اگر حالات نے اجازت دی ہوتی تو میں ٹیکس کی شرح میں 15 فیصد کمی کر دیتا، لیکن ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں شہباز شریف، وزیر اعظم پاکستان، 27 جنوری 2025 کو اسلام آباد میں ایک نئے ہوٹل کا افتتاح کرتے ہوئے معاشرے کے کچھ ایسے طبقات ہیں جو تین گنا زیادہ ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ایف بی آر سے واسطہ کے لیے تیار نہیں ہیں، جسے ہمیں تبدیل کرنا ہوگا محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر %10.8 ہو گیا، جو پہلی سہ ماہی میں %9.5 سے زیادہ تھا، حالانکہ یہ عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کے اختتام تک %13.6 کے ہدف سے کم رہا۔ اس کے مقابلے میں، ہندوستان کا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب %18 ہے حکومت نے ایف بی آر افسران کے لیے کاریں خریدنا معطل کر دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون، 31 جنوری 2025ایف بی آر کو پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) 2024-25 کے دوران 384 بلین روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ بجٹ (2024-25) کے وقت متوقع فروری 2025 تک خود مختار ترقی میں کل نقصان کا تخمینہ 447 ارب روپے ہے،یہ رجحان جنوری اور فروری 2025 میں جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم موجودہ مالی سال کے آخری چار مہینوں میں ترقی میں تیزی آئے گی اور اس وجہ سے مارچ جون (2024-25) کے دوران خود مختار ترقی کی وجہ سے محصولات کی وصولی میں مزید نقصان نہیں ہوگا راشد محمود لنگڑیال، چیئرمین ایف بی آر، 30 جنوری 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے سب سے کم ٹیکس تناسب والے ملکوں میں سے ایک ہے، جو کہ پانچ اہم کمزوریوں کی وجہ سے ہے: پیچیدگی، ایک تنگ ٹیکس کی بنیاد، کم تعمیل، غیر موثر ٹیکس انتظامیہ، اور کم سے کم ہوتے صوبائی ٹیکس ریونیو پاکستان پالیسی نوٹ 16: موبلائزنگ ریونیو جوز آر لوپیز، کیلیکس اور ارم توقیر، ورلڈ بینک
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ”غیر معمولی“ (واقعی؟) کوششوں کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود، 6 ٹریلین روپے کے ششماہی ہدف کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے! جنوری2025 کا ہدف بھی34 ارب روپے کم رہا۔
30 جنوری 2025 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے سامنے چیئرمین ایف بی آر کے اپنے اعتراف کے مطابق موجودہ مالی سال 2025 کے لیے پہلی ششماہی میں ہدف کےحصول میں 384 ارب روپے کی کمی ہوئی ۔ چیئرمین محترم کے اندازہ کے مطابق فروری 2025 تک یہ فرق 447 ارب روپے ہو جائے گا! یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سوائے مالی سال 2021-22 کے، ایف بی آر نے اصل تفویض کردہ اہداف شاذ و نادر ہی حاصل کیے ہیں۔ درحقیقت، ایف بی آر کئی دہائیوں سے نظرثانی شدہ اہداف بھی حاصل نہیں کرسکا ،جس کے نتیجے میں بجٹ سازوں کی جانب سے ہر سال متوقع سالانہ مالیاتی خسارہ اندازہ سے زیادہ اضافہ ہوا۔یہ ہے اصل میں پاکستان کا دردناک مخمصہ ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر کسی مالی سال کے دوران جاری نہ("جان بوجھ کر بلاک کرنا" بہتر اظہار ہے) کیے گئے طے شدہ ریفنڈز (refunds) کا ڈیٹا کبھی ظاہر نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں، اس حد تک، کل ٹیکس وصولی کو ہمیشہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پہلو کو ان کالموں میں بار بار اجاگر کیا جاتا رہا ہے، لیکن آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کوئی آزاد آڈٹ نہیں کیا، حالانکہ یہ آئینی ذمہ داری ہے۔ فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) نے اب ایک خبر کی مطابق اس کا ازخود نوٹس لیا ہے ۔ امید ہے کہ وہ اس نا پسندیدہ عمل کو روکنے کے لیے کچھ مناسب اقدامات کریں گے،اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ("آئین")کے آرٹیکل 19اے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے وسیع تر عوام کے لیے ایک جامع رپورٹ بھی تیار کروائیں گے۔
چیئرمین ایف بی آر نے سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریونیو اینڈ فنانس کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ ’’گذشتہ سال ریٹیلرز کی تعداد 0.2 ملین سے بڑھ کر اس سال 0.6 ملین ہو گئی اور اس سال انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ادا کیے گئے ٹیکس میں بھی 105 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے“۔
چیئرمین محترم نے، تاہم، ٹیکس سال 2024 کے گوشواروں کے ساتھ دعوی شدہ رقم کی واپسی (refunds) کے اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 170 میں فراہم کردہ مقررہ وقت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الیکٹرانک طور پر دائر کی گئی رقم کی واپسی کی درخواستیں تا حال زیر اِلتوا ہیں اور ٹیکس دہندگان کی جائز رقوم بھی ادا نہیں کی گئیں ہیں۔ ایف بی آر کے اس تکلیف دہ بھیناک کردار کا کوئی بھی محاسبہ کرنے والا نہیں ہے۔
جیسا کہ پچھلے ہفتے کے کالم میں ذکر کیا گیا ، اگر مالی سال 2024 کے دوران تمام قانونی طور پر طے شدہ ریفنڈز، جو فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے بلاک کر دیے گئے ، ادا کر دیے جاتے تو کل خالص وصولی 8.5 کھرب روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتی تھی، جب کے ایف بی آر کی جانب سے 9299 ارب روپے کے کل محصولات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے!
یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق صرف 600,000 تاجروں نے ٹیکس سال 2024 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے، جب کہ ان کی ٹیکس کی بنیاد بجلی اور دیگر یوٹیلیٹیز وغیرہ کے استعمال کی بنیاد پر کسی طرح بھی 50 لاکھ سے کم نہیں ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ایف بی آر اپنی ویب سائٹ پر مکمل اعدادو شمار ظاہر کرے : ٹیکس سال 2024 کے لیے دائر کیے گئے تمام گوشوارےاور ان میں ریفنڈز کی تعداد اور رقم کی واپسی کا مطالبہ، پچھلے سالوں کے غیر ادا کردہ ریفنڈز کی کل مالیات وغیرہ ۔
29 جنوری 2025 کو روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک خبر ٹیکس سال 2024 کے لیے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں کی کچھ تفصیل بتاتی ہے۔ یہ ایک مایوس کن صورتحال پیش کرتی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے،’’5.9 ملین ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے باوجود، فائلرز کی ایک حیران کن 43.3 فیصد نے ٹیکس آمدنی صفر (NIL) کی اطلاع دی۔ مزید برآں، صرف 3,651 افراد نے 100 ملین روپے سے زیادہ قابل ٹیکس آمدنی کا اعلان کیا، جو ملک کے ٹیکس کی بنیاد میں نمایاں تفاوت کو نمایاں کرتا ہے“۔
