میں برسوں سے لکھ رہی ہوں، بول رہی ہوں، اپنے خیالات پبلک اسپیس میں رکھ رہی ہوں۔ میری کتابوں اور شائع شدہ تحریروں میں میرے سوشل میڈیا ہینڈلز موجود ہیں۔ لوگ مجھے ڈھونڈ سکتے ہیں، میرے مضامین پڑھ سکتے ہیں، میسج کر سکتے ہیں، اختلاف کر سکتے ہیں۔
میں نے یہ ہینڈلز کسی بینک لاکر میں چھپا کر نہیں رکھے۔
سو، رابطے کا امکان یقیناً موجود ہے۔ لیکن رابطے کا امکان اور ہر قسم کی رسائی کا حق، شاید ایک ہی چیز نہیں۔
کبھی کبھی میں ایک جواب بھیج کر گھبرا جاتی ہوں۔
جواب بھی کوئی انقلابی منشور نہیں ہوتا۔ نہ کوئی خفیہ راز، نہ کسی ریاست کا رازِ سربستہ۔ کبھی صرف دو سطریں: شکریہ۔ کبھی کسی سوال کا جواب۔ کبھی کسی اختلاف پر وضاحت۔ کبھی کسی ایسے پیغام کا جواب جسے پڑھ کر واقعی دل چاہا کہ اس شخص سے کہا جائے: اچھا، تم نے یہ بات دیکھی؟ دلچسپ ہے، میں نے اس زاویے سے نہیں سوچا تھا۔
لیکن سینڈ کا بٹن دبانے کے کچھ دیر بعد، میرے اندر ایک چھوٹی سی ڈرپوک بچی جاگ جاتی ہے۔
وہی بچی جس نے شاید کوئی معمولی سی شرارت کر دی ہو، یا کوئی معصوم سا ایڈونچر کر بیٹھی ہو، اور اب خاموشی سے ایک طرف کھڑی سوچ رہی ہو: اب کیا ہوگا؟
اگر میرے جواب کا مطلب کچھ اور نکال لیا گیا تو؟
اگر سامنے والا وہ نہ نکلا جو اس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے؟
اگر میں نے جسے انٹلیکچوئل گفتگو سمجھا، اسے کسی نے پرسنل دلچسپی سمجھ لیا؟
اگر ایک مختصر جواب کسی اور کے نزدیک ایک کھلا ہوا دروازہ بن گیا تو؟
اور پھر میں خود سے پوچھتی ہوں: آخر میں نے کیا کیا ہے؟
جواب ہی تو دیا ہے۔
مگر شاید ایک عورت کے لیے بعض اوقات مسئلہ جواب نہیں ہوتا۔ مسئلہ وہ دنیا ہوتی ہے جس میں جواب دیا گیا ہے۔
اور اگر عورت فیمنسٹ بھی ہو، صنفی تشدد اور ہراسگی کی مختلف شکلوں سے واقف بھی، اور اس کا غمِ روزگار بھی برسوں سے انہی موضوعات سے وابستہ رہا ہو، تو شاید اسے دوسروں سے کچھ زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔
یا شاید ہونا پڑتا ہے۔
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ اس قدر محتاط لوگ، خاص طور پر عورتیں، مکالمہ کہاں کریں؟
ادبی، صحافتی، ادارہ جاتی اور تنظیمی دنیا میں سیاست پر بات کرنا پہلے ہی لاحاصل نہیں تو بعض اوقات خطرناک ضرور ہو سکتا ہے۔ وہاں بھی لوگ ہیں، گروہ ہیں، پسند اور ناپسند ہیں، طاقت کے اپنے چھوٹے بڑے مراکز ہیں۔
کمیونیکیشن آخر دو طرفہ ہوتی ہے۔
یک طرفہ رہے تو پھر یا محبت رہ جاتی ہے، یا خود کلامی۔
تو کیا کسی رائٹر کی شائع شدہ تحریر پڑھ کر کسی قاری کا اسے ایک اَن سولیسٹڈ ریسپانس لکھنا اس کی پرائیویسی پر اسالٹ ہے؟
ژاں پال سارتر نے ایک تصور کا حوالہ دیا جسے عموماً پیکٹ آف جینروسٹی کہا جاتا ہے۔
