Get Alerts

سمیع آہوجہ: ایک شخص، ایک دبستان

سمیع صاحب کا فکشن بھی دانشوروں کے لیے تھا۔ ان کا افسانہ تب تک سمجھ نہیں آتا جب تک آپ نے تاریخ، عمرانیات، فکشن اور شاعری کا وسیع مطالعہ نہ کیا ہو۔ میں روزنامہ دنیا میں ادبی صفحے کا نگران تھا

سمیع آہوجہ: ایک شخص، ایک دبستان

جب پہلی بار ان کو دیکھا تو ایک بارعب شخصیت کے طور پر پایا۔ جب آپ وادیٔ علم میں داخل ہوتے ہیں، گویا ایک حیرت کدہ ہوتا ہے جہاں علم و ادب کے چشمے پھوٹ رہے ہوتے ہیں اور آپ جی بھر کے اپنی تشنگی مٹاتے ہیں۔ سمیع آہوجہ بھی علم و ادب کی ایک وادی کا نام تھا، بلکہ ہے، کیونکہ آج وہ جسمانی طور پر بے شک ہمارے ساتھ نہ ہوں، مگر اپنی تحریروں اور افسانوں کے ذریعے ہر وقت ہمارے ساتھ موجود رہتے ہیں۔

ان سے اب بھی ملاقات ہو سکتی ہے، جیسے ’ناردرن کمانڈ‘ پڑھ لیں، ’بجھارتیں نگار خانوں کی‘، ’ننانوے کے پھیر میں‘۔ کوئی بھی افسانوں کی کتاب صاحبِ کتاب سے ملاقات کا ذریعہ ہوتی ہے۔

ٹی ہاؤس میں پہلی بار ان کو سنا۔ ایک لمبی تقریر تھی، مگر ایک لفظ بھی غیر ضروری نہیں تھا۔ مجھے لگا ایک علم و ادب کا دریا ہے جس میں میں غوطے لگا رہا ہوں۔ جب ہم کسی گیانی کو سن رہے ہوتے ہیں تو دھیان صرف ان کی باتوں پر ہوتا ہے۔ وہ وقت سوال جواب کا نہیں ہوتا، کیونکہ چشمۂ علم صرف پیاس بجھانے کے لیے ہوتا ہے۔ پہلی بار میں ان کو صرف سنتا رہا۔ پھر اگلی چند ملاقاتیں، جو ٹی ہاؤس کے بعد پرانی انارکلی کے کسی چائے خانے یا ڈھابے پر ہوئیں، تب سوال بھی پوچھے، تب ان کی شخصیت کے دوسرے روپ بھی آشکار ہوئے۔

سمیع آہوجہ ایک مارکسی دانشور تھے۔ مطالعہ اس قدر کہ یوں لگتا تھا کہ دنیا بھر کا گیان آدھا سمیع صاحب اور آدھا رشید مصباح میں موجود ہے۔ میں نے کارل مارکس کی ’داس کیپیٹل‘، جو کہ بہت ہی مشکل کتاب ہے، اس کی آسان تشریح سمیع صاحب سے سنی، تب جا کر پتا لگا کہ اس استحصالی نظام سے نجات کا راستہ کیسے کارل مارکس کی ’داس کیپیٹل‘ سے نکلتا ہے۔

جیسے محمد رفیع سے کسی نے پوچھا کہ دنیا آپ کے گانے سنتی ہے، آپ کس گلوکار کے مداح ہیں؟ رفیع صاحب نے جواب دیا:

”مناڈے صاحب کا مداح ہوں۔ ہم عوام کے لیے گاتے ہیں، مناڈے صاحب استادوں کے استاد ہیں۔“

سمیع صاحب کا فکشن بھی دانشوروں کے لیے تھا۔ ہمارے جیسے لکھنے والے تو عام قاری کے لیے لکھتے ہیں، مگر سمیع صاحب اہلِ دانش کے لیے لکھتے تھے۔ ان کا افسانہ تب تک سمجھ نہیں آتا جب تک آپ نے تاریخ، عمرانیات، فکشن اور شاعری کا وسیع مطالعہ نہ کیا ہو۔ میں روزنامہ دنیا میں ادبی صفحے کا نگران تھا۔ میں نے سنڈے میگزین میں سمیع آہوجہ کا افسانہ شائع کر دیا۔ میرے میگزین ایڈیٹر نے کہا، یہ میگزین عام قارئین کا ہے، یہ افسانہ ان کو سمجھ نہیں آئے گا۔ میں نے جواب دیا، چلیں کوئی بات نہیں، آج سے قارئین کی ادبی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

سمیع آہوجہ ایک ایسے ہی گیانی، عالم فاضل ادیب، افسانہ نگار اور مارکسی دانشور تھے۔ ان کا افسانہ صرف ادبی تربیت ہی نہیں، بلکہ اتہاس اور عمرانیات کے علم کے دروازے بھی کھول دیتا تھا۔ آپ کو مارکس ازم بھی پڑھنے اور سمجھنے کو مل جاتا تھا۔

ان کا مارکس ازم، جبر کے خلاف آوازِ حق، صرف درس و تدریس تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے سامراج کے خلاف عملی مزاحمت بھی کر رکھی تھی۔

راقم کی سمیع آہوجہ سے بہت زیادہ ملاقاتیں نہیں ہیں، مگر جس قدر بھی تھیں، لگ بھگ آدھا درجن، وہ سیر حاصل گفتگو سے بھرپور تھیں، جس سے علم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

فنِ افسانہ نگاری کو علامت نگاری کیسے بناتے ہیں، یہ آپ سمیع آہوجہ کا فکشن پڑھ کر سیکھ سکتے ہیں۔ ان کا افسانہ پڑھنے میں مشکل ضرور ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو علم کا خزانہ ہاتھ لگ جاتا ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