• آن لائن اشتہاری ٹیرف
  • رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
  • ہمارے لئے لکھیں
  • نیا دور انگریزی میں
اتوار, مارچ 26, 2023
نیا دور
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English
No Result
View All Result
نیا دور
No Result
View All Result

امریکی صدر کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور حکومتِ پاکستان کا بہترین ردِعمل

امریکی صدر ماضی قریب میں سعودی قیادت خصوصاً شاہ سلمان کے بارے میں انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر سفارتی زبان استعمال کر چکے ہیں۔

کامران جیمز by کامران جیمز
اکتوبر 22, 2022
in تجزیہ
10 0
0
Joe Biden
12
SHARES
55
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

قیام پاکستان کے فوراً بعد سے ہی وطن عزیز پاکستان کو کئی داخلی و خارجی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام بحرانوں میں سے بڑا بحران ملکی سلامتی، دفاعِ آزادی و خود مختاری کا تحفظ تھا۔ بھارت نے پہلے دن سے ہی پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد دفاعی امور کے ماہرین اور خارجہ پالیسی سازوں نے کمیونسٹ بلاک کی بجائے امریکہ اور یورپ کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ ان عملی اقدامات میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب خان نواب زادہ لیاقت علی خان کا دورہ امریکہ نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ امید واثق تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور دیرپا رشتوں پر مبنی ہوں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان سینٹو CENTO اور متعدد امریکی دفاعی معاہدوں میں بھی شامل رہا۔

یقیناً ان معاہدوں کا مقصد دفاعی اور غیر دفاعی امداد کا حصول تھا۔ ان معاہدوں کی بدولت ہی پاکستان دفاع کے علاوہ دوسرے کئی شعبوں مثلاً تعلیمی، سماجی، انفراسٹرکچر کے سلسلے میں امریکی امداد کے حصول میں کامیاب رہا۔ لیکن ان معاہدوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں مریکی اثر و نفوذ بھی بڑھتا چلا گیا اور پاکستان کی دفاعی پوزیشن بھی قدرے بہتر رہی۔ اسی دور میں پاکستان نے امریکہ کے علاوہ مشرق وسطیٰ، کمیونسٹ ممالک خصوصاً چین اور غیر وابستہ ممالک کی تحریک میں شامل ممالک اور دیگر یورپی ممالک کے سے بھی تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن عالمی و علاقی حالات و وقعات میں متعدد تبدیلیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔

RelatedPosts

مشرقِ وسطیٰ کیلئے امریکی خارجہ پالیسی اور مجوزہ نئی دفاعی حکمتِ عملی

امریکا کا یوم آزادی

Load More

1962 کی چین بھارت جنگ میں ایوب خان نے امریکی دباؤ کو اس وقت مسترد کر دیا جب امریکی انتظامیہ نے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بھارت کو مشرقی پاکستان کا راستہ دیا جائے تاکہ بھارتی افواج چین کے خلاف مہم جوئی کر سکیں۔ ایوب خان کے اس انکار کے بعد چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا ایک نیا خوبصورت دور شروع ہوا۔ پاکستان کے کئی حکمرانوں بشمول ایوب خان نے بھی امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلقات کو ترجیح دی۔ ایوب خان اپنی کتاب  (Friends Not Masters)کے مطابق امریکہ کی پاکستان کے لئے فوجی امداد کی بندش اور بعد میں متعدد پابندیوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سر د مہری دیکھنے کو ملی کیونکہ امریکہ کسی طور پر بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان امریکی اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال کرے۔

1979 میں روسی افواج کی افغانستان میں مداخلت سے ایک بار پھر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ روس افغان جنگ کے بعد پھر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں طویل سرد مہری دیکھنے کو ملی۔ 9/11 کے بعد پھر دہشت گردی کے خلاف عالی جنگ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور سفارتی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن پھر اچانک افغانستان سے امریکہ کی روانگی سے پیدا ہونے والی صورتحال اور عبرتناک شکست کا ذمہ دار بھی امریکہ نے اپنے اتحادی پاکستان کو ہی قرار دیا اور مسلسل ڈومور Do More  کے نعرے لگا تا رہا۔