سارتر—جس کی اپنی زندگی اور بعض رویّوں پر سنجیدہ اخلاقی اور فیمنسٹ سوال اٹھتے رہے ہیں—یہاں ایک دلچسپ نکتہ پیش کرتا ہے۔ مادام سیمون دی بوواغ بھی، فیمنزم کی تاریخ میں اپنی غیر معمولی اہمیت کے باوجود، کوئی سیدھی سادی اور بے مسئلہ فیمنسٹ شخصیت نہیں تھیں۔
ان دونوں کے تعلق کو پاکستانی اخلاقی عدسے سے جانچنا شروع کریں تو الگ داستان کھلتی ہے۔ پاکستانی یا دیسی اخلاقی پیمانے کو—جو اچھا خاصا منافقت کا گولڈ اسٹینڈرڈ بھی ہے—فی الحال ایک طرف آرام کرنے دیتے ہیں۔ ہاں، میں جانتی ہوں کہ اس کے باوجود ان کی زندگیوں اور بعض رویّوں میں اس کے بغیر بھی سوال کم نہیں۔
تاہم اگر صرف اس پیکٹ کے تصور کو دیکھا جائے تو خیال اپنی جگہ خوبصورت ہے۔
سارتر کے ہاں لکھنا اور پڑھنا دو الگ تھلگ عمل نہیں۔ رائٹر لکھتے ہیں، مگر ریڈر بھی محض الفاظ وصول نہیں کرتے۔ وہ اپنے تجربے، فہم اور تخیل کے ساتھ تحریر میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک معنی میں تحریر رائٹر اور ریڈر، دونوں کی شرکت سے دوبارہ زندہ ہوتی ہے، یا شاید امر ہو جاتی ہے۔
اور یہ صرف سارتر ہی کا سوال نہیں۔ ادب کی دنیا نے مختلف شکلوں میں طویل عرصے سے رائٹر اور ریڈر کے درمیان کسی نہ کسی خاموش معاہدے کا تصور قائم رکھا ہے: اعتماد کا، تخیل کا، معنی بنانے کا، اور بعض صورتوں میں سچائی کی توقع کا۔
لیکن مجھے یہاں ایک چھوٹی سی بات ذرا زیادہ ہی پریشان کرتی ہے۔
ان میں سے اکثر معاہدے رائٹر، تحریر اور ریڈر کے درمیان ہیں۔
آج ہمارے پاس ایک چوتھا کردار بھی آ گیا ہے:
ان باکس۔ اور دیگر ڈیجیٹل اسپیسز۔
اب راستہ کچھ یوں ہے:
تحریر → نام → تصویر → پروفائل → میسج → اور پھر کبھی کبھی، اللہ ہی حافظ۔
یہ آخری فقرہ شاید مذاق معلوم ہو، مگر خواتین کے لیے پبلک اسپیس میں موجود رہنے کی تاریخ نے ہمیں کچھ احتیاطیں سکھائی ہیں۔
میری اپنی زندگی میں رائٹر اور آڈیئنس کا رابطہ ڈیجیٹل دنیا سے شروع نہیں ہوا۔
انیس سو نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں، جب میں ٹی وی اینکر تھی، ہمیں ہاتھ سے لکھے ہوئے خطوط بوریوں کے حساب سے ملتے تھے۔
واقعی، بوریاں۔
کبھی کبھی میں ان میں ہاتھ ڈالتی، چند خطوط اتفاق سے نکالتی، اور وہ خوش نصیب خطوط میرے شو میں پڑھے جاتے۔
وہ زمانہ اب تقریباً کسی اور سیارے، یا کم از کم کسی اور جغرافیے، کی کہانی لگتا ہے۔
خط لکھنے کے لیے کاغذ چاہیے تھا، قلم چاہیے تھا، وقت چاہیے تھا، لفافہ چاہیے تھا، ڈاک ٹکٹ چاہیے تھا۔ کسی کو کچھ کہنا ہو تو اسے واقعی اتنی زحمت کرنی پڑتی تھی کہ شاید آدھی ناراضگی ڈاک خانے پہنچنے سے پہلے ہی ٹھنڈی ہو جاتی ہو۔
بعد میں، اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جب میں ٹی وی پروگرامز پروڈیوس کر رہی تھی، ہم پی او باکس اور ای میل دونوں کا اعلان کرتے تھے۔
اس وقت کے پیغامات کو میں اس طرح کلاسیفائی کرتی ہوں:
بجا اور بے جا تعریف۔
مثبت اور غیر تعمیری تنقید۔
اور سیدھی سیدھی دھمکیاں۔