مندرجہ بالا خبر میں بیان کردہ حقائق کے بعد ایف بی آر کا فرض ہے کہ ٹیکس سال 2024 کے لئے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا مکمل ڈیٹا ظاہر کرے، ان کالموں میں بار بار درخواستوں کے باوجود وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔موجودہ چیئرمین محترم شفافیت کے داعی ہیں تو فوری طور پر اس کے لئے حُکم نامہ جاری فرمائیں۔
پاکستان میں بہت بڑے ٹیکس خلا (tax gap) کی موجودگی کے بارے میں قومی اتفاق رائے موجود ہے، جس کی ایک وجہ نفاذ میں کمزوریاں ہیں ،اور بڑی حد تک خراب ٹیکس پالیسی اس کا موجب ہے۔ 31 جنوری 2025 کو، ایف بی آر کی ویب سائٹ پر فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) کے مطابق ریٹرن فیلرز کی کل تعداد 6,183,695 تھی۔ اس فہرست کو اب روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ 31 دسمبر 2024 پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تمام کیٹیگریز کے لیے ٹیکس سال 2024 کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی۔
31 جنوری 2025 کو فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست پر دستیاب اعداد و شمار انفرادی انکم ریٹرن فائلرز 4,289,025 ظاہر کرتے ہیں اور کمپنیوں، فرموں اور افراد کی ایسوسی ایشن (AOPs) کی طرف سے صرف 1,849,670گوشوارے داخل کیے گئے ۔
بدقسمتی سے، ان سطور کو لکھنے کے وقت تک، ایف بی آر نے ٹیکس سال 2024 کے لیے جمع کرائے گئے کل گوشواروں کی تعداد اور ان کے ساتھ ادا کردہ ٹیکس اور ریفنڈ کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا (اگرچہ اس کی بار بار درخواست کی گئی)۔ امید ہے کہ یہ اعدادوشمار جلد ہی منظر عام پر لائے جائیں گے- ایسی معلومات جاننا آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اس دوران، دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر کے مصنف کی طرف سے حاصل کردہ اعداد و شمار کسی شک و شبہ سے بالاتر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹیکس سال 2024 کے لیے انکم ٹیکس دہندگان کی کل آبادی کے صرف ایک قلیل حصے نے گوشوارے جمع کرائے ہیں۔
ایف بی آر نے ریونیو ڈویژن 2024 سالانہ کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ لاکھوں شہریوں نے مالی سال2024 میں2.740 کھرب روپے (مالی سال 2024 کے دوران کل انکم ٹیکس کی وصولی کا %60) کا ودہولڈنگ (withholding) نظام کے تحت پیشگی انکم ٹیکس ادا کیا۔ یاد رہے کہ مختلف ودہولڈنگ دفعات(65 سے زیادہ کار فرما ہیں) کے تحت انکم ٹیکس ہر فرد اور ادارے سے انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کروانے بلکہ آمدنی حاصل کرنے سے قبل ہی سرکاری خزانہ میں حاصل کر لیا جاتا ہے ۔
ایف بی آر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال 2024 کے دوران، فیلڈ فارمیشنز 4,738,595 نئے انکم ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کرنے میں کامیاب ہوئیں، جس سے کل تعداد 13,446,015 ہوگئی۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ ایف بی آر کے اپنے اعتراف کے مطابق 30 جون 2024 تک کل فعال انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 4.74 ملین تھی، جب کہ فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست پر یہ تعداد جنوری 2025 کے آخری دن بھی، یہ سطریں لکھنے کے وقت، صرف6,183,695 تھی! ایف بی آر کو اس خوفناک فرق (gap ) کی وضاحت کرنی چاہیے!
