2017 میں مقامی قبائلی سردار کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد ورثا اور قبیلے کے افراد کی جانب سے انڈس ہائی وے کندھ کوٹ پر احتجاجی دھرنے کے بعد شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ حالات کشیدہ ہوگئے اور مجبوراً پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی۔
میں مظاہرین کے بالکل قریب موجود تھا۔ دوران کوریج ساتھی رپورٹر نے مجھے دھکا دے کر نیچے گرا دیا۔ قریب سے گزرنے والی گولی کی شدت اور آواز کئی منٹ تک میرے حواسوں پر حاوی رہی۔
صحافت کے شوق اور بہتر فوٹیج کے حصول کے لئے مظاہرین کے اتنے قریب موجود ہونا اس وقت میری صحافتی تربیت کے فقدان کی واضح مثال تھی جس کے بعد میں مسلسل ہر سال پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کردہ فیلوشپ میں شرکت کرتا رہا۔ تحفظ اور تحقیق پر مبنی فیلوشپ میں بہت کچھ سیکھنے کے بعد اپنا صحافتی معیار مزید بہتر کیا اور سیکھا کہ خبر تک پہنچنے کے لئے خود خبر بننا لازمی نہیں۔
گذشتہ 22 سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابسطہ ہوں لیکن جن اداروں کے لئے کام کیا ان میں سے کسی نے تحفظ اور فیلڈ جرنلزم کے حوالے سے کوئی ٹریننگ نہیں کروائی۔ آؤٹ سٹیشن رپورٹر شاید کسی ادارے کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ بنیادی ضروریات تنخواہ، میڈیکل انشورنس تک کی سہولیات نہیں دی جاتیں۔
فیلڈ میں کام کرنے والا صحافی، کچے کا خطرناک علاقہ ہو یا تھر کے ریگستان ادارے کے لئے خبر کے حصول تک کئی مشکلات کا سامنا کرتا ہے مگر ادارے اس آؤٹ اسٹیشن رپورٹر کو خبر حاصل کرنے کا محض ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
یہ آپ بیتی ملک کے دور دراز علاقوں میں ہزاروں رپورٹرز کی طرح کام کرنے والے حضور بخش منگی کی ہے وہ مزید کہتے ہیں ’’کئی ملکی اور مقامی اداروں کے ساتھ کام کیا ہے مگر اج تک کسی ادارے نے اس حوالے سے کوئی ٹریننگ نہیں کروائی اور نہ ہی خطرناک علاقوں میں کام کرنے کے باوجود حفاظتی سامان مہیا کیا۔ کئی بار کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن کی کوریج کے دوران مشکلات کا سامنا کیا ہے لیکن جب بھی کیا کسی حفاظتی انتظام کے بغیر ہی کیا‘‘۔
صحافتی تربیت اور تحقیق کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی صحافت میں ایک بڑا خلا یہ ہے کہ اکثر صحافیوں کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں، فیکٹ چیکنگ (Fact-Checking) اور جدید ٹولز سے متعلق درست معلومات نہیں ہوتیں۔
ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 46.7 فیصد صحافیوں کو فیکٹ چیکنگ اور خبروں کی تصدیق کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں ملی۔
سینیئر صحافی اور کالم نگار حاکم نصیرانی صحافتی ذمہ داری کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بیداری کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن جب صحافیوں کی درست تربیت نہیں ہوتی، تو اس کے پورے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج کل میڈیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے صحافیوں کی تربیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بغیر تصدیق کے خبریں چلانا، ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا، اور سنسنی خیزی پھیلانا عام ہو گیا ہے۔ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے صحافی سطحی خبروں پر انحصار کرتے ہیں اور کسی معاملے کی تہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