"تم کو تو میں تمہارے دفتر میں آ کر گولی ماروں گا۔"
جینڈر واچ سیریز کے حوالے سے ایک صاحب نے اپنے خط میں یہ جملہ لکھا تھا۔ پچیس برس گزرنے کے بعد بھی مجھے یاد ہے۔
میرے پروگرام جینڈر ایکوالیٹی اور فیمنزم جیسے موضوعات پر ہوتے تھے—وہ موضوعات جو آج بھی، اتنے برس گزرنے کے باوجود، مکمل طور پر سمجھے نہیں گئے اور مکمل طور پر غیر متنازع بھی نہیں ہوئے۔
چنانچہ مجھے یہ سبق سوشل میڈیا نے نہیں سکھایا کہ پبلک اسپیس میں ایک عورت کی آواز کو ہر شخص خوشی سے قبول نہیں کرتا۔
یہ سبق پہلے خطوط نے دیا۔
پھر ای میلز نے۔
اور اب سوشل میڈیا اسے روزانہ تازہ کر دیتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اور سچ بھی ہے۔
مجھے قارئین کے پیغامات سے صرف خوف نہیں لگتا۔
میں ان سے انسپائر بھی ہوتی ہوں۔
کبھی کبھی کوئی اجنبی آپ کی تحریر پڑھتا ہے، کسی جملے پر رکتا ہے، اور پھر اتنے تگڑے استدلال کے ساتھ اتفاق یا اختلاف کرتا ہے کہ آپ کو ہلکی سی خوشی بھی ہوتی ہے اور بھری بھرکم تجسس بھی۔
کسی نے اتنی توجہ سے پڑھا—توجہ آخر ہر عمر میں، ہاں جی ہاں، ہر عمر میں، توجہ کھینچ لیتی ہے۔
دوسروں کے لکھے پر اتنا اچھا لکھتے ہیں/لکھتی ہیں تو خود کیوں نہیں لکھتے/لکھتیں؟ تجسس!
واقعی، بعض ای میلز، خطوط اور پوسٹس پڑھ کر مجھے بارہا خیال آتا ہے: یہ لوگ صرف ریڈر کیوں رہنا چاہتے ہیں؟ رائٹر کیوں نہیں بنتے؟
اور کبھی، بہت کم سہی، کوئی ایسا جملہ مل جاتا ہے جسے پڑھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ اسے کہیں استعمال کر لوں۔
شاید کسی ایسے ہی لمحے میں ٹی ایس ایلیٹ کا یہ خیال یاد آتا ہے:
"ناپختہ شاعر نقل کرتے ہیں، پختہ شاعر چراتے ہیں؛ برے شاعر جو کچھ لیتے ہیں اسے بگاڑ دیتے ہیں، جبکہ اچھے شاعر اسے کچھ بہتر—یا کم از کم کچھ مختلف—بنا دیتے ہیں۔"
یہاں، یقیناً، میں اپنے آپ کو قانونی یا ادبی لائسنس جاری نہیں کر رہی۔
کسی قاری کی تحریر اٹھا کر اپنے نام سے شائع کرنا نہ جینروسٹی ہے، نہ انٹلیکچوئل ایکسچینج، بلکہ سیدھا سا معاملہ کچھ اور ہے۔
مگر کسی کے ایک جملے، سوال یا خیال سے اپنی سوچ کو ایک نئے رخ پر لے جانا؟
وہ تو شاید اسی رائٹر–ریڈر پیکٹ کی ایک خوبصورت شکل ہے۔
کوئی آپ کو ایک جملہ دیتا ہے۔
آپ اسے جوں کا توں نہیں اٹھاتے۔
وہ آپ کے اندر کچھ چھیڑتا ہے۔
آپ اس سے بحث کرتے ہیں، اسے الٹتے ہیں، پلٹتے ہیں، اس سے اختلاف کرتے ہیں، اسے اپنے تجربے اور اپنی زبان سے گزار کر کچھ اور بنا دیتے ہیں۔
اور پھر کبھی کبھی ایک پوری تحریر پیدا ہو جاتی ہے۔
شاید یہی وہ خوشی ہے جسے میں محض احتیاط کے نام پر کھونا نہیں چاہتی۔
ویسے بعض رائٹرز کو پڑھ کر ایک اور خیال بھی آتا ہے:
یہ لکھتے کیوں ہیں؟ کچھ پڑھ ہی کیوں نہیں لیتے؟
ہر تحریر ہر قاری کے لیے نہیں ہوتی۔
اور ہر تحریر مقابلے کے امتحان یا بورڈ کے امتحان کی تیاری کا خام میٹیریل بھی نہیں ہوتی۔
