Get Alerts

ریڈکلف لائن اچانک نہیں بنی: تقسیمِ ہند کی طویل منصوبہ بندی

1918 میں سر آغا خان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان کو ایک "محمدن اینگلو ایمپائر" کی شکل دی جائے۔ اسی طرح 1917 میں خیری برادران – عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری – نے سٹاک ہوم میں یہ خیال پیش کیا تھا کہ ہندوستان میں ایک اسلامی سوشلسٹ جمہوریہ قائم ہونی چاہیے۔

ریڈکلف لائن اچانک نہیں بنی: تقسیمِ ہند کی طویل منصوبہ بندی

مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔


تیسرا وی لاگ: بٹوارے کے حوالے سے انگریز کیا چاہتے تھے؟

خلاصہ: محمد شہزاد

برصغیر میں انگریزوں کی حکومت دو مختلف انداز سے قائم تھی۔ ایک وہ علاقے تھے جہاں انگریز براہِ راست حکومت کرتے تھے، جیسے پنجاب، بمبئی اور دیگر صوبے۔ دوسری طرف تقریباً پانچ سو ستر نوابی ریاستیں تھیں جن کے ساتھ ان کا تعلق مختلف نوعیت کا تھا۔ ان ریاستوں کو اندرونی خود مختاری حاصل تھی۔ ان کے حکمران اپنے داخلی معاملات خود چلاتے تھے، البتہ ہر ریاست میں ایک برطانوی مشیر موجود ہوتا تھا جو حکمران کو مختلف امور میں مشورے دیتا تھا۔ براہِ راست زیرِ انتظام علاقوں میں انگریزوں کا اپنا انتظامی ڈھانچہ موجود تھا، جس میں پولیس، عدالتیں اور دیگر سرکاری ادارے شامل تھے۔

پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ اس موضوع پر ایک الگ وڈیو گفتگو پیش کریں گے جس میں برصغیر کے لئے انگریزوں کے پارلیمانی نظام، آئینی ڈھانچے اور جمہوری تصور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ادارے اور تصورات برصغیر کی روایتی مسلم، ہندو اور سکھ سیاسی روایت کا حصہ نہیں تھے۔ تاہم، ان چیزوں کی عدم موجودگی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ برصغیر میں صرف آمریت ہی رائج تھی۔ مختلف سطحوں پر عوامی قوتیں اور سماجی اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات بھی موجود تھے۔

انگریزوں نے ابتدا میں حقِ رائے دہی بہت محدود لوگوں کو دیا تھا۔ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوا، لیکن آخر تک بھی صرف دس یا گیارہ فیصد آبادی کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ اس کے باوجود انگریز برصغیر سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برصغیر کو چلانے کے لئے طویل عرصے تک انگریزوں کی ضرورت رہے گی۔


یہ بھی پڑھیے: کیا تمام علما نے پاکستان کی مخالفت کی تھی؟ ایک تاریخی جائزہ


دوسری عالمی جنگ نے البتہ برطانیہ کی کمر توڑ دی۔ اس کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی، خوراک کی راشن بندی تک نوبت آ گئی اور سرکاری خزانہ تقریباً خالی ہو گیا۔ برطانیہ امریکہ کا بھاری مقروض بن چکا تھا۔ جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو بڑی عالمی طاقتوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ امریکہ نے برطانیہ، فرانس، سپین اور پرتگال پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی نوآبادیاں ختم کریں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ عالمی منڈیاں اور تجارت بڑی حد تک نوآبادیاتی طاقتوں کے کنٹرول میں تھیں۔ امریکہ آزاد تجارت کا فروغ چاہتا تھا تاکہ دنیا کی منڈیاں کھلیں اور امریکی مصنوعات کے لئے نئے خریدار پیدا ہوں۔

