Get Alerts

کیا شیعہ مسلمانوں نے تحریکِ پاکستان کی حمایت کی تھی؟

بوہری برادری کے اندر رائے منقسم تھی؛ کچھ ہندوستان کے حق میں تھے اور کچھ تحریکِ پاکستان کے حامی۔ مجموعی طور پر شیعہ برادری میں یہ خدشہ موجود تھا کہ اگر پاکستان قائم ہوا تو وہ ایک سنی اکثریتی ریاست میں اقلیت بن جائیں گے، کیونکہ شیعہ سنی اختلافات کی ایک طویل تاریخی روایت موجود تھی۔ اس طرح پاکستان، سنستان بن جائے گا۔

کیا شیعہ مسلمانوں نے تحریکِ پاکستان کی حمایت کی تھی؟

مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔


پانچواں ولاگ: کیا شیعہ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی؟

برصغیر کے مسلمانوں میں شیعہ آبادی کا تناسب تقریباً دس سے بارہ فیصد تھا۔ ان میں سب سے بڑا گروہ اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کا تھا، اس کے بعد اسماعیلی شیعہ، جو آغا خان کے پیروکار تھے، جب کہ تیسرا بڑا گروہ بوہری شیعہ مسلمانوں کا تھا۔

تحریکِ پاکستان میں سر آغا خان کا کردار نہایت اہم تھا۔ ان کا خاندان، جو ایران سے ہجرت کر کے برصغیر آیا تھا، برطانوی حکومت کا حامی سمجھا جاتا تھا، اگرچہ برصغیر کے تمام اسماعیلی انہیں اپنا امام تسلیم نہیں کرتے تھے۔ تاہم جسٹس آرنلڈ کے ایک فیصلے نے ان کے امامت کے دعوے کی تائید کی۔

سر آغا خان نے 1918 میں اینگلو محمدن ایمپائر کا تصور پیش کیا، جس کے مطابق برطانوی قیادت میں ایران تک کے مسلمان اور ہندو ایک مشترکہ سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہوتے۔ تاہم ان کا سب سے نمایاں کردار 1906 کی شملہ کانفرنس میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ مسلم لیگ کی مالی معاونت بھی بڑی حد تک وہی کرتے رہے اور مختلف سیاسی کانفرنسوں میں مسلمانوں کے نمایاں رہنما رہے۔ اگرچہ 1934 میں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن ان کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔


چوتھے ولاگ کا خلاصہ یہاں پڑھیے: کیا تمام علما نے پاکستان کی مخالفت کی تھی؟ ایک تاریخی جائزہ


محمد علی جناح ایک اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوئے، لیکن بعد میں اثنا عشری شیعہ مسلک اختیار کر لیا۔ تاہم ایسا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں کہ انہوں نے کبھی شیعہ ماتمی رسومات میں حصہ لیا ہو۔ چونکہ تحریکِ پاکستان میں بریلوی مسلمانوں کا نمایاں کردار تھا، اس لئے جناح میلاد کی تقریبات میں بھی شریک ہوتے تھے۔

بوہری برادری کے اندر رائے منقسم تھی؛ کچھ ہندوستان کے حق میں تھے اور کچھ تحریکِ پاکستان کے حامی۔ مجموعی طور پر شیعہ برادری میں یہ خدشہ موجود تھا کہ اگر پاکستان قائم ہوا تو وہ ایک سنی اکثریتی ریاست میں اقلیت بن جائیں گے، کیونکہ شیعہ سنی اختلافات کی ایک طویل تاریخی روایت موجود تھی۔ اس طرح پاکستان، سنستان بن جائے گا۔

اسی تناظر میں دسمبر 1945 میں آل انڈیا شیعہ کانفرنس نے ایک قرارداد منظور کی جس میں قیام پاکستان کی مخالفت کی گئی۔ پروفیسر علی عثمان قاسمی کی کتاب Muslims Against the Muslim League میں ایک مضمون شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بعض شیعہ حلقوں کو خدشہ تھا کہ پاکستان سنستان بن جائے گا۔

دوسری جانب چونکہ مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح خود شیعہ تھے، اس لئے پنجاب اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے بہت سے شیعہ مسلمانوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی۔ ان کا خیال تھا کہ شیعہ قیادت کی موجودگی میں وہ پاکستان میں زیادہ محفوظ رہیں گے۔ سید خورشید عباس گردیزی، جو ملتان کے معروف گردیزی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، کے مطابق انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسی سوچ کی بنیاد پر 1945 اور 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کی۔

پروفیسر اشتیاق احمد کے مطابق 1945 اور 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے سب سے بڑے مالی معاون راجہ محمود آباد تھے، جو متحدہ صوبہ جات (یو پی) کے ایک بڑے زمیندار اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے۔

مجموعی طور پر پروفیسر اشتیاق احمد کی رائے یہ ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی اکثریت نے مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان کی حمایت کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن میں یہ خدشہ بھی موجود رہا کہ مستقبل کا پاکستان کہیں ایک ایسی ریاست نہ بن جائے جہاں شیعہ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں۔

آخر میں جناح کے مسلک کے بارے میں اختلافی آرا کا بھی ذکر کیا گیا۔ اکبر ایس احمد اور بعض دیگر مصنفین کا خیال ہے کہ زندگی کے آخری حصے میں جناح سنی مسلمان ہو گئے تھے، لیکن جناح کی وفات کے بعد ان کی بہن فاطمہ جناح نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کا خاندان اثنا عشری شیعہ ہے، اور اسی بنیاد پر وراثت کا دعویٰ کیا، جسے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے تسلیم کیا۔ اسی پس منظر میں جناح کی دو نمازِ جنازہ ادا کی گئیں: ایک سرکاری نمازِ جنازہ جس کی امامت مولانا شبیر احمد عثمانی نے کی، جب کہ دوسری نمازِ جنازہ فاطمہ جناح کے انتظام میں شیعہ طریقے کے مطابق ادا کی گئی۔

Contributor

محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم آزاد صحافی، محقق اور شاعر ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ طبلہ اور کلاسیکی موسیقی سیکھتے ہیں۔ کھانا پکانے کا جنون رکھتے ہیں۔ ان سے اس ای میل Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