بعض تحریریں بس تحریریں ہوتی ہیں—نہ مزاحمت کا استعارہ، نہ محبت کی کتھا۔ شاید ایک فیری ٹیل، سنڈریلا کا کسی شہزادے کے ساتھ رقص کا ایک لمحہ۔ بس اتنا ہی۔
تو کیا ایک عورت لکھاری کے لیے اپنی تحریر پر بات کرنا واقعی زیادہ پیچیدہ ہے؟
شاید جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ کیا مرد لکھنے والے بھی اسکرُوٹنی کا شکار ہوتے ہیں؟
یقیناً ہوتے ہیں۔
مگر اصل سوال شاید یہ ہے کہ اسکرُوٹنی کے بعد کیا ہوتا ہے۔
مرد کی زندگی اس کی شخصیت کا قصہ بن سکتی ہے۔
عورت کی زندگی اس کے کردار کا مقدمہ۔
مرد شاعروں، ادیبوں اور دوسرے لکھنے والوں کی زندگیوں پر گفتگو ہوتی ہے۔ ان کے تعلقات، افیئرز اور فلرٹس گنے جاتے ہیں، ان کی عادات زیرِ بحث آتی ہیں، ان کی کمزوریاں اور بعض اوقات ان کی رنگینیاں بھی ادبی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
مگر پھر؟
پھر بھی اکثر ان کی تخلیق کو تخلیق رہنے دیا جاتا ہے۔
عورت کے ساتھ مسئلہ اکثر دوسری جگہ سے شروع ہوتا ہے۔
وہ شاعری لکھے تو پوچھا جاتا ہے: کیا یہ واقعی اس کے ساتھ ہوا؟
وہ فکشن لکھے تو: یہ کردار کس پر ہے؟
وہ نان فکشن لکھے تو: یہ سب اپنا تجربہ ہے؟
وہ کالم لکھے تو: اتنی پرسنل کیوں ہو رہی ہے؟
وہ محبت لکھے تو: کس سے؟
وہ خواہش لکھے تو: اتنی بے باک کیوں؟
وہ تنہائی لکھے تو: آخر ہوا کیا تھا؟
وہ شادی پر لکھے تو: اپنی شادی ٹھیک ہے؟
وہ ماں ہونے پر لکھے تو: کیسی ماں ہے؟
وہ ماں نہ ہونے پر لکھے تو: کیوں؟
وہ فیمنزم پر لکھے تو: اتنی غصے میں کیوں ہے؟
وہ بہت کھل کر لکھے تو: بُری عورت۔
وہ بہت محتاط لکھے تو: اصل بات کیوں نہیں کہتی؟
یعنی امتحان میں سوال بدلتے رہتے ہیں، مگر امیدوار تقریباً وہی رہتی ہے۔
عورت۔
عورت لکھتی کسی بھی صنف میں ہو، اکثر اس کی تحریر سے پہلے اس کا عورت ہونا پڑھ لیا جاتا ہے۔
اس کا ناول محض ناول نہیں رہتا۔
اس کی کہانی سے اس کی زندگی کی سراغ رسانی شروع ہو سکتی ہے۔
اس کی خودنوشت کو سچ بولنے کی جرات کے بجائے اخلاقی مقدمے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اس کا کالم رائے کے بجائے اس کی شخصیت کا ثبوت بن سکتا ہے۔
اس کی اکیڈمک یا فیمنسٹ تحریر کو کسی پرسنل گریوَنس کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اور سوشل میڈیا پر اس کا ایک جملہ، ایک تصویر، ایک جواب، کبھی کبھی اس سوال میں بدل سکتا ہے:
یہ عورت آخر ہے کیسی؟
یہاں مسئلہ صرف میل گیز کا نہیں، بلکہ اس گیز کے ساتھ جڑی ہوئی اخلاقی عدالت کا بھی ہے۔
مرد کی آزادی شخصیت کہلا سکتی ہے۔
عورت کی آزادی دستیابی۔
مرد کی تنہائی امکان ہو سکتی ہے۔
عورت کی تنہائی موقع۔
مرد کی پرومسکیوئٹی کو تاریخ نے کبھی کبھی رومان، کبھی فنکارانہ بے قاعدگی، کبھی مردانگی، اور کبھی بس "مرد آخر مرد ہے" کہہ کر ہضم کر لیا ہے۔