اس سوال کو یوں دیکھنا چاہیے کہ آیا انگریزوں کا پاکستان بنانے کا کوئی پرانا اور طے شدہ منصوبہ موجود تھا یا نہیں۔ تاریخ میں عموماً ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے کوئی مکمل منصوبہ تیار کر لیا جائے اور پھر اس منصوبے کے مطابق سیاست شروع ہو جائے۔ زیادہ تر صورتوں میں حالات، واقعات اور سیاسی قوتیں مل کر پالیسیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال ایران کا معاملہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ اپنی بے پناہ عسکری طاقت کے ذریعے وہ ایران کو بہت کم عرصے میں جھکنے پر مجبور کر دیں گے، مگر حالات ان کی توقعات کے مطابق نہیں چلے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں پیشگی منصوبہ بندی ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتی اور زمینی حقائق اکثر پالیسی سازوں کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیتے ہیں۔اسی تناظر میں بعض ایسی تجاویز کا ذکر ملتا ہے جو بعد کے سیاسی تصورات سے کسی حد تک مشابہت رکھتی ہیں۔ 1918 میں سر آغا خان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان کو ایک "محمدن اینگلو ایمپائر" کی شکل دی جائے۔ اسی طرح 1917 میں خیری برادران – عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری – نے سٹاک ہوم میں یہ خیال پیش کیا تھا کہ ہندوستان میں ایک اسلامی سوشلسٹ جمہوریہ قائم ہونی چاہیے۔

برطانوی حکمتِ عملی میں بھی بعض اوقات ایسے تصورات زیرِ غور آئے۔ مثال کے طور پر 1926 کے آس پاس یہ سوچ موجود تھی کہ ہندوستان کے مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں جوڑا جائے۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ برطانیہ کی حتمی یا مستقل پالیسی تھی۔ مختلف خیالات اور تجاویز ضرور زیرِ بحث آتی رہیں، لیکن ان میں سے بہت سی تجاویز کبھی سرکاری پالیسی کی صورت اختیار نہ کر سکیں۔

انگریزوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندوستان زیادہ سے زیادہ عرصے تک ان کے زیرِ اثر رہے۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ براہِ راست اقتدار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا تو انہوں نے 1946 میں کیبنٹ مشن پلان پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت ایک ایسا وفاقی ڈھانچہ تجویز کیا گیا تھا جس میں مرکز کمزور اور صوبے طاقت ور ہوں، جب کہ نوابی ریاستوں کی داخلی خودمختاری بھی بڑی حد تک برقرار رہے۔

انگریزوں نے ایک مضبوط ہندوستانی فوج بھی تشکیل دی تھی، جسے مختلف طریقوں سے استعمال کر کے ایک کمزور اور منتشر ہندوستان پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا جا سکتا تھا۔ تاہم کانگریس نے اس منصوبے کے بعض بنیادی پہلوؤں کی سخت مخالفت کی۔ پروفیسر صاحب کے مطابق وہ ایک الگ وڈیو گفتگو میں کیبنٹ مشن پلان کی ناکامی کی تفصیل بیان کریں گے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ کانگریس اور مسلم لیگ نے پورے منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے اس کے بعض حصے قبول کیے اور بعض پر اعتراضات اٹھائے۔ اس منصوبے کے دو اہم اجزا تھے: ایک عبوری حکومت اور دوسری دستور ساز اسمبلی، جس نے مستقبل کے ہندوستان کا آئین تیار کرنا تھا۔

مسلم لیگ نے عبوری حکومت کے تصور کو قبول کیا، لیکن بعد ازاں دستور ساز اسمبلی کے معاملے پر اختلافات پیدا ہو گئے۔ دوسری جانب کانگریس کو صوبائی گروپ بندی اور خاص طور پر وہ شق قابلِ قبول نہیں تھی جس کے تحت صوبوں یا گروپوں کو ایک مخصوص مدت کے بعد علیحدگی کا راستہ مل سکتا تھا۔ کانگریس کا مؤقف تھا کہ ایسی شق ایک مستحکم وفاقی ریاست کی بنیادوں کو کمزور کر دے گی۔

اس اعتراض کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ملک کے آئین میں یہ درج کر دیا جائے کہ اس کے صوبے ہر چند برس بعد علیحدگی کا اختیار رکھتے ہیں، تو ریاست کی وحدت مستقل غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار رہے گی۔ اسی وجہ سے کانگریس اس شق کو غیر عملی اور بے مقصد سمجھتی تھی۔

