سر ظفر اللہ خان، احمدیہ جماعت اور قراردادِ لاہور کی کہانی

ابتدائی طور پر احمدی جماعت مسلم لیگ کی حمایت کے بجائے پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کے ساتھ رہنے کی خواہش رکھتی تھی۔ لیکن سر ظفر اللہ خان کے قائد اعظم محمد علی جناح سے قریبی تعلقات تھے۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا اور 1945 کے انتخابات میں احمدیہ جماعت کے دونوں دھڑوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی۔

09:54 PM, 5 Aug, 2026

محمد شہزاد

مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔


چھٹا وی لاگ: تقسیم ہند اور احمدیہ کمیونیٹی

خلاصہ: محمد شہزاد

مرزا غلام احمد قادیانی کا تعلق قادیان، ضلع گورداسپور کے ایک زمیندار خاندان سے تھا۔ جماعت احمدیہ کے سرکردہ رہنما سر ظفر اللہ خان ابتدا ہی سے مسلم لیگ کے قریب تھے اور مسلم لیگ کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ تاہم جماعت احمدیہ کے اندر ایک گہری تشویش موجود تھی۔ ان کا خدشہ تھا کہ اگر پاکستان کے قیام کے وقت گورداسپور اور قادیان پاکستان میں شامل ہو گئے تو نئی ریاست میں احمدیوں کا مستقبل کیا ہوگا، کیونکہ پاکستان کا مطالبہ ان علاقوں میں کیا جا رہا تھا جہاں احمدیہ جماعت کے خلاف جذبات بھی پائے جاتے تھے۔

مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد مولوی نور الدین جماعت کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔ وہ مرزا صاحب کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کے بعد مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ بنے، لیکن جماعت کے ایک گروہ نے ان کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی گروہ بعد میں لاہوری جماعت کے نام سے جانا گیا۔ لاہوری جماعت کا موقف تھا کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ وہ ایک مجدد اور مجتہد تھے۔ مرزا غلام احمد نے اپنے دور میں اسلام کے دفاع کے نام پر متعدد مناظروں میں حصہ لیا اور اپنے پیروکاروں میں ایک مضبوط مذہبی مقام حاصل کیا۔


یہ بھی پڑھیے: پانچواں ولاگ: کیا شیعہ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی؟


مرکزی احمدیہ جماعت کا مرکز قادیان میں قائم رہا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں انہیں ربوہ میں مرکز قائم کرنے کی اجازت ملی، جس کا نام بعد میں حکومت پاکستان نے تبدیل کر کے چناب نگر رکھ دیا۔ تاہم احمدی برادری طویل عرصے تک ربوہ کے نام کو ہی استعمال کرتی رہی۔

ابتدائی طور پر احمدی جماعت مسلم لیگ کی حمایت کے بجائے پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کے ساتھ رہنے کی خواہش رکھتی تھی۔ لیکن سر ظفر اللہ خان کے قائد اعظم محمد علی جناح سے قریبی تعلقات تھے۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا اور 1945 کے انتخابات میں احمدیہ جماعت کے دونوں دھڑوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی۔

جب پنجاب باؤنڈری کمیشن کا مرحلہ آیا تو احمدیوں کی طرف سے شیخ بشیر احمد نے موقف اختیار کیا کہ قادیان اور گورداسپور پاکستان میں شامل ہونے چاہئیں۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی، مجلس احرار اور خاکسار تحریک جیسے گروہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ مسلم لیگ کی جانب سے باؤنڈری کمیشن میں نمائندگی سر ظفر اللہ خان نے کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ کا مقدمہ بڑی قابلیت اور تیاری کے ساتھ پیش کیا۔ اس بات کی تصدیق احمد سید کرمانی، جو سنی مسلمان تھے، اور سید افضال حیدر، جو شیعہ مسلمان تھے، بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب سر ظفر اللہ خان کمیشن کے اجلاسوں میں جاتے تو وہ ان کی کتابیں اٹھا کر ان کے ساتھ جایا کرتے تھے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے بعد میں سر ظفر اللہ خان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بھی مقرر کیا۔ سر ظفر اللہ خان کا اپنا دعویٰ تھا کہ انہوں نے لاہور قرارداد کا مسودہ تیار کیا اور مسلم لیگ کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ تجویز دی کہ مسلم لیگ کو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاستوں پر مبنی مطالبہ پیش کرنا چاہیے۔ سر ظفر اللہ خان کے مطابق یہ تجویز وائسرائے ہند لارڈ لنلتھگو کے کہنے پر تیار کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دوسری جنگ عظیم کے دوران کانگریس برطانوی حکومت کی مخالفت کر رہی تھی، جب کہ مسلم لیگ نسبتاً تعاون کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھی، اور سر ظفر اللہ خان وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن، یعنی وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔

خان عبدالولی خان نے بھی اپنی تحریروں میں یہ دعویٰ کیا کہ لاہور قرارداد کا مسودہ سر ظفر اللہ خان نے تیار کیا تھا۔ تاہم اس بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ چوہدری خلیق الزمان کے اپنے دعوے ہیں، جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد قائد اعظم محمد علی جناح نے خود ممدوٹ ہاؤس میں بیٹھ کر تیار کی تھی۔ اس لئے لاہور قرارداد کی تیاری کا معاملہ تاریخ میں اب بھی بحث کا موضوع ہے۔

احمدیہ جماعت نے انتخابات میں حصہ لیا اور بعد ازاں پاکستان کے قیام کی حمایت میں سیاست کی۔ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ احمدیوں کے اندر ایک خوف موجود تھا۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ سیکولر ہندوستان میں ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی انہیں ایک مذہبی اقلیت بن جانے کا خدشہ تھا اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

تاہم آخرکار احمدیہ جماعت نے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہونے کو ترجیح دی، کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح مسلسل یہ کہتے رہے تھے کہ وہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں مذہب، فرقے اور عقیدے کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہ کیا جائے۔

مزیدخبریں