شیر افضل ایک وکیل اور سیاست کار ہیں۔ ان کی سیاسی آمد بڑے ہی دبنگ انداز میں ہوئی اور مقبولیت کی معراج پر چلے گئے، مگر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ جس تیزی سے مقبول ہوئے، اسی تیزی سے روبہ زوال بھی ہوئے۔ ایسا سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ عام طور پر سنیما اور کھلاڑی اس طرح یک دم مقبول اور روبہ زوال ہوتے ہیں، جیسے بولی وڈ میں کمار گورو اور راہول رائے ایک فلم کی کامیابی سے اسٹارز بن گئے، مگر پھر پے در پے ناکامیوں سے دوچار ہوئے۔ کرکٹ میں محمد زاہد، محمد آصف جیسے بولرز یک دم مقبول ہوئے اور پھر منظرنامے سے غائب ہو گئے۔
سیاست کا میدان مختلف ہوتا ہے۔ آپ کی پہچان دھیرے دھیرے بنتی ہے اور پھر آپ قومی منظرنامے پر معروف ہو جاتے ہیں اور دیر تک موجود رہتے ہیں، مگر شیر افضل مروت کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف زیرِ عتاب تھی، کوئی بھی قومی سطح کا رہنما موجود نہ تھا۔ ایسے میں ایک وکیل شیر افضل مروت، جو پابندِ سلاسل عمران خان کے ایک مقدمے کی پیروی کر رہا تھا، تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا ہے۔ پہلے خیبر پختونخوا، پھر سارے ملک میں جلوسوں کی قیادت کرتا ہے اور کارکنوں کا ہردلعزیز بن جاتا ہے۔ میڈیا پر تحریک انصاف کا چہرہ بن جاتا ہے۔
برطانیہ میں مقیم مجیر عادل، جو سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں، اس نے شیر افضل مروت کو مقتدرہ کا کارندہ سب سے پہلے کہنا شروع کیا تھا۔ تب ہم نے اس بات کو غلط قرار دیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ عادل راجہ صرف ورغلانے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ 8 فروری کے الیکشن میں شیر افضل مروت نے بڑی دلیری سے تحریک انصاف کی انتخابی مہم چلائی۔ ہم ہی سمجھتے رہے، یار یہ دلیر پٹھان بس جذباتی ہے، سوچے سمجھے بغیر بیان بازی کر دیتا ہے، جس سے غلط تاثر جاتا ہے، جیسے شیر افضل مروت نے محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے حوالے سے متنازع بیان دیا۔
مگر بعد میں جب عمران خان کا اعتماد بھی شیر افضل مروت نے کھو دیا اور عمران خان نے اس سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا اور پارٹی کی سرگرمیوں سے دور کر دیا، تب شیر افضل مروت نے ٹی وی اور اخبارات میں، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف اور عمران خان کی بہنوں کے خلاف بیان بازی شروع کر دی۔ یوں جو قبولیت اور مقبولیت ان کو ملی تھی، اس کا خاتمہ ہو گیا۔
شیر افضل مروت نے جب کے پی کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی، تب بلی تھیلے سے مکمل طور پر باہر آ گئی اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ شیر افضل مروت مقتدرہ کا بغل بچہ ہے۔ مبینہ طور پر سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست کے کرداروں میں علی امین گنڈاپور اور رانا ثنا اللہ گٹھ جوڑ بھی نظر آتا ہے۔
27 ستمبر سے ہونے والے لانگ مارچ سے چند دن قبل اس سماعت کا عدالت میں لگ جانا اس بات کو نوشتۂ دیوار لکھ دیا ہے کہ شیر افضل مروت کس کا آلۂ کار ہے اور سہیل آفریدی کو نااہل قرار دے کر علی امین گنڈاپور کو کیوں وزیرِ اعلیٰ بنوانا چاہتا ہے۔
سہیل آفریدی لانگ مارچ کے حوالے سے بہت متحرک ہیں، پرجوش خطابات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیر افضل مروت کو مخاطب کر کے جو لکھا ہے، وہ بہت ہی معنی خیز ہے۔ وہ شیر افضل مروت سے پوچھ رہے ہیں کہ جب تم یہ درخواست تیار کر رہے تھے، بتاؤ تمہارے دائیں اور بائیں کون بیٹھا تھا؟
شیر افضل مروت نے درحقیقت باہوبلی کے کٹپا کی طرح سہیل آفریدی کی پیٹھ میں تلوار گھونپ دی ہے۔ جب جب وہ اگلے محاذ پر عمران خان کی سیاسی جنگ لڑ رہا تھا، یہ شیر افضل مروت کا آخری خودکش حملہ ہے۔ تحریک انصاف پر اب وہ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ مقتدرہ کے کہنے پر تحریک انصاف کو ختم کرنے کے درپے ہے۔
سہیل آفریدی کو وہی مقبولیت مل چکی ہے جو کبھی شیر افضل مروت کے پاس تھی، سو حسد اور بغض نے شیر افضل مروت کو سیاسی طور پر رسوا اور اخلاقی طور پر قلاش کر دیا ہے۔
اس مختصر سے عرصے میں شیر افضل مروت نے پاکستانی سیاست میں ایسی بلندی، ایسی پستی دیکھ لی ہے، جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