بالآخر مختلف سیاسی اختلافات، باہمی بداعتمادی اور متضاد توقعات کے باعث کیبنٹ مشن پلان کامیاب نہ ہو سکا اور ہندوستان کی سیاست تقسیمِ ہند کی طرف بڑھ گئی۔

1940 کے بعد سکھ قیادت نے یہ مؤقف اختیار کرنا شروع کیا کہ وہ کسی مذہبی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ ان کی پہلی ترجیح ایک علیحدہ سکھ ریاست کا قیام تھی۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو ان کا مطالبہ تھا کہ پنجاب کو تقسیم کیا جائے تاکہ سکھ اور ہندو ایک ہی ریاست میں رہ سکیں۔

انگریزوں نے سکھوں کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے اور ممکن ہے کہ بعض عوامل آج بھی پوری طرح سامنے نہ آئے ہوں۔ تاہم جو حقائق ہمارے سامنے ہیں، ان سے ایک بڑی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ سکھ کسی ایسے متصل علاقے میں اکثریت میں نہیں تھے جہاں آسانی سے ایک علیحدہ ریاست قائم کی جا سکتی۔ پنجاب کے انتیس اضلاع میں سے کسی ایک ضلع میں بھی سکھ آبادی کی واضح اکثریت موجود نہیں تھی۔

بعد میں جب ریڈکلف ایوارڈ کے تحت پنجاب کی تقسیم عمل میں آئی تو اس کی بنیاد بڑی حد تک ان انتظامی اور جغرافیائی حدود پر تھی جن پر پہلے سے غور کیا جا رہا تھا۔ پروفیسر صاحب کے مطابق ریڈکلف ایوارڈ کی حد بندی بڑی حد تک لارڈ ویول کے 7 فروری 1946 کے تصورِ تقسیم سے مطابقت رکھتی تھی۔

گورداسپور کے سوا پنجاب کے تقریباً تمام مسلم اکثریتی اضلاع پاکستان کو ملے۔ گورداسپور ایک ایسا ضلع تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہت معمولی، تقریباً ایک فیصد کے فرق سے تھی۔ تقسیم کے وقت گورداسپور کی تین تحصیلیں، جو دریائے راوی کے مشرق میں واقع تھیں، ہندوستان کے حصے میں آئیں۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا تاکہ امرتسر ہر طرف سے پاکستانی علاقے میں گھر نہ جائے اور اس کا ہندوستان کے ساتھ زمینی رابطہ برقرار رہے۔

پروفیسر صاحب کے مطابق یہ فیصلہ محض ریڈکلف کی اختراع نہیں تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی حد بندی پر پہلے ہی غور کیا جا چکا تھا اور اس کی بنیادیں لارڈ ویول کے دور میں رکھی جا چکی تھیں۔ چنانچہ ریڈکلف ایوارڈ کو مکمل طور پر ایک نیا منصوبہ سمجھنے کے بجائے، اسے پہلے سے زیرِ غور انتظامی تصورات اور حد بندیوں کا تسلسل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

سکھ قیادت کے مطالبے پر پنجاب کی تقسیم کا سوال سنجیدگی سے زیرِ بحث آیا، جب کہ مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان نے پورے ہندوستان کی تقسیم کا مسئلہ کھڑا کیا۔ کانگریس طویل عرصے تک ہندوستان کی تقسیم کے خلاف رہی اور متحدہ ہندوستان کے حق میں مؤقف اختیار کیے رہی۔

تاہم مارچ 1947 میں پنجاب کے حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔ فرقہ وارانہ فسادات نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سیاسی حل کی تلاش مزید پیچیدہ ہو گئی۔ ایسے حالات میں 8 مارچ 1947 کو کانگریس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر تقسیمِ ہند ناگزیر ہے تو پنجاب کی تقسیم بھی ہونی چاہیے۔ یوں کانگریس، جو پہلے پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی، بدلتے ہوئے سیاسی اور امن و امان کے حالات کے باعث اس تجویز پر آمادہ ہو گئی۔

Contributor

محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم آزاد صحافی، محقق اور شاعر ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ طبلہ اور کلاسیکی موسیقی سیکھتے ہیں۔ کھانا پکانے کا جنون رکھتے ہیں۔ ان سے اس ای میل Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