(مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔)
پروفیسر اشتیاق احمد کا آٹھواں وی لاگ: تقسیم ہند اور مولانا مودودی اور جماعت اسلامی
خلاصہ: محمد شہزاد
مودودی صاحب کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ اسلام اور اسلامی ریاست کے بہت بڑے حامی تھے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد جناح نے مودودی کو ریڈیو لاہور پر اسلام کے بارے میں بولنے کی دعوت دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودودی اسلام کے بہت بڑے سکالر تھے۔
مودودی سوچ کے اعتبار سے دیوبندی مکتبہ فکر کے تھے۔ دیوبند تقسیم کے خلاف تھے مگر مودودی کا نقطہ نظر کچھ اور تھا۔
مودودی کی پیدائش اورنگ آباد، حیدر آباد (جنوبی ہندوستان) میں ہوئی۔ 1938 میں مودودی پٹھان کوٹ (گورداسپور ڈسٹرکٹ کا ایک ضلع) منتقل ہو گئے۔ اس وقت تک مودودی اپنی پہچان بطور اسلامی مضمون نگار کروا چکے تھے۔ ایسا مودودی نے کیوں کیا۔ مودودی نے کبھی یہ کہا تھا کہ انہوں نے ہجرت علامہ اقبال کے کہنے پر کی۔ کیونکہ قادیان جو احمدیوں کا گڑھ ہے، ان سے اسلام کو بچانا ہے۔ (لیکن پروفیسر اشتیاق کا یہ کہنا ہے کہ اس میں کتنی صداقت ہے، وہ یہ نہیں جانتے۔ انہوں نے یہ سنا ہے۔)
یہ بھی پڑھیے: ساتواں وی لاگ: پاکستان یا متحدہ ہندوستان: احرار، خاکسار اور غلام احمد پرویز کی سیاسی کہانی
مودودی کہتے تھے مسلم لیگ میں تو سب ماڈرن اور سیکولر لوگ ہیں جو اسلام سے نابلد ہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی نیشنل سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ عثمان قاسمی کی کتاب Muslims against the Muslim League میں مودودی پر ایک دلچسپ مضمون ہے۔ اس میں ایک سوال ہے کہ مسلم لیگ اور کانگرس میں کم برا انتخاب کون سا ہو گا۔ اس پر مودودی نے کہا، مسلم لیگ!
مودودی نے کانگرس اور مسلم لیگ، دونوں کی مخالفت کی۔ 1940 کے بعد جب تحریک پاکستان آگے بڑھی تو اسلام کارڈ کھل کر کھیلا گیا۔ جناح کی تقاریر بھی مذہبی رنگ میں ڈھل گئیں۔ جناح نے صوفی مسلمان اور بریلویوں کا ملا کر اسلامی سٹیٹ کی سیاست کی۔ لیکن مودودی کبھی مطمئین نہ ہوئے کہ مسلم لیگ حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی 1941 میں لاہور میں قائم ہوئی۔ پاکستان بننے سے پہلے اس کے ممبرز گنے چنے ہی تھے۔ لیکن مودودی کی شہرت بطور ایک ذہین اور وسیع المطالعہ اسلامک سکالر بن چکی تھی۔ پروفیسر اشتیاق احمد کی کتابThe Concept of An Islamic State in Pakistan میں مودودی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مودودی کا یہ کہنا تھا کہ ان کا نظریہ اسلامی ریاست دراصل ایک مطلق العنان فاشسٹ یا کمیونسٹ ریاست کا تصور ہے۔
فرق یہ تھا کہ دیوبندی کانگرس کے حامی تھے۔ (شبیر احمد عثمانی کا چھوٹا سا گروپ مسلم لیگ کے ساتھ تھا۔) جب پاکستان قیام کے قریب تھا تو جناح نے سردار شوکت حیات کو مودودی کے پاس بھیجا کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں کیونکہ مسلم لیگ ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتی تھی۔ مودودی نے کہا کہ یہ تو "ناپاکستان" ہے۔
لیکن مودودی نے پاکستان بننے کے بعد اپنے موقف میں تبدیلی کر لی اور پاکستان کو بطور اسلامی ریاست اجاگر کرنا شروع کر دیا۔
مودودی نے کشمیر کے خلاف جہاد اول کے بارے میں کہا تھا کہ یہ جہاد نہیں ہے۔ جناح نے اسے جہاد کہا تھا۔ مودودی کا موقف یہ تھا کہ جہاد تب ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر کو آزاد کرانا ہے اور پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا ہے۔ مودودی کو جیل میں بھی ڈالا گیا۔ جماعت اسلامی ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام، دونوں کے خلاف تھی۔ لیکن اگر جماعت کو آپشن دی جائے تو وہ پاکستان کی حمایت کرے گی۔ کیونکہ ایسا ملک مسلمانوں کا ملک ہو گیا۔