عورت کے لیے معاملہ اکثر زیادہ سخت ہے۔
اس کی جرات کو بدتمیزی کہا جا سکتا ہے۔
اس کی صاف گوئی کو بے حیائی۔
اس کی خواہش کو کردار کا مسئلہ۔
اس کی آزادی کو دستیابی۔
اس کی تنہائی کو موقع۔
اور اگر زندگی اسے سنگل پیرنٹ بنا دے، تو بعض نگاہیں اس کی ذمہ داری یا جدوجہد نہیں، اس کی کمزوری کا امکان دیکھنے لگتی ہیں۔
اکیلا مرد کسی کے لیے ایک امکان ہو سکتا ہے۔
اکیلی عورت کے گرد بعض نگاہیں دروازہ نہیں، کمزور دیوار تلاش کرتی ہیں۔
یہ فرق محض شاعری تک محدود نہیں۔
یہ فکشن، نان فکشن، کالم، میموائر، اکیڈمک تحریر، صحافت اور سوشل میڈیا—ہر جگہ مختلف شدت کے ساتھ موجود ہو سکتا ہے۔
اور اسی پس منظر میں، میرے لیے کسی ریڈر کے میسج کا جواب دینا ایک مشکل امتحان نہ سہی، تو ایک دلچسپ سوال ضرور بن جاتا ہے۔
کیا جواب دینا دانش مندی ہے؟
یا خاموش رہنا؟
سچ یہ ہے کہ مجھے دونوں میں سے کوئی مطلق جواب پسند نہیں۔
اگر عورتیں ہر نامعلوم رابطے سے خوف زدہ ہو کر خاموش ہو جائیں تو ہم خود اپنے لیے وہی پبلک اسپیس تنگ کر دیں گے جس میں ہمیں اتنی مشکل سے جگہ ملی ہے۔
اور اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ہر پیغام صرف انٹلیکچوئل تجسس ہے، تو شاید ہم اپنی تاریخ اور اپنے تجربات کے ساتھ کچھ زیادہ ہی جینروس ہو جائیں گے۔
شاید دانش مندی کا مطلب دروازہ بند کرنا نہیں۔
شاید دانش مندی کا مطلب ہر دستک کو ایک جیسا نہ سمجھنا ہے۔
سلیکٹو اوپن نیس۔
دل بھی کھلا رہے۔
آنکھیں بھی کھلی رہیں۔
اور پاسبانِ عقل مسلط نہ بھی ہو تو، تھوڑا قریب ضرور رہے۔
آخر فیمنزم کا مقصد عورت کو اتنا خوف زدہ کرنا تو نہیں کہ وہ اپنے قارئین سے بات کرنا ہی چھوڑ دے۔
فیمنزم اگر آزادی کی بات کرتا ہے تو اس آزادی میں یہ حق بھی شامل ہونا چاہیے کہ عورت اپنی آواز سے لطف اٹھائے، اپنے قارئین سے مکالمہ کرے، اختلاف سنے، جواب دے—اور ہر مرحلے پر اپنی حدود خود طے کرے۔
اسے یہ وضاحت دینے کی ضرورت نہ پڑے کہ اس نے جواب کیوں دیا۔
اور اگر اس نے جواب دینا بند کر دیا تو اس کی بھی وضاحت نہ مانگی جائے۔
کیونکہ ایک جواب دعوت نامہ نہیں ہوتا۔
اور خاموشی جرم نہیں ہوتی۔
شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں سارتر کے پیکٹ آف جینروسٹی کو ہمارے جغرافیے، ہمارے کلچر اور عورت کے تجربے کی روشنی میں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
جینروسٹی صرف رائٹر کی ذمہ داری نہیں۔
ریڈر کی بھی ہے۔
اگر آپ کسی عورت کی تحریر سے مکالمہ چاہتے ہیں تو اس کی خاموشی کے حق کو بھی قبول کرنا ہوگا۔
اگر وہ جواب دیتی ہے تو اسے پرسنل رسائی کا لائسنس نہ سمجھا جائے۔
اگر وہ بات کرتی ہے تو اسے ہر وقت دستیاب رہنے کی پابندی نہ سمجھا جائے۔
اگر وہ اپنے بارے میں لکھتی ہے تو اسے اپنی پوری زندگی کی فائل کھولنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
