Get Alerts

محصولات کی نمو میں اضافے کی حقیقت !

پندرہ سال پہلے پاکستانیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کے ٹیکس ادا کیے، تصور کریں، پچھلے سال پاکستانیوں نے 9.4 ٹریلین روپے ٹیکس ادا کیا، اسی عرصے کے دوران حکومتی اخراجات 2.7 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 25 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، اصل مسئلہ ٹیکسوں کا نہیں ہے، یہ حکومتی شاہی اخراجات اور نقصانات کا ہے، زیادہ ٹیکس محض ایک علامت ہیں، ضرورت سے زیادہ سرکاری اخراجات بنیادی بیماری ہے، اصل چیلنج یہ نہیں کہ پاکستانی کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں، بلکہ حکومت کی فضول خرچی کو روکنے کا ہے، ٹیکس ایندھن فراہم کرتے ہیں، لیکن حکومتی اخراجات سمت کا تعین کرتے ہیں

محصولات کی نمو میں اضافے کی حقیقت !

کیا پاکستان خود کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے؟ پندرہ سال پہلے پاکستانیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کے  ٹیکس ادا  کیے۔ تصور کریں، پچھلے سال پاکستانیوں نے 9.4 ٹریلین روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسی عرصے کے دوران حکومتی اخراجات 2.7 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 25 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اصل مسئلہ ٹیکسوں کا نہیں ہے، یہ حکومتی شاہی اخراجات اور  نقصانات کا ہے۔ زیادہ ٹیکس محض ایک علامت ہیں۔ ضرورت سے زیادہ سرکاری اخراجات بنیادی بیماری ہے۔ اصل چیلنج یہ نہیں کہ پاکستانی کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں، بلکہ حکومت  کی فضول خرچی کو روکنے  کا ہے۔ ٹیکس ایندھن فراہم کرتے ہیں، لیکن حکومتی اخراجات سمت کا تعین کرتے ہیں  محصولات کا خوف: کیا پاکستان خود کو موت کے گھاٹ   تک پہچانے کی  حد تک ٹیکس لگا رہا ہے؟، فرخ سلیم، دی نیوز، 23 جنوری 2025
سال 2008، 2016 اور 2024 میں افراط زر  کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد ٹیکس کی وصولی،  5 فیصد سے 15 فیصد تک کم از کم ٹیکس کی شرح میں اضافے، تنخواہ دار طبقے کے لیے شرحوں میں اضافے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے باوجود، یکساں رہی   راشد محمود لنگڑیال، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو، 21 جنوری2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے بریفنگ کی دوران ۔ 
مالی سال 2023-24 کو ایک تاریخی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جس میں وفاقی ٹیکس کی وصولی ایک بے مثال سنگ میل تک پہنچ گئی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 9 ٹریلین روپے  کے ہندسہ سے تجاوز کر گئی۔ نظرثانی شدہ ہدف کا  %100.5 حاصل کیا گیا، جیسا کہ جدول 1 میں بتایا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ براہ راست ٹیکسوں کا ہدف809.7 بلین  روپے سے تجاوز کر گیا تھا ، جو کہ %121.8  اضافہ کی نمائندگی کرتا ہے ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے  اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں   2008 ،جو کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے نام نہاد دور  کے آغازکا سال  تھا، سے  لے کر 2024 تک مہنگائی ایڈجسٹڈ  (inflation-adjusted) ٹیکس  وصولی جمود کا شکار  رہی ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف 21 جنوری 2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے سامنے وفاقی وزیر خزانہ و  ریونیو، محمد اورنگزیب، کے ذریعہ قومی اسمبلی میں 18 دسمبر 2024 کو پیش کردہ ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024 میں تجویز کردہ سخت اختیارات کی درخواست کی منظوری  کرتے ہوئے کیا، جس کے لئے وہ  تعریف کے مستحق ہیں  ۔ وہ ایف بی آر کی شماریاتی ٹیم کو حکم دے  سکتے ہیں کہ وہ  محصولات   کا افراط زر  کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد تاریخی اعداد و شمار تیار کرے،  جیسا کہ ریاستہائے متحدہ کی انٹرنل ریونیو سروس   ہر سال کرتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیئرمین ایف بی آر نے ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب  کا پیش لفظ لکھتے ہوئے فرمایا:”ایف بی آر نےمالی سال  2024  میں   کامیابی کے ساتھ اپنے نظرثانی شدہ ریونیو ہدف  9,252 بلین ارب روپے کو100.5 فیصد  کی سطح پر حاصل کیا ۔ مجموعی طور پر جمع ہونے والی آمدنی9,299 ارب روپے پچھلے مالی سال سے 2.1  کھرب روپے  زیادہ  اور 29.8 فیصد کی متاثر کن شرح نمو  ظاہر کرتی ہے“۔  اس کے بر عکس  انہوں نے قائمہ کمیٹی کے سامنے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ مہنگائی کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد مالی سال  2024 میں وصولی 2008 کے برابر تھی! تاہم، مالی سال 2008 میں، حکومت کے کل اخراجات 2.27 ٹریلین روپے تھے،  جو مالی سال 2024 میں20.475 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے  جب کہ کل محصولات  10.085 ٹریلین روپے رہے۔ مالی سال 2008 میں کل  ملکی ٹیکس وصولی1.05 ٹریلین روپے تھی، جس میں سے ایف بی آر  کا حصہ ایک کھرب روپے  تھا۔
چیئرمین ایف بی آر کو نتائج اخذ کرنے اور عوامی بیانات دینے یا سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کو بریفنگ دینے سے پہلے اعداد و شمار کی صداقت کو باریک بینی سے  جانچنے کی ضرورت ہے۔ مالی سال 2024 کے وفاقی بجٹ کے اعلان کے وقت ایف بی آر کو تفویض کردہ اصل ہدف9415  ارب روپے تھا ۔ بعد میں اسے قومی اسمبلی میں بغیر کسی  بحث کے اس کو  کم کر کے  9252 ارب روپے کر دیا گیا  ۔جس  اسمبلی نےبجٹ میں سالانہ ہدف کی منظوری دی تھی، اس سے کمی کی وجوہات  پر تو   بحث ہونی چاہیے تھی  ۔
ایف بی آر نے 29 جون 2024 کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں دعویٰ کیا کہ” مالی سال 2024 میں9252 ارب روپے  ہدف کے مقابلہ میں  9306ارب  روپے جمع کیے ہیں،  جوکے  سالانہ ہدف  سےنمایاں مارجن کےساتھ  54 ارب  روپے زیادہ  ہیں “۔ حقیقت میں تو اصل ہدف میں 109ارب  روپے کی کمی  ہوئی تھی ، جو کہ ریونیو ڈویژن 2024 کی سالانہ کتاب کے مطابق مزید  بڑھ  گئی  ہے۔  حتمی اعداد و شمار کے مطابق  کل  وصولی  محض 9299 ارب  روپے ہے ۔
ریونیو کریسی  (Revenuecracy) ایک  مرتبہ پھر  وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات کو  چکما  دینے میں  کامیاب  ہوئی اور اضافی تنخواہ اور بونس حاصل کیا،   جیسا کہ ماضی میں وہ   تمام وزرائے خزانہ کے ساتھ کرتی رہی ہے۔ 1 جولائی 2024 کی اپنی پریس ریلیز میں، ایف بی آر نے دعویٰ کیا: ”.وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی ٹیم کی  تعریف کی اور مبارکباد دی کہ اس نے مالی سال 2023-24 کے لیے ہدف کو عبور کرتے  ہوئے  9311  ارب  روپے کے ریونیو اکٹھا کر کہ  مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا“۔ 
ایف بی آر کی جانب سے  تسلیم  کر  لیا  گیا  ہے  کہ  مالی سال 2024  میں 9311   ارب روپے وصول  نہیں گئے،   مگر  اب بھی سرکاری  شائع  شدہ  سمری آف کنسولیڈیٹڈ وفاقی اور صوبائی مالیاتی آپریشنز، 2023-24 میں یہی   نمبرز  ظاہر ہو رہے ہیں ، جس  کو  عالمی  مالیاتی  ادارے  اپنی  رپورٹس  میں  بھی  نقل  کر  رہے  ہیں!
 وزارت خزانہ کو مبالغہ آمیز اعداد و شمار پہنچانے والے ایف بی آر حکام کے خلاف انکوائری کے ساتھ ان پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔9311 ارب روپے  کی وصولی کے دعوے کے وقت ، ایک مضمون میں اس کو  چیلنج  کرتے  ہوئے اس  پر روشنی ڈالی گئی کہ”  ایک دن کے اندر 5 ارب روپےکا  اضافہ عوام، بین الاقوامی قرض دہندگان اور عطیہ دہندگان کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ کو دھوکہ دینے کا  پرانا روایتی  طریقہ کار ظاہر کرتا ہے“۔ اب، یہ ثