احمد فراز کے بارے میں لکھنے بیٹھوں تو مجھے ان کی تاریخِ پیدائش یاد کرنے کی خواہش نہیں ہوتی، نہ عہدوں کی فہرست ترتیب دینے کی۔ سی وی سے مجھے کبھی بھی غرض نہیں رہی۔ شاعر اپنے کوائف سے نہیں، اپنے اثر سے پہچانے جاتے ہیں۔
فراز صاحب بھی میرے لئے کچھ ایسے ہی ہیں: ایک گونج، ایک پکار، ایک اسلوبِ اظہار، ایک ایسا طلسم جس میں محبت کی مات بھی ہے، ہزیمت بھی، رَزانَت کی خاموشی بھی، ہجر کی تہہ دار کسک بھی اور طاقت وروں سے چشمک رکھنے کی وہ گستاخی بھی جو کبھی کبھی شاعری کو محض شاعری نہیں رہنے دیتی۔
اور ہاں، یہ لکھنے سے پہلے ایک عملی فیمینسٹ کی حیثیت سے اپنا ایک چھوٹا سا تحفظاتی نوٹ درج کر دوں۔
فیمینسٹ ہونے کی یہ قیمت بہت زیادہ، اور کبھی کبھی خاصی دردناک بھی ہے۔ بہت سی اور بہت سوں کی شاعری، فلموں، ڈراموں، پینٹنگز وغیرہ کو اس عدسے سے دیکھوں تو ریڈیکل فیمینسٹس کے غیظ و غضب سے بچنے اور مین ہیٹرز سے پناہ لینے کے لئے عافیت اسی میں دکھائی دیتی ہے کہ ان خوبصورت المیوں سے دور رہا جائے۔
مگر پھر جیے کیسے؟
“What is this life if, full of care…”
اور یہاں مجھے ڈبلیو۔ ایچ۔ ڈیویس یاد آتے ہیں، جن کی نظم “Leisure” کا یہ مصرعہ زندگی کی اس بے رحم مصروفیت پر ایک نرم مگر گہرا سوال ہے:
“What is this life if, full of care
We have no time to stand and stare”
کسی شاعر کے پورے کلام سے بلا تمیز محبت کرنا شاید فیمینزم کی نصابی شرطوں میں شامل نہیں۔ نہ ہی میں شاعر کو اس کی شاعری سے الگ کر کے کسی بے داغ اخلاقی مسند پر بٹھانے کی قائل ہوں۔ فن، فن کار، اخلاق اور ذاتی زندگی کے درمیان رشتہ کبھی سیدھا نہیں ہوتا؛ اکثر اِنورسلی پروپورشنل ہی رہتا ہے۔ اس کی اپنی گرہیں، اپنی پیچیدگیاں اور اپنے بے ڈھب، بے قرار سوال ہوتے ہیں۔
مگر آج ان سوالوں کی عدالت نہیں لگانی۔
کچھ اشعار شاعر کے ساتھ نہیں رہتے؛ وہ ہم میں رہنے لگتے ہیں۔ کبھی معلوم ہوتا ہے اور کبھی پتا بھی نہیں چلتا کہ یہ اتنا میٹھا زہر کہاں تک پہنچا۔
سامنے اُس کے کبھی اُس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی
یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اُس نے بخشش نہیں کی، ہم نے گزارش نہیں کی
کچھ یادیں، جو اب بھی اپنی خوشبو رکھتی ہیں:
جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے یہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا
جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر
آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا
مجھے تین چار مرتبہ لاہور سے اسلام آباد کی پروازوں میں فراز صاحب کے ساتھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ محض اتفاق تھا؛ ہم دونوں الگ الگ کاموں کے سلسلے میں لاہور گئے تھے اور واپسی کی پرواز میں اتفاقاً ایک ہی جہاز میں آ بیٹھتے تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب جہاز میں سگریٹ نوشی ممکن تھی۔
اُف، یہ لکھتے ہوئے واقعی اپنی عمر کا احساس ہوتا ہے۔ آج کی جنریشن وائی اور زی کے لئے شاید یہ تصور بھی کسی پرانی فلم کے منظر جیسا ہو۔
پھر ایک اور زمانہ تھا۔
کشور آپا، کشور ناہید، کے ہاں فراز صاحب کبھی کبھی اپنی لفظی اور مجازی سرمستیوں کے ساتھ آ جایا کرتے۔ میرے ماں باپ بھی اسی عمارت میں رہتے تھے اور میں شام کے اوقات میں باقاعدگی سے ان کے ہاں جایا کرتی تھی۔ گھر کی ذمہ داریوں میں دھنستی ہوئی بہت سی شامیں بھی وہیں گزرنے لگیں۔
یوں اس بلند عمارت کی کچھ تھکی ہوئی، آہستہ چلتی لفٹ ہماری مختصر ملاقاتوں کی گواہ بنی۔
میری کوشش بس اتنی ہوتی کہ اس دل جو شاعر کو — میں انہیں چارمر کہنے کی جسارت نہیں کر سکتی — کشور آپا کے فلیٹ تک پہنچا دوں۔
جس قسم کے ماحول میں میں پلی بڑھی، وہاں اپنے باپ کی ملنے والیوں میں کئی دلکش، متاثرہ خواتین کی فراز صاحب سے جڑی آہ و بکا بھی سنی۔
ہمارا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں بہت سے ایسے لوگ آتے جاتے رہے جو دنیا کی نظر میں چمکتے ہوئے ستارے تھے؛ بہت محبوب تھے، شاعر، ادیب، سول سرونٹس، نامور چہرے۔ مگر میرے لئے ان میں سے بعض کا باطن، ان کے ظاہر کے بالکل برعکس، نہایت بدنما تھا۔
وہیں، اسی گھر میں، بچپن میں مجھے ایک بڑے شاعر اور سول سرونٹ کے ہاتھوں استحصال کا وہ کرب بھی جھیلنا پڑا جس نے شاید میرے اندر ادب اور ادیب کے درمیان ایک دراڑ پیدا کر دی — ایک ایسی دراڑ جس کے اُس پار لفظوں سے محبت تھی اور اِس پار ان کے خالقوں سے ایک محتاط سا فاصلہ۔
عجیب بات یہ ہے کہ اسی کے باوجود میں ان لوگوں کی باتیں بڑے سکون سے سن لیتی تھی۔
شاید اس لئے کہ میں ایک اَن نوٹسڈ بچی تھی؛ یا شاید اس لئے کہ سننا، اس عمر میں، اپنے وجود کو محفوظ رکھنے کا بھی ایک طریقہ تھا۔
وہ لوگ اپنے قصے سناتے، اپنی محبتیں، اپنی شکستیں، اپنے دکھ اور اپنی فتوحات نما کارنامے بیان کرتے، اور میں خاموشی سے سنتی رہتی۔
پھر اپنی فینٹسی میں چلی جاتی۔
شاید میری شاعری سے محبت اور شاعروں سے فاصلہ، دونوں وہیں سے شروع ہوئے۔
لفظوں سے مجھے محبت رہی؛ لفظوں کے پیچھے کھڑے انسان سے احتیاط۔
یہ یاد اُس بلند عمارت میں منتقل ہونے سے پہلے کی ہے، جہاں بعد میں میرے ماں باپ رہتے تھے اور جہاں کشور آپا کے فلیٹ تک جاتی ہوئی وہ آہستہ چلتی لفٹ ہماری ملاقاتوں کا چھوٹا سا سٹیج بن گئی۔
سو، میری “ذمہ داری” بس اتنی تھی کہ فراز صاحب کو کشور آپا کے فلیٹ تک پہنچا دوں۔
اور پھر وہ اپنے مخصوص انداز میں، شاید عینک کو ذرا درست کرتے ہوئے، پوچھتے:
“شکریہ، مگر آپ ہیں کون؟”
اور پھر مجھے یوں دیکھتے جیسے کسی پرانی تصویر سے کوئی چہرہ اچانک نکل آیا ہو:
میں خاموش رہتی۔
“شہناز!”
میں اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی:
یہ مرد کتنے روباہ باز، کتنے تیز فہم ہوتے ہیں؟ پیر سالی میں بھی! کیا سب ہی سامری کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں؟
وِچ کرافٹ انہیں آتا ہے، اور جلایا ہمیں جاتا ہے کہ وِچز ہم ہیں! وِچز بھی ہم ہی ہیں؟!
اب اپنی پیر سالی میں بھی، میں اس معمے کو حل نہیں کر سکی۔
یہ شاعر لوگ بھی ایسے ہی ہوتے ہیں؟
اور دوسرے پیگ تک تو انہیں ہر عورت ہی شہناز لگنے لگتی ہے۔
پھر میری میڈیکل کی تعلیم، فارنزک ٹاکسیکولوجی اور فارماکولوجی سب پر سوار ہو جاتی۔
سو میں فوراً احتجاج کرتی:
“نہ نہ، فراز صاحب، شہناز تو بہت خوب صورت تھیں!”
نئی نسل کے قارئین کے لئے یہاں ذرا سا پس منظر ضروری ہے۔
شہناز ایک ایسا نام تھا جس کے گرد حسن، المیہ اور ایک مشہور سانحے کی پوری داستان لپٹی ہوئی ہے؛ ایک فتونِ نظر خاتون، جس کے گرد وقت نے تقریباً ایک فیم فیتال کا ہالہ بنا دیا۔ ان کے قتل نے اپنے عہد کو دہلا دیا، اور ان کا نام شاعر و بیوروکریٹ، یا بیوروکریٹ و شاعر — پتا نہیں کون پہلے تھا — مصطفیٰ زیدی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے جڑ گیا۔
سو فراز صاحب کا مجھے “شہناز” کہنا محض غلط شناخت نہیں تھا؛ میرے لئے یہ ایک ایسا ادبی و ثقافتی حوالہ بھی تھا جس پر میں اپنی ناگزیر خود تمسخری کے بغیر رہ نہیں سکتی تھی۔
وہ پھر بھی اپنے گمان پر قائم رہتے۔
میں اپنے انکار پر۔
اور بس۔
وہ چند لمحے تھے۔
پھر شام کا سبزہ گہرا ہوتا گیا — ایک لمحے کو ولیم بلیک کے “The Ecchoing Green” کی یاد آئی، جہاں دن کی روشن، کھیلتی ہوئی دنیا آہستہ آہستہ شام، تھکن اور خاموشی میں اترتی ہے — اور وہ سب لمحے بھی وقت کی کسی اندرونی تہہ میں اتر گئے۔
ہر ایک پل دوسرے پل کے تعاقب میں رہا۔
شاید اچھا ہی ہوا کہ میری عقل نے مجھے کبھی پوری طرح بے لگام نہیں ہونے دیا؛ اب بھی نہیں ہونے دیتی۔ میرے اپنے خیال میں۔ لیکن لفظ اب بھی مجھے سِڈَیوس کرتے ہیں — آہ! کتنی بے شرمی کی بات ہے۔
بھلا ہو ہماری پیاری شبنم آپی، شبنم شکیل، کا، جو کوٹ کرتی تھیں:
“خوابوں میں بھی خیال سے آگے نہیں گئے۔”
میری سماجی ذہانت، یا سوشل آئی کیو، شروع سے خاص قابلِ رشک نہیں تھی؛ عمر کے ساتھ اس میں مزید تنزلی آئی ہے، گویا عقل اور سماجی مہارت کے درمیان میرے معاملے میں کوئی عجیب سا الٹا تناسب قائم ہو۔
سو میری ادھوری تمنا، یعنی رہ جانے والی اِنٹروینشنل کارڈیالوجی کی تربیت، بروقت جاگ اٹھتی، اور شاعرانہ سرمستی، شہناز، حسن اور تاریخ کے تمام امکانات سے بے نیاز، میرا واحد مقصد رہتا:
فراز صاحب کو بحفاظت منزلِ مقصود تک پہنچا دینا۔
شاید یہی میری تھوڑی بہت فراز شناسی کا سب سے دیانت دار خلاصہ ہے۔
ایک طرف وہ شاعر جس کے الفاظ نے محبت، ہجر اور مزاحمت کو نسلوں کی زبان بنا دیا؛ دوسری طرف ایک عام سی عورت جو لفٹ میں کھڑی، اپنے حصے کی عملی عقل کے ساتھ، اس ساحر کو صحیح منزل تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔
اور شاید فراز کو سمجھنے کے لئے یہی تضاد کافی ہے۔
فراز صاحب کو میری جیسی کسی مداح کی سندِ عظمت درکار نہیں۔
مگر قارئین اور مداحوں کے اپنے رشتے ہوتے ہیں۔
کچھ شاعر ہم پڑھتے ہیں، کچھ ہمیں پڑھتے رہتے ہیں۔
فراز شاید دوسری قسم کے شاعر تھے۔
ان کے بعض اشعار برسوں بعد بھی، کسی اور لمحے میں، کسی “ممنوعہ متن” کو پڑھتے ہوئے، اچانک اندر سے آواز دیتے ہیں:
ہم سفر چاہیئے، ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
اور یوں فراز صرف کتاب یا قرطاس تک محدود نہیں رہتے۔
وہ ہمارے جیسے ڈاکٹروں کے کمروں میں، آپریشن تھیٹر کی اُن طویل ساعتوں میں، اور گزر چکی بے شمار شاموں میں بھی زیرِ بحث آتے رہے۔ کبھی ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے اُس مشہور استعارے کی طرح، جہاں شام “etherized upon a table” ہے — بے ہوش، ساکت، جیسے وقت نے خود کو کچھ دیر کے لئے میزِ جراحی پر رکھ دیا ہو۔
ہم مدہوش کر دینے والی دواؤں، ہسپتال کی اُس منفرد مہک، سفید روشنیوں اور اپنے نسبتاً بور چہروں کے ساتھ، فراز اور اُن جیسے کچھ اور خوب صورت سخن وروں کے ہمراہ، زندگی کو کبھی جیتتے ہوئے، کبھی ہارتے ہوئے دیکھتے رہے۔
شاید یہی ادب کا ایک عجیب کرشمہ ہے: شاعر کہیں اور ہوتا ہے، مگر اُس کے لفظ ہماری اپنی شاموں میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
شکریہ، فراز صاحب۔