سوشل میڈیا کے دور میں یوٹیوب اور فیس بک پر کام کرنے والے متعدد نئے صحافیوں کو صحافتی قوانین اور ضوابط کی خبر ہی نہیں ہوتی خبروں کو لکھنے یا پیش کرنے کے دوران زبان کے معیار، الفاظ کے انتخاب اور غیر جانبداری کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
اے آر وائے نیوز سے تعلق رکھنے والے سینیئر کیمرامین نصراللہ کھوسو نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بتایا کہ 2018 میں ہونے والے جنرل الیکشن کی پولنگ کوریج کے دوران بخشاپور میں قائم پولنگ سٹیشن میں معمولی تلخ کلامی شدید جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ میرے قبیلے کا تعلق وہاں مخالف امیدوار کے قبیلے سے تھا جس کے باعث وہاں موجود امیدوار کے حامیوں نے ناصرف مجھے زد و کوب کیا بلکہ میرا کیمرا اور موبائل فون بھی توڑ دیا۔ دو گھنٹے یرغمال بنا کر رکھا۔ ایس ایس پی کشمور اور میرے رپورٹر کی مداخلت اور امیدوار کے کہنے پر مجھے رہا کیا گیا۔ اسلحے کے زور پر گزارے گئے وہ دو گھنٹے میرے صحافتی سفر کے مشکل ترین وقت میں شمار ہوتے ہیں۔
صحافیوں کی تربیت، تحفظ اور تحقیق کے حوالے سے پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی اظہاراللہ خان جو غیرملکی ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ پہلے وہ ملکی اور مقامی اداروں سے وابسطہ تھے جہاں تربیت اور تحفظ کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں تھے، نہ ہی کوئی گائیڈ لائین دی جاتی تھی کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں کیسے فیلڈ رپورٹنگ کی جائے مگر انڈیپینڈنٹ اردو میں ایڈیٹرز کی جانب سے ہر خبر کو بہتر بنانے تحفظ اور تحقیق کو اولین ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ایونٹ کی کوریج کے لئے ایڈیٹرز یا ڈیسک کی جانب سے خاص ہدایات جاری کی جاتی ہیں، وقتاً فوقتاً ٹریننگز کا انعقاد کیا جاتا ہے، تحفظ ادارے کی پالیسی میں شامل ہے، رپورٹرز کو جنگی حالات، سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، سیلابی صورتحال اور دیگر خطرناک صورتحال میں کام آنے والی حفاظتی جیکٹس، فرسٹ ایڈ کٹس سمیت تمام ضروری اشیا ساتھ رکھنا لازم ہے۔
"Conflict reporting And Peace Journalism in Education In Pakistan " جرنل بین الاقوامی میں صحافیوں کی سیفٹی ٹریننگ کے حوالے سے شائع ہونے والے تحقیقاتی آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو خطرناک صورتحال کا سامنا ہے، 78 فیصد صحافیوں کو اپنے اداروں، حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے تحفظ کے حوالے سے کوئی ٹریننگ فراہم نہیں کی گئی۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ سروے میں حصہ لینے والے 18 فیصد صحافیوں کو اپنے اداروں کی جانب سے ٹریننگ اور گائیڈ لائن کے حوالے سے آگاہی دی گئی ہے۔ اے آر وائے نیوز، جیو نیوز اور سما ٹیلی وژن نیٹ ورک کی جانب سے اپنے رپورٹرز کو حفاظتی سامان اور مکمل ٹریننگ دی گئی ہے۔ صحافیوں کی اکثریت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارے، حکومت اور یونینز صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات کریں۔ خطرناک علاقوں میں صحافیوں کو بلٹ پروف جیکٹس اور لائف انشورنس جیسی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات لاڑکانہ کے مطابق صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے ٹریننگز کا انعقاد کروانے کے لئے محکمے کی جانب سے کوئی علیحدہ فنڈز سالانہ بجٹ میں شامل نہیں ہیں البتہ صحافیوں کی صحت، بچوں کی شادیوں کے لئے مالی مدد کی جاتی ہے۔