مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔
چوتھا وی لاگ: تقسیم ہند اور مذہبی طبقہ
خلاصہ: محمد شہزاد
تقسیمِ ہند کے بارے میں ایک اہم سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ اگر محمد علی جناح سیکولر تھے، مسلم لیگ ایک جدید سیاسی جماعت تھی اور اس نے پاکستان مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کے لئے مانگا تھا، جبکہ علماء کی اکثریت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی، تو پھر مسلم لیگ پر مذہبی ریاست قائم کرنے کا الزام کیوں لگایا جاتا ہے؟ درحقیقت اس سوال کی بنیاد ہی دو غلط فہمیوں پر ہے۔ پہلی یہ کہ صرف جدید اور سیکولر طبقے نے پاکستان کا مطالبہ کیا، اور دوسری یہ کہ تمام علماء نے پاکستان کی مخالفت کی۔ تاریخی حقائق ان دونوں باتوں کی تائید نہیں کرتے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کن علماء نے پاکستان کی حمایت کی اور کن علماء نے اس کی مخالفت کی؟
یہ بھی پڑھیے: ریڈکلف لائن اچانک نہیں بنی: تقسیمِ ہند کی طویل منصوبہ بندی
متحدہ ہندوستان میں سنی مسلمانوں کے تین بڑے مذہبی گروہ تھے۔ سب سے بڑا گروہ بریلویوں کا تھا۔ دوسرا گروہ دیوبندیوں کا تھا، جو 1866ء میں قائم ہوا۔ یہ ایک اصلاحی سنی تحریک تھی جس کا مقصد اسلام کی ابتدائی تعلیمات اور اس کی اصل روح کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔ تیسرا اور نسبتاً چھوٹا گروہ اہلِ حدیث کا تھا، جنہیں بعض لوگ وہابی بھی کہتے ہیں۔ اہلِ حدیث حدیث کو بنیادی ماخذ مانتے ہیں اور فقہ کے چاروں ائمہ، یعنی امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل، میں سے کسی ایک کی تقلید کو لازمی نہیں سمجھتے۔ تاہم ان میں سے بہت سے لوگ امام احمد بن حنبل کے فقہی رجحان سے متاثر رہے ہیں۔
سنی مسلمانوں کے علاوہ شیعہ بھی ایک اہم مذہبی گروہ تھے، جن کی آبادی تقریباً پانچ سے دس فیصد کے درمیان تھی۔ ان کے بھی تین بڑے گروہ تھے: امامی شیعہ، آغا خانی شیعہ اور بوہری شیعہ، جن میں بوہری سب سے چھوٹا گروہ تھا۔ اس کے علاوہ احمدیہ جماعت بھی موجود تھی۔ احمدیوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی اور مسلم لیگ نے ان کے ووٹ حاصل کیے، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد انہیں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔
دیوبندی علماء کی اکثریت نے پاکستان کی مخالفت کی۔ ان میں مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر نمایاں علماء پیش پیش تھے۔ انہی علماء نے برطانوی حکومت کے خلاف ریشمی رومال تحریک چلائی تھی، جس کے اہم رہنماؤں میں مولانا عبید اللہ سندھی بھی شامل تھے۔ ان علماء کا خیال تھا کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قوم بن سکتے ہیں، اس لئے انہوں نے کانگریس کا ساتھ دیا اور متحدہ ہندوستان کی حمایت کی۔ دیوبندی مکتبِ فکر کا زیادہ اثر سہارن پور، مغربی اتر پردیش اور شمالی ہندوستان کے دیگر اردو بولنے والے علاقوں میں تھا۔
البتہ تمام دیوبندی علماء ایک رائے نہیں رکھتے تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی جیسے علماء نے بعد میں مسلم لیگ کی حمایت اختیار کر لی اور پاکستان کے مطالبے کی تائید کی۔
اہلِ حدیث بھی ابتدا میں تقسیمِ ہند کے مخالف تھے، لیکن 1946ء میں انہوں نے پاکستان کی حمایت شروع کر دی۔
پاکستان کا مطالبہ بنیادی طور پر پنجاب اور سندھ سے زور پکڑا۔ ان دونوں صوبوں میں بریلوی مسلمانوں کی اکثریت تھی، اور مسلم لیگ کو پیروں، سجادہ نشینوں، علماء اور مذہبی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ شمال مغربی سرحدی صوبے میں پیر مانکی شریف مسلم لیگ کے اہم حامی تھے۔ بلوچستان میں اس وقت شاہی جرگہ کا نظام تھا، اس لئے وہاں عام انتخابات نہیں ہوتے تھے، لیکن وہاں بھی مذہبی قیادت کی اکثریت مسلم لیگ کے ساتھ تھی۔
اگر 1945ء اور 1946ء کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے متعدد علماء، پیر اور مذہبی رہنما مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں سرگرم تھے۔ اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ علماء نے مجموعی طور پر پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مخالفت زیادہ تر دیوبندی مکتبِ فکر کے اس حصے نے کی جس کا مرکز سہارن پور، مغربی اتر پردیش اور شمالی ہندوستان تھا۔ ان علاقوں کی بڑی تعداد تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ گئی۔ ان کا اثر پنجاب اور سندھ میں بہت محدود تھا، جبکہ تحریکِ پاکستان کا اصل مرکز پنجاب تھا۔
اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مسلم لیگ سیکولر جماعت تھی۔ مسلم لیگ بنیادی طور پر ایک فرقہ وارانہ یا کمیونل سیاسی جماعت تھی، جس نے مذہب کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا اور مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی شناخت کو اپنے مؤقف کا مرکز رکھا۔ اس کے برعکس کانگریس متحدہ ہندوستانی قومیت کی حامی تھی اور فرقہ وارانہ سیاست کی مخالفت کرتی تھی، اگرچہ وہ اس پالیسی میں کامیاب نہ ہو سکی۔ برطانوی حکومت نے بھی آخرکار یہ نتیجہ نکالا کہ تقسیمِ ہند اور پاکستان کا قیام اس کے سیاسی مفادات کے زیادہ قریب ہے۔
مسلم لیگ بنیادی طور پر مسلمان اشرافیہ، زمینداروں اور تعلیم یافتہ سرکاری ملازم طبقے کی جماعت تھی۔ معروف ماہرِ عمرانیات حمزہ علوی نے اپنی تحقیق میں اس کے سماجی ڈھانچے پر روشنی ڈالی ہے، لیکن انہوں نے اس حقیقت پر زیادہ توجہ نہیں دی کہ مسلم لیگ کی مالی مدد بڑی حد تک جاگیردار طبقے سے آتی تھی۔ مزید یہ کہ ان کی تحقیق زیادہ تر 1940ء تک محدود ہے، جبکہ پاکستان کے مطالبے کی عوامی تحریک اور اس کی فیصلہ کن جدوجہد اس کے بعد شروع ہوئی۔
آخر میں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ مسلمانوں کے درمیان سیاسی اور مذہبی اختلافات کوئی نئی بات نہیں تھے۔ رسول اکرمؐ کے وصال کے فوراً بعد ہی یہ اختلاف پیدا ہو گیا تھا کہ امت کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ یہی اختلاف بعد میں مختلف مذہبی اور سیاسی مکاتبِ فکر کی صورت اختیار کرتا گیا۔ اس لئے یہ تصور کہ برصغیر کے تمام مسلمان ہمیشہ ایک ہی سیاسی مؤقف رکھتے تھے، تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