شاید امریکہ خارجہ پالیسی سازیہ نہیں جانتے کہ بہادر اور غیور افغان قوم نے کبھی بھی کسی بھی سامراج اور بیرونی طاقت اور مداخلت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ امریکی پالیسی سازوں کو اس خطے کی تاریخ کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب امریکی خارجہ پالیسی ساز دراصل جنوبی ایشیا میں بھارت کو علاقے کے تھانیدار کا کردار دینا چاہتے ہیں۔ اور چین کے علاقائی اثر و نفوذ کو کم کرنے کے لئے بھارت کے ایٹمی دھماکوں پر بھی صاف اور واضح موقف دینے سے گریزاں رہے ہیں جب کہ امریکی انتظامیہ نے 1998 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف حکومت پر بھی دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا کہ وہ امداد کے بدلے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے نہ کریں۔ لیکن اس وقت کی عسکری و سول قیات نے امریی ڈالر پر ملک کی سالمیت، وقار اور خود مختاری کو فوقیت دی۔

پاکستان کی عسکری وسول انتظامیہ پہلے دن سے ہی امریکی عہدے داروں کو یقین دلاتی رہی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی وقت اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم عالمی معیار کے عین مطابق ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی۔ موجودہ پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ اور ذمہدارانہ ردعمل دیا ہے جو انتہائی قابل ستائش ہے۔ حکومت وقت نے فوری طور پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ پیش کر کے اسے شید تحفظات کا اظہار کیا۔

اگر تاریخ کے اوراق کو چھانا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں متعدد یورپی اقوام ہی تگ و دو کرتی رہی ہیں اور متعدد ایٹمی تجربات اور حادثات بھی یورپ کی سر زمین پر ہی واقع ہوئے ہیں۔ آج دینا کے امن کو خطرہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ماضی میں امریکہ کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی فیصلوں سے ہوا ہے جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور لاکھوں معصوم افراد ہمیشہ کے لئے لقمہ اجل بن گئے۔ آج دنیا کو خطرہ بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی سے ہے جہاں لاکھوں بے گناہ کشمیری اور فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

آج دنیا کو خطرہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں یا پیشگی حملہ کی پالیسی سے نہیں ہے بلکہ آج پوری دنیا پاکستان کی عالمی امن اور علاقائی امن و ترقی وخوشحالی کی معترف ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں افواج پاکستان نے اقوام متحدہ امن جشن کے تحت قیام امن کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ دراصل دنیا میں امن، سلامتی، خوشحالی کے لئے پاکستان کا کردار ہمیشہ اہم اور موثر رہا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی انتظامیہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے عملی اقدامات کرے اور امریکی صدر اور اعلیٰ قیادت آئندہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب کرے۔ پاکستانی عوام مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کے لئے امریکی حکومت امریکی عوام اور امریکی انتظامیہ کے مشکور ہیں۔ لیکن ابھی ان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر ماضی قریب میں سعودی قیادت خصوصاً شاہ سلمان کے بارے میں انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر سفارتی زبان استعمال کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر کے ناصرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ پاک امریکہ تعلقات کو خراب کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی سازوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی اہم ہے اور پاکستانی عوام کسی بھی صورت میں بھارت کی روایتی و غیر روایتی ہتھیاروں کی برتری برداشت نہیں کریں گے۔

Tags: Joe Bidenبائیڈنپاکستان ایٹمی پروگرام
Previous Post

جنرل ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف کو بلیک لسٹ میں شامل کرتا ہوں، جسٹس قاضی فیض عیسیٰ

Next Post

پاکستانی جیلوں میں ایک علیحدہ سلطنت قائم ہے

کامران جیمز

کامران جیمز

Related Posts

پی ٹی آئی والوں کو تشدد اور ناانصافی تبھی نظر آتی ہے جب ان کے اپنے ساتھ ہو

پی ٹی آئی والوں کو تشدد اور ناانصافی تبھی نظر آتی ہے جب ان کے اپنے ساتھ ہو

by ایمان زینب مزاری
مارچ 25, 2023
0

یہ اُس کے لیے بھی جواب ہے جو ہر پارٹی سے ہو کر پی ٹی آئی میں شامل ہوا اور آج شاہ...