مندرجہ بالا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایف بی آر کی جانب سے اپنی اشاعتوں اور دیگر جگہوں پر ڈیٹا کی پیشکشی میں کچھ بنیادی طور پر غلط ہے۔ دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر میں دیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر (ایف بی آر ہی اس کی صداقت کی تصدیق یا تردید کر سکتا ہے)، ایکس پر جناب عامر شریف نے درج ذیل ٹیبل پوسٹ کی:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، 31 جنوری 2025 کو 12:47 بجے تک رسائی حاصل کی گئی، 31 دسمبر 2024 تک کل سیلولر/براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 193 ملین (٪79 موبائل کثافت)، 138 ملین موبائل براڈ بینڈ صارفین (٪56.588 موبائل براڈ بینڈ کی رسائی) ، 3 ملین فکسڈ ٹیلی فون صارفین (٪1.10 فکسڈ ٹیلی ڈینسٹی) اور 142 ملین براڈ بینڈ صارفین (٪58.08 براڈ بینڈ رسائی) تھے ۔
مندرجہ بالا اعداد و شمار کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرتے ہیں کہ یکم جولائی 2024 سے پوری قابل ٹیکس آبادی اور یہاں تک کہ وہ لوگ جو ٹیکس کی حد سے کم آمدنی یا آمدنی نہیں رکھتے وہ بھی ایڈوانس اور ایڈجسٹ انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں ٪15 فائلرز کے طور پر، اور ٪75 کی شرح سے وہ جن کا تذکرہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 114بی کے تحت جاری کردہ عام آرڈر میں کیا گیا ہے، جو کہ پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ موبائل/براڈ بینڈ/انٹرنیٹ صارفین ہیں۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں بائیو میٹرک تصدیق شدہ موبائل کنکشن رکھنے والے تمام بالغ افراد انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، چاہے وہ قابل ٹیکس آمدنی حاصل کرتے ہوں یا نہیں! اگر یہ سب ریٹرنز فائل کرتے ہیں تو کم از کم 100 ملین ریفنڈز کے حقدار ہوں گے۔
تاہم، یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ 31 جنوری 2025 کو دوپہر 12:55 بجے تک، قابل ٹیکس اور کچھ قابل قدر آمدنی ظاہر کرنے والے افراد(قدرتی اور قانونی) کی کل تعداد30 لاکھ سے بھی کم تھی! یاد رہے کہ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اس دن فعال انکم ٹیکس دہندگان کے طور پر ظاہر ہونے والےٹیکس دہندگان میں 4,289,025 قدرتی انفرادی ٹیکس داہندگان اور1,849,670 قانونی افراد تھے!
اوپر درج کردہ حقائق اور جدول سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ گوشوارے حاصل کرنے کا ایف بی آر کا دعویٰ (واقعی؟) ایک سراب ہے اگر اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو محض چند ہزار کمپنیز پچاسی فیصد انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ادا کر رہی ہیں، مگر کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی ایف بی آر اور چند ہزار نام نہاد "ٹیکس ماہرین" (واقعی؟) نے عذاب میں ڈال رکھی ہے۔
30 جون 2024 تک منفرد موبائل صارفین کی تعداد 120 ملین سے کم نہیں تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایف بی آر سائنسی بنیادوں پر صرف اس ڈیٹا بیس سے کم از کم 30 ملین قابل ٹیکس افراد تلاش کر سکتا تھا جو سبھی ایڈوانس/ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس ادا کر رہے تھے۔
یہ انتہا درجےکی نالائقی کی داستان ہے کہ فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست پر انفرادی ٹیکس فائلرز کی تعداد انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 236 کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنے والے منفرد موبائل صارفین کی کل تعداد کا محض 3.56 فیصد ہے اور ان میں سے بھی 60 فیصد نے قابل ٹیکس آمدنی ہی ظاہر نہیں کی یہ ہے دلسوز اور جاں بلب حقیقت ہمارے نظام محصولات کی جو صرف تنخوا ہ در طبقے اور غریبوں کا استحصال کر رہا ہے ۔
مندرجہ بالا اعداد و شمار/حقائق کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرتے ہیں کہ اس وقت پوری قابل ٹیکس آبادی اور یہاں تک کہ وہ شہری بھی جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے یا قابل ٹیکس حد سے کم آمدنی ہے ،موبائل صارفین کی حیثیت سے ایڈوانس/ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ اگر ان سب نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تو کم از کم 90 ملین ریفنڈز کے حقدار ہوں گے۔ تاہم، ریفنڈز کا دعویٰ کرنے کے ضمن میں انہیں روکے گئے ٹیکس کی رقم سے بہت زیادہ لاگت آئے گی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایف بی آر انہیں ”ٹیکس دہندگان“ کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور یہاں تک کہ سروس فراہم کرنے والوں کے پاس دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر ان سب کو رجسٹر کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اکثریت کا دعوی ہے کہ گوشوارے جمع کروانے کے بعد بھی انہیں ریفنڈز نہیں ملیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ ایف بی آر تو موجودہ انکم ٹیکس فائلرز کو بھی ریفنڈز کی ادائیگی کرنے سے گریزاں ہے!