اور اگر وہ فکشن لکھتی ہے تو ہر کردار کا شناختی کارڈ اس سے طلب نہ کیا جائے۔
ہم عورتوں سے بہت کچھ چاہتے ہیں۔
لکھو۔
بولو۔
اپنے نام سے بولو۔
اپنے چہرے کے ساتھ موجود رہو۔
اپنے خیالات شیئر کرو۔
قارئین تک پہنچو۔
سوشل میڈیا استعمال کرو۔
مگر ساتھ ہی:
زیادہ کھلنا مت۔
زیادہ ہنسنا مت۔
زیادہ جواب مت دینا۔
زیادہ خاموش بھی مت رہنا۔
بہت بولڈ مت ہونا۔
بہت ڈرپوک بھی مت دکھنا۔
دستیاب بھی رہو۔
مگر واقعی دستیاب مت ہونا۔
یہ ہدایات شاید کبھی ایک ہی جگہ لکھی ہوئی نہیں ملتیں، مگر ایک عورت جو پبلک اسپیس میں لکھتی اور بولتی ہے، انہیں کسی نہ کسی شکل میں سننا سیکھ جاتی ہے۔
تو کیا عورت لکھنے والی مرد سے زیادہ بہادر، زیادہ جری اور زیادہ ٹرانسپیرنٹ ہے؟
میں اتنا بڑا دعویٰ نہیں کروں گی۔
تاریخ میں بے شمار مردوں نے بھی اپنے لفظوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
مگر میں یہ سوال ضرور اٹھاؤں گی:
جب ایک عورت جانتی ہو کہ اس کے لفظوں کو اس کے کردار کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کی تخلیق کو اس کی زندگی کا اعتراف سمجھا جا سکتا ہے، اس کی آزادی کو دستیابی، اس کی تنہائی کو موقع اور اس کی جرات کو بدکرداری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے—اور پھر بھی وہ اپنے نام سے لکھتی ہے، بولتی ہے، اپنے قارئین کو اپنا سوشل میڈیا ہینڈل دیتی ہے اور کبھی کبھی کسی اجنبی کے سنجیدہ سوال کا جواب بھی دیتی ہے—تو اس جرات کو ہم کیا نام دیں؟
کبھی کبھی میں اب بھی جواب بھیجنے کے بعد گھبرا جاتی ہوں۔
وہی چھوٹی سی بچی پھر آ جاتی ہے۔
جیسے اس نے کوئی مس ایڈونچر کر لیا ہو۔
پھر میں اس سے پوچھتی ہوں:
تم نے کیا کیا ہے؟
جواب ہی تو دیا ہے۔
اور شاید یہی اصل سوال ہے۔
کیا ایک عورت لکھنے والی کے لیے کسی قاری کو جواب دینا محض کمیونیکیشن ہے؟
یا اسے ہر بار پہلے یہ حساب بھی لگانا ہوگا کہ اس کمیونیکیشن کی قیمت کیا ہو سکتی ہے؟
دروازہ بند کر دینا شاید آسان حل ہے۔
مگر پھر مکالمہ کہاں ہوگا؟
اور اگر ہر دروازہ کھول دینا دانش مندی نہیں، تو شاید ہر دستک کو ایک جیسا نہ سمجھنا ہی سب سے عملی فلسفہ ہے۔
ہاں، ایک اور بات۔
جب کوئی عورت جزا یا سزا کے امکان سے خود کو آزاد کر لے—یعنی ان دونوں کی کششِ ثقل سے نکلنے کے لیے اپنی سی ایسکیپ ویلوسٹی حاصل کر لے—تو اس کے بعد بھی کہانی ہمیشہ آزادی یا خود مختاری کی سیدھی سادی کہانی نہیں بنتی۔
کبھی اس کے حصے میں ایک پائرک وکٹری آتی ہے: جیت ضرور، مگر اتنی قیمت دے کر کہ فتح کا جشن بھی کچھ عجیب سا لگے۔
اور کبھی اسے بس ایک نام دے دیا جاتا ہے:
ایکٹیوسٹ۔
جیسے عورت کا اپنے لیے سوچنا، اپنی حدیں خود طے کرنا، یا جزا اور سزا کے خوف سے آزاد ہو کر بولنا، کوئی الگ قسم کی سرگرمی ہو۔
حالاں کہ شاید وہ صرف اتنا کر رہی ہوتی ہے:
اپنی زندگی جی رہی ہوتی ہے۔