیا جب مجھ جیسے ایک دو سر پھروں نے سوال اٹھانے کی روایت پر کپڑا مارا۔ یونیورسٹی میں ایک بھونچال سا مچ گیا جس کو قابو میں لانے کے لئے ان کو سافٹ اپروچ اپنانی پڑی اور طلبہ کو کھیلوں کا ہفتہ، یونیورسٹی ٹرپ جیسی سرگرمیوں میں مصروف کر دیا گیا۔

تو یہ سوال 30 نومبر کو اٹھائے جائیں گے

یہی وہ سوال ہیں جو ترقی پسند طلبہ ہر فورم پر اٹھاتے ہیں۔ اس بار وہی طلبہ یکجا ہو کر 30 نومبر کو ملک بھر میں طلبہ اور اساتذہ کو مارچ کی کال دے رہے ہیں، ایک انتہائی مؤثر اقدام جو بحث کے اصل رُخ کو مزید عام کر سکتا ہے۔ اس قدر گھٹن زدہ ماحول میں تمام تنظیموں بشمول پروگریسو طلبہ کولیکٹیو، آر ایس ایف، پی وائے اے، عوامی ورکرز پارٹی اور دیگر کے گٹھ جوڑ اور ان کی کاوشوں کو سلام ہے۔

سرمایہ داری نظام کا ایک اور کمال یہ ہے کہ وہ چور بھی ہے اور الٹا کوتوال کو بھی ڈانٹے ہے۔ استحصال کی راہ قائم رکھنے کے لئے ایک طرف یہ بات کی جاتی ہے کہ نوجوان ہی قوم کا اثاثہ ہیں، ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ وہیں محرومیوں کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے اسباب کچھ اس طرح ذہنوں میں ڈالے جاتے ہیں کہ نوجوان محنت نہیں کرتے، ان میں وہ بنیادی شعور ہی نہیں ہے جس کی قوم کو ضرورت ہے، انہیں اپنے ہی مسائل سے آگاہی نہیں ہے۔ میں اس بات کا قائل نہیں ہو سکتا کہ مسائل جن لوگوں یا جس طبقے سے جُڑے ہوتے ہیں ان کو اس کا ادراک نہیں ہوتا۔ انہیں ہی تو اپنے مسائل کا اصل ادراک ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات پر بالکل شک نہیں ہونا چاہیے کہ طلبہ اور اساتذہ کو اور اس ملک کے ہر پسے ہوئے طبقے کو ان کے مسائل کا ادراک نہیں ہے۔ مگر ان زنجیروں کو توڑنے اور خود سے الگ کرنے کی ہمت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ کب تک این جی اوز اور چند سرمایہ داروں کو ملا کر ہم پر اس بات کو تھوپا جائے گا کہ فلاں سیٹھ اس لئے ایک اچھا آدمی ہے کہ اس نے ملک میں تعلیم کا جال بچھایا۔ تعلیم کے دھندے کا جال ضرور بچھایا جس کے بعد پرائیویٹ سکولوں کو دھندا کامیاب کرنے کے نئے نئے طریقے ضرور ملے، یقین مانیں ان صاحبان کے تعلیمی دھندے کے جال کا گراف تو اوپر گیا ہے مگر ملک میں تعلیمی معیار کا گراف تیزی سے نیچے کی جانب ہی جا رہا ہے۔ اس ماحول میں ہمارے یہاں خادم رضوی صاحب کے پیروکار ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور ان کی پیداوار سرمایہ داری کوکھ سے ہی تب تک جاری رہے گی جب تک ہم صحیح بنیادوں پر سوچنا شروع نہیں کرتے۔ سوچ پر لگی ان زنجیروں کا ٹوٹنا اس ملک کی خوشحالی کی واحد ضمانت ہے۔ اور یہ کوئی لبرل ایجنڈا نہیں۔ اس لبرلزم کا ہم نے اچار ہی ڈالنا ہے جو خود سرمائے کی جھولی میں بیٹھ کر سیکولرزم کے خواب دیکھتی ہو۔ میں ترقی پسند طلبہ تنظیم کی مارچ کی کال پر لبیک کہتا ہوں، آپ بھی ضرور آئیے گا۔۔

Tags: سلمان درانیطلبہ کے مسائلطلبہ مارچطلبہ مارچ 30 نومبرنیا دور
Previous Post

اروندھتی رائے بنام شاہد العالَم: ’یہ پست ذہنیت ایک دن نیست و نابود ہو جائے گی‘

Next Post

تحریک انصاف کے پہلے سو دنوں کی کارکردگی کی جھلکیاں اور مسلم لیگ نواز کے پہلے سو دنوں سے موازنہ

سلمان درّانی

سلمان درّانی

سلمان درانی لاہور میں مقیم صحافی ہیں۔ بیشتر قومی اخبارات، اور آن لائن آؤٹ لیٹس پر رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا ٹویٹر ہینڈل @durraniviews ہے۔

Related Posts

پی ٹی آئی والوں کو تشدد اور ناانصافی تبھی نظر آتی ہے جب ان کے اپنے ساتھ ہو

پی ٹی آئی والوں کو تشدد اور ناانصافی تبھی نظر آتی ہے جب ان کے اپنے ساتھ ہو

by ایمان زینب مزاری
مارچ 25, 2023
0

یہ اُس کے لیے بھی جواب ہے جو ہر پارٹی سے ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہوا اور آج شاہ...

احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو انسان زندہ لاش بن کے رہ جاتا ہے

احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو انسان زندہ لاش بن کے رہ جاتا ہے

by اے وسیم خٹک
مارچ 25, 2023
0

نجانے کبھی کبھار مجھے کیوں یہ لگتا ہے کہ ہم مر گئے ہیں اور یہ جو اس جہاں میں ہماری شبیہ لے...

Load More
Next Post
نیا پاکستان میں خوش آمدید: وزیر اعظم کی کفایت شعاری کی مہم سے سالانہ دس ارب روپے کی بچت ہوگی

تحریک انصاف کے پہلے سو دنوں کی کارکردگی کی جھلکیاں اور مسلم لیگ نواز کے پہلے سو دنوں سے موازنہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تلاش کریں

No Result
View All Result

ایڈیٹر کی پسند

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

by شاہد میتلا
مارچ 22, 2023
1

...

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

by ہارون خواجہ
مارچ 18, 2023
1

...

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

by رضا رومی
مارچ 20, 2023
0

...

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

by مزمل سہروردی
مارچ 15, 2023
1

...

جنرل فیض حمید

نواز شریف کو نکالنے کے ‘پروجیکٹ’ میں باجوہ اور فیض کے علاوہ بھی جرنیل شامل تھے، اسد طور نے نام بتا دیے

by نیا دور
مارچ 14, 2023
0

...

Newsletter

ہماری مدد کریں

ٹویٹس - NayaDaur Urdu

نیا دور کے صفِ اوّل کے مصنفین

پیٹر جیکب
پیٹر جیکب
View Posts →
حسن مجتبیٰ
حسن مجتبیٰ
View Posts →
عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
View Posts →
نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
View Posts →
نبیلہ فیروز
نبیلہ فیروز
View Posts →
محمد شہزاد
محمد شہزاد
View Posts →
توصیف احمد خان
توصیف احمد خان
View Posts →
رفعت اللہ اورکزئی
رفعت اللہ اورکزئی
View Posts →
فوزیہ یزدانی
فوزیہ یزدانی
View Posts →
حسنین جمیل
حسنین جمیل
View Posts →
مرتضیٰ سولنگی
مرتضیٰ سولنگی
View Posts →
اسد علی طور
اسد علی طور
View Posts →
ادریس بابر
ادریس بابر
View Posts →
رضا رومی
رضا رومی
View Posts →
علی وارثی
علی وارثی
View Posts →

This message is only visible to admins.
Problem displaying Facebook posts.
Click to show error
Error: Server configuration issue

خبریں، تازہ خبریں

  • All
  • انٹرٹینمنٹ
  • سیاست
  • ثقافت
کم از کم اجرت 20 ہزار، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ: بجٹ 2021 پیش کر دیا گیا

اقتدار کے ایوانوں سے جلد کسی ‘بڑی چھٹی’ کا امکان ہے؟

اکتوبر 31, 2021
ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

اکتوبر 27, 2021
بد ترین کارکردگی پر الیکشن نہیں جیتا جاسکتا، صرف ای وی ایم کے ذریعے جیتا جاسکتا ہے

ای وی ایم اور انتخابات: ‘خان صاحب سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ لینے کے لیئے بے تاب ہیں’

اکتوبر 24, 2021

Naya Daur © All Rights Reserved

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English

Naya Daur © All Rights Reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In