(مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔)
ساتواں وی لاگ: پاکستان یا متحدہ ہندوستان: احرار، خاکسار اور غلام احمد پرویز کی سیاسی کہانی
خلاصہ: محمد شہزاد
مجلس احرار اور خاکسار تحریک دونوں پنجاب سے اٹھنے والی اہم سیاسی تحریکیں تھیں، جنہوں نے بعد میں ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنا اثر قائم کیا۔ مجلس احرار 29 دسمبر 1909 کو لاہور میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی عطااللہ شاہ بخاری، جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، اور داؤد غزنوی، جو اہل حدیث مکتب فکر سے وابستہ تھے، تھے۔ مجلس میں ایسے بہت سے شدت پسند مسلمان بھی شامل ہوئے جو انگریز حکومت کے سخت مخالف تھے۔ ان میں چوہدری افضل حق، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، شیعہ عالم مظہر علی اظہر، پیر فضل حسن قادری، جو بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، اور مولانا ظفر علی خان شامل تھے، اگرچہ بعد میں مولانا ظفر علی خان نے مجلس سے علیحدگی اختیار کر لی۔
یہ تمام رہنما تحریک خلافت کے حامی تھے اور اس تحریک کی ناکامی کے بعد مجلس احرار میں شامل ہوئے۔ مجلس کی سیاسی بنیاد زیادہ تر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر تھی۔ چونکہ مجلس ابتدا ہی سے انگریز حکومت کے خلاف تھی، اس لئے اسے شروع سے ہی سرکاری عتاب کا سامنا رہا۔
مجلس احرار مختلف مذہبی مکاتب فکر کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتی تھی، لیکن اس کا سب سے بڑا مذہبی تنازع جماعت احمدیہ کے ساتھ تھا۔ مجلس نے ختم نبوت کی تحریک شروع کی اور یہی تحریک آگے چل کر اس کی سب سے بڑی وجہ شہرت بنی۔ تاہم سیاسی اعتبار سے مجلس احرار متحدہ ہندوستان کی حامی تھی۔ وہ کانگریس، خان عبدالغفار خان اور مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل مسلمانوں کی تقسیم ہوگی۔ ان کے نزدیک تقسیم نہ اسلام کے مفاد میں تھی اور نہ مسلمانوں کے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے سے برصغیر میں انگریزوں کے مفادات کو ایک نئی شکل میں تحفظ ملے گا اور جنوبی ایشیا میں ایک نئی نوآبادیاتی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔
1931 میں جب کشمیر کمیٹی قائم ہوئی تو اس میں جماعت احمدیہ کے بانی مرزا بشیر الدین محمود کو مسلمان رکن منتخب کیا گیا۔ اس انتخاب پر علامہ اقبال نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد اقبال کے جماعت احمدیہ کے خلاف متعدد بیانات بھی سامنے آئے۔ یوں اس دور میں مذہبی اور سیاسی اختلافات ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔
1945 میں جب انتخابات کی مہم شروع ہوئی تو مسلم لیگ نے صوفیوں اور بریلوی علما کو بھی سیاسی مہم میں متحرک کیا۔ اس دوران مذہبی نعروں اور فتووں کا بھرپور استعمال ہوا۔ پاکستان کے حق میں یہ نعرہ بھی مقبول کیا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ بعض مذہبی رہنماؤں کی طرف سے یہ فتوے بھی دیے گئے کہ جو مسلمان مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دے گا وہ کافر ہوگا، اس کا نکاح ختم ہو جائے گا اور اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھایا جائے گا۔ مجلس احرار مسلم لیگ کی سخت مخالف تھی اور اس نے محمد علی جناح کو کافر اعظم تک کہا۔
1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے شاندار کامیابی حاصل کی، خصوصاً مسلمانوں کے لئے مخصوص نشستوں پر۔ پنجاب میں کچھ نشستیں یونینسٹ جماعت کو بھی ملیں، جب کہ مجلس احرار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انتخابی ناکامی کے بعد مجلس کی سیاسی قوت پہلے جیسی نہ رہی۔
خاکسار تحریک 1931 میں لاہور میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی علامہ عنایت اللہ خان مشرقی تھے۔ علامہ مشرقی غیر معمولی طور پر تعلیم یافتہ شخص تھے۔ انہوں نے کیمبرج سے تعلیم حاصل کی اور ریاضی کے ماہر تھے۔ اس زمانے میں اٹلی میں مسولینی کی فسطائی تحریک اور جرمنی میں نازی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ علامہ مشرقی ان تحریکوں کے نظم و ضبط، تنظیم اور عسکری انداز سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اسی طرز پر خاکسار تحریک قائم کی۔
خاکسار تحریک کا اثر صرف لاہور تک محدود نہیں تھا۔ امرتسر اور پنجاب کے دوسرے علاقوں کے علاوہ متحدہ صوبوں اور بنگال تک اس کے حامی موجود تھے۔ یہ ایک منظم اور عسکری مزاج رکھنے والی مسلم تحریک تھی، لیکن اس کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ تھی کہ اس کی رکنیت غیر مسلموں کے لئے بھی کھلی تھی۔
23 مارچ 1940 کو جب قرارداد لاہور پیش کی گئی تو خاکسار تحریک نے اس کے خلاف ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس پر پولیس نے فائرنگ کی۔ سرکاری طور پر اس واقعے میں 32 افراد کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی، تاہم خاکسار تحریک کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اس واقعے کے بعد علامہ مشرقی اور خاکسار تحریک کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور جیل بھیجا گیا۔ چونکہ خاکسار تحریک بھی انگریز حکومت کی مخالف تھی، اس لئے اس کے رہنماؤں کو بار بار سرکاری کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
خاکسار تحریک مسلم لیگ کی بھی سخت مخالف تھی اور اس کا مؤقف تھا کہ مسلم لیگ دراصل انگریزوں کی حمایت یافتہ جماعت ہے۔ خاکسار تحریک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھی اور 1946 تک اس نے مسلم لیگ کی کھل کر مخالفت کی۔
یوں مجلس احرار اور خاکسار تحریک دونوں مسلم لیگ کی سیاست اور تقسیم ہند کے تصور کے مخالف تھیں، اگرچہ دونوں کی اپنی الگ مذہبی، سیاسی اور تنظیمی شناخت تھی۔ ایک طرف مجلس احرار مذہبی سیاست، ختم نبوت کی تحریک اور مسلم لیگ کی مخالفت کے باعث نمایاں ہوئی، تو دوسری طرف خاکسار تحریک نے نظم و ضبط، عسکری طرز تنظیم اور متحدہ ہندوستان کے تصور کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔
پاکستان کے قیام کے بعد علامہ مشرقی نے اسلام لیگ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی، لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔
غلام احمد پرویز کی ملاقات محمد علی جناح سے علامہ اقبال نے کروائی تھی۔ علامہ اقبال نے پاکستان کے قیام کی حمایت میں بہت سے مضامین بھی لکھے۔ تاہم غلام احمد پرویز کی جناح صاحب کے ساتھ کوئی ایسی تصویر ہمیں نہیں ملتی جس سے اس ملاقات کی کوئی تصویری شہادت سامنے آ سکے۔
غلام احمد پرویز بٹالہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ اور ان کے بھائی برطانوی حکومت کے محکمہ داخلہ میں ملازم تھے۔ یہ محکمہ داخلی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ایسی اطلاعات جمع کرنے کا کام بھی کرتا تھا جن سے برطانوی راج کو کسی ممکنہ سیاسی چیلنج سے آگاہ رکھا جا سکے۔ پرویز صاحب نے اسی ملازمت کے دوران ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نہایت ذہین اور پڑھے لکھے شخص تھے۔
جب 1940 میں مسلم لیگ نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کو اپنی سیاسی جدوجہد کا مرکز بنانا شروع کیا تو غلام احمد پرویز بھی مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ جناح صاحب کو پاکستان کے مطالبے کے لئے صرف سیاسی کارکنوں ہی نہیں بلکہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی بھی ضرورت تھی جو اس مطالبے کے حق میں فکری اور علمی دلائل پیش کر سکیں۔ غلام احمد پرویز اسی طبقے کے لوگوں میں شامل تھے جن کی علمی صلاحیتوں سے مسلم لیگ نے فائدہ اٹھایا۔
پاکستان بننے کے بعد بھی غلام احمد پرویز محکمہ داخلہ سے وابستہ رہے اور آخرکار اسی محکمے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا ذکر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب The Concept of An Islamic State in Pakistan میں بھی ملتا ہے۔ یہ کتاب دراصل ڈاکٹر اشتیاق احمد کے ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ تھا، جو 1985 میں شائع ہوا۔
غلام احمد پرویز کے مذہبی اور معاشی خیالات مولانا مودودی سے خاصے مختلف تھے۔ زمین کی ملکیت کے معاملے میں پرویز صاحب کا مؤقف تھا کہ زمین بنیادی طور پر اللہ کی ملکیت ہے اور اس پر کسی فرد کی لامحدود نجی ملکیت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس مولانا مودودی لا محدود نجی ملکیت کے قائل تھے۔ پرویز صاحب کا خیال تھا کہ زمین کو لوگوں میں انصاف کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس تصور کو اسلامی سوشلزم کے قریب قرار دیا جا سکتا ہے۔
مذہبی معاملات میں بھی پرویز صاحب کا نقطہ نظر روایتی علما سے مختلف تھا۔ وہ احادیث کو اسی صورت میں قبول کرتے تھے جب ان کے نزدیک وہ قرآن کے مطابق ہوں۔ اس وجہ سے ان کا حدیث کے بارے میں نقطہ نظر بھی روایتی مذہبی فکر سے مختلف تھا۔
ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد غلام احمد پرویز لاہور منتقل ہو گئے اور اپنی باقی زندگی علمی اور فکری کام میں گزاری۔