ان کا کہنا تھا کہ 6 ماہ کی مدت کافی ہے، پارلیمنٹ جب ایکسٹینشن کا فیصلہ کرے اس وقت یہ حکومت نہیں ہو گی اور نہ عمران خان وزیراعظم ہونگے۔
https://urdu.nayadaur.tv/uploads/digital_news/2019-12-03/WhatsApp-Video-2019-12-03-at-4.16.22-PM.mp4
سینیٹر مشاہد اللہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی آئی اے کے منافع میں جانے کی خبریں اگر درست ہیں تو حکومت اپنے اکاوئنٹس کی تفصیلات جمع کرائے تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو جلد اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ تیار کرے گی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتے حکومت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں لکھا ہے کہ اگرچہ آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے لیکن عدالت اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