Get Alerts

صحافی کو تھانے بلا کر جیل پہنچا دیا گیا! پیکا کالا قانون

ضلع میں پہلے صحافی وڈیروں، جاگیرداروں اور ڈاکوؤں کے گینگز کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا سامنا کرتے تھے، مگر پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی اپنی پسند و ناپسند، کرپشن کے خلاف خبریں چلانے پر نہ صرف صحافیوں کو ہراساں کرتی ہے بلکہ کئی کیس بھی درج ہو چکے ہیں

صحافی کو تھانے بلا کر جیل پہنچا دیا گیا! پیکا کالا قانون

10 اکتوبر 2026 کی شام ایس ایچ او کشمور نے مجھے فون کرکے کہا کہ آپ سے ضروری کام ہے، مہربانی کرکے پولیس اسٹیشن کشمور آ جائیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرا بازو ٹوٹا ہوا ہے اور میں زیادہ باہر نہیں نکلتا، آپ مجھے فون پر ہی بتا دیں کہ کیا کام ہے۔ اس پر ایس ایچ او صاحب نے کہا کہ آپ تھانے آ جائیں، ضروری کام ہے۔

ان کے بہت زیادہ اصرار پر میں پولیس اسٹیشن کشمور پہنچا، جہاں مجھے زبردستی اٹھا کر لاک اَپ میں بند کر دیا گیا۔ اس وقت میرے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں تھی۔ رات تقریباً دو بجے ایس ایچ او کشمور نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔

اس کے بعد مجھے دو دن تک لاک اَپ میں رکھا گیا اور پھر عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے مجھے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جہاں میں آٹھ دن تک رہا۔ بعد میں سیشن کورٹ سے میری ضمانت منظور ہوئی اور میں جیل سے باہر آیا۔

یہ آپ بیتی ہے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے صحافی پرویز کھوکھر کی، جن پر ایس ایس پی آفس کشمور کے اسٹاف کی جانب سے بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں سے مبینہ طور پر رشوت طلبی کی آڈیو سوشل میڈیا پر رکھنے کے بعد پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پرویز کھوکھر کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایس ایچ او غلام قادر نے گڈو تھانے میں ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی اور مسلسل دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔

پرویز کھوکھر کے مقدمے کی کارروائی ابھی جاری ہے اور معزز جج صاحب نے یہ کیس ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ اس مقدمے نے پرویز کھوکھر کی ذاتی زندگی پر منفی اثرات چھوڑے ہیں بلکہ انہیں ذہنی اور معاشی طور پر بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس کیس کے حوالے سے پرسنل ریلیشن شپ آفیسر، ڈسٹرکٹ پولیس کشمور اینڈ کندھ کوٹ، نثار عباسی کہتے ہیں:

"8 اکتوبر 2026 کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور واٹس ایپ گروپس میں کشمور پولیس کے حوالے سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں شامل ایک مبینہ آڈیو میں ایس ایس پی آفس کشمور کے عملے پر رشوت لینے کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ نامعلوم آواز میں ریکارڈ شدہ آڈیو کی تفتیش کے بعد وہ پروپیگنڈا اور جھوٹ پر مبنی تھی۔ پولیس ڈپارٹمنٹ اور افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی نیت سے وائرل آڈیو پھیلانے والے صحافی پرویز کھوکھر کے خلاف قانونِ پاکستان کی دفعات 211، 500 اور 501 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد میں سول جج و مجسٹریٹ کے حکم کے تحت مقدمہ مزید جانچ کے لیے ایف آئی اے کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

"صحافی سماج کا آئینہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی خبر کے مکمل حقائق اور تفتیش کے بغیر الزام لگانا کسی محکمے اور شخصیت کی ساکھ کو متاثر کرنے کے برابر ہے۔"

18 اگست 2016 کو نافذ ہونے والا پیکا ایکٹ، جسے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر سائبر جرائم کی روک تھام، ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے ضابطے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اب اسے صحافتی آزادی کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

پیکا ایکٹ میں ترامیم اور ضلع کشمور میں صحافیوں کو درپیش مسائل

جنوری 2025 میں اس قانون میں ترامیم کے باعث آزادیٔ صحافت دباؤ کا شکار ہے۔ 2025 کے بعد صحافیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ آزادیٔ رائے کے لیے ماحول مزید دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 تک صحافیوں سے متعلق 233 واقعات درج ہوئے، جن میں 12 گرفتاریاں، 11 زیرِ حراست رکھنے کے واقعات اور تین مبینہ اغوا کے واقعات شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درج کیے گئے 34 مقدمات کا تعلق پیکا ایکٹ سے تھا۔

جسٹس فار جرنلسٹس، ون اسٹیپ فارورڈ، ٹو بیک اسٹیپ اور فریڈم نیٹ ورک کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ صحافیوں کے لیے دوسرا بڑا خطرناک خطہ ہے، جہاں سب سے زیادہ 56 کیس ریکارڈ ہوئے۔ سندھ کی صحافت کئی دہائیوں سے وڈیرا شاہی، سیاسی شخصیات اور بیوروکریسی کے زیرِ اثر ہے۔ وہاں پیکا ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد صحافیوں کو ہراساں کرنا مزید آسان ہو گیا ہے۔

ذاتی رنجشیں، کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے اور مختلف محکموں میں ہونے والی کرپشن کے خلاف خبریں چلانے پر ضلع کشمور میں 2025 میں صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت چار مقدمات درج ہوئے۔

ڈاکوؤں کی جانب سے کندھ کوٹ-جیکب آباد روڈ پر ڈکیتی کی واردات کی خبریں نشر کروانے پر آٹھ صحافیوں سمیت 28 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں کندھ کوٹ پریس کلب سے تعلق رکھنے والے دو سینئر صحافی حفیظ ملک اور میر علی اکبر بنگوار بھی شامل تھے۔ ضلع بھر کے صحافیوں کے شدید احتجاج اور ردعمل، اور صحافتی یونینوں کی مداخلت کے بعد ایس ایس پی کشمور بیر نذیر شیخ نے ایس ایچ او تنگوانی کو سرزنش کی اور مقدمہ خارج کرنے کے احکامات جاری کیے۔

کشمور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور سوشل ایکٹوسٹ عبدالواحد ملک، جو کئی ماہ تک سول اسپتال کشمور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے رہے اور مقامی سیاسی شخصیات کو شاملِ تفتیش کرنے کا مطالبہ کرتے رہے، ان کے خلاف بھی مبینہ جھوٹا مقدمہ درج کروا کر جیل بھیج دیا گیا۔

آرٹیکل 19-A اور پیکا ایکٹ

سینئر صحافی یونین آف جرنلسٹس کشمور کے ضلعی صدر علی حسن کہتے ہیں کہ ضلع میں پہلے صحافی وڈیروں، جاگیرداروں اور ڈاکوؤں کے گینگز کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا سامنا کرتے تھے، مگر پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی اپنی پسند و ناپسند، کرپشن کے خلاف خبریں چلانے پر نہ صرف صحافیوں کو ہراساں کرتی ہے بلکہ کئی کیس بھی درج ہو چکے ہیں، جو صحافیوں کے بنیادی حق، آزادیٔ اظہارِ رائے، یعنی آرٹیکل 19-A، کے خلاف ہے۔

صوبائی سطح پر صحافی پروٹیکشن اتھارٹی بنائی تو گئی، مگر وہ فعال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اس کمیشن کی مجموعی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ مایوس کن ہے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اداروں کو چاہیے کہ کسی بھی ادارے یا سیاسی شخصیت کی جانب سے کسی صحافی کے خلاف کی گئی شکایات کا مکمل جائزہ لے کر کارروائی کی جائے، کیونکہ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ کسی ادارے کے خلاف کوئی خبر نشر کرنے کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کے زور پر صحافی کو چینل سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

پریس کلب کشمور کے صدر اور آج ٹی وی کے رپورٹر شفیق مزاری پیکا ایکٹ کے تحت ہونے والے مقدمات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ میڈیا قوانین میں تبدیلی کی گئی، مگر اس کی درست معلومات، آگاہی، فوائد اور نقصانات کے حوالے سے کوئی جامع تشہیر نہیں ہوئی، جس سے نہ صرف دور دراز علاقوں میں صحافت سے وابستہ صحافی اور عام شہری لاعلم دکھائی دیتے ہیں بلکہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد زیادہ متاثر بھی ہو رہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیجیٹل قوانین سے آگاہی کے لیے سیمینارز کا انعقاد کیا جائے۔

فریڈم نیٹ ورک کی 2026 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے واقعات میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک صوبہ ثابت ہوا ہے، جہاں مجموعی 32 میں سے 15 واقعات پیش آئے۔ خیبر پختونخوا اور سندھ میں تین، تین، جبکہ اسلام آباد میں ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سب اسٹینڈنگ کمیٹی کے 6 مئی کو ہونے والے اجلاس میں سندھ پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں سائبر کرائم کے حوالے سے 55 مقدمات درج ہوئے، جس میں ایک صحافی پر مقدمہ درج ہوا تھا۔

ڈیجیٹل قوانین سے آگاہی

ڈیجیٹل قوانین کے بارے میں آگاہی نہ ہونا بھی صحافیوں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔

سینئر قانون دان اور مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ صحافتی ٹریننگز کروانے والے ایڈووکیٹ سید زاہد حسین شاہ کہتے ہیں کہ ضلع کشمور میں صحافتی سطح پر ٹریننگ کا آخری سیشن دس سال پہلے کندھ کوٹ پریس کلب میں منعقد ہوا تھا۔ اتنے عرصے سے کوئی ٹریننگ، سیمینار یا ورکشاپ منعقد نہیں ہو سکی۔ اس دہائی میں صحافت شروع کرنے والے افراد یقیناً نئے قوانین، خاص طور پر پیکا ایکٹ 2016 اور نئے ترمیمی بل 2025، سے بے خبر ہوں گے۔

ایک قانون کے آرٹیکلز، کلازز اور سب کلازز ہوتے ہیں، جن کی مختلف تشریحات ہوتی ہیں۔ پیکا ایکٹ کو ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس میں ترامیم اور این سی سی آئی جی کی صحافیوں کے خلاف بڑھتی کارروائیاں سراسر قانونِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A، جو کسی بھی شہری کا آزادیٔ رائے کا بنیادی حق ہے، سے محرومی کے مترادف ہیں۔

صحافتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی شخصیات کے مطابق پیکا ایکٹ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 8، 9، 10-A، 19 اور 19-A کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ آئینِ پاکستان نہ صرف صحافی کو سیاسی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا بھی حق دیتا ہے۔

پیکا ایکٹ میں 2025 میں ہونے والی ترامیم سچ کو روکنے کی ایک کوشش ہیں۔

جاوید ملک کندھ کوٹ (سندھ )گذشتہ تین سالوں سے بول نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں۔