عوام قدم بڑھائیں تو عاصم منیر کا کنواں، پیچھے ہٹیں تو عمران خان کی کھائی ہے

عوام قدم بڑھائیں تو عاصم منیر کا کنواں، پیچھے ہٹیں تو عمران خان کی کھائی ہے

by عبید پاشا
مارچ 24, 2023
0

کئی برس پہلے عمران خان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ یہ دعویٰ کرتے سنائی دے رہے تھے کہ...

Load More
Next Post
Pakistani Jails

پاکستانی جیلوں میں ایک علیحدہ سلطنت قائم ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تلاش کریں

No Result
View All Result

ایڈیٹر کی پسند

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

ہائبرڈ دور میں صحافت پر حملے؛ ذمہ دار عمران خان یا جنرل باجوہ؟ (پارٹ 1)

by شاہد میتلا
مارچ 22, 2023
1

...

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

معاشی لحاظ سے پاکستان کس طرح خود انحصاری حاصل کر سکتا ہے؟

by ہارون خواجہ
مارچ 18, 2023
1

...

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری کھیل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا؟

by رضا رومی
مارچ 20, 2023
0

...

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

توشہ خانہ فہرست شریف خاندان میں دراڑ نہیں، شاہد خاقان کی علیحدگی کا اعلان ہے

by مزمل سہروردی
مارچ 15, 2023
1

...

جنرل فیض حمید

نواز شریف کو نکالنے کے ‘پروجیکٹ’ میں باجوہ اور فیض کے علاوہ بھی جرنیل شامل تھے، اسد طور نے نام بتا دیے

by نیا دور
مارچ 14, 2023
0

...

Newsletter

ہماری مدد کریں

ٹویٹس - NayaDaur Urdu

نیا دور کے صفِ اوّل کے مصنفین

پیٹر جیکب
پیٹر جیکب
View Posts →
حسن مجتبیٰ
حسن مجتبیٰ
View Posts →
عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
View Posts →
نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
View Posts →
نبیلہ فیروز
نبیلہ فیروز
View Posts →
محمد شہزاد
محمد شہزاد
View Posts →
توصیف احمد خان
توصیف احمد خان
View Posts →
رفعت اللہ اورکزئی
رفعت اللہ اورکزئی
View Posts →
فوزیہ یزدانی
فوزیہ یزدانی
View Posts →
حسنین جمیل
حسنین جمیل
View Posts →
مرتضیٰ سولنگی
مرتضیٰ سولنگی
View Posts →
اسد علی طور
اسد علی طور
View Posts →
ادریس بابر
ادریس بابر
View Posts →
رضا رومی
رضا رومی
View Posts →
علی وارثی
علی وارثی
View Posts →

This message is only visible to admins.
Problem displaying Facebook posts.
Click to show error
Error: Server configuration issue

خبریں، تازہ خبریں

  • All
  • انٹرٹینمنٹ
  • سیاست
  • ثقافت
کم از کم اجرت 20 ہزار، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ: بجٹ 2021 پیش کر دیا گیا

اقتدار کے ایوانوں سے جلد کسی ‘بڑی چھٹی’ کا امکان ہے؟

اکتوبر 31, 2021
ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

ہمیں نفرت اور مذہب کے بیوپاریوں کی نہیں، دھانی اور دھونی جیسے ہیروز کی ضرورت ہے

اکتوبر 27, 2021
بد ترین کارکردگی پر الیکشن نہیں جیتا جاسکتا، صرف ای وی ایم کے ذریعے جیتا جاسکتا ہے

ای وی ایم اور انتخابات: ‘خان صاحب سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ لینے کے لیئے بے تاب ہیں’

اکتوبر 24, 2021

Naya Daur © All Rights Reserved

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
  • ویڈیوز
  • تجزیہ
  • فیچر
  • میگزین
  • عوام کی آواز
  • Click here for English

Naya Daur © All Rights Reserved

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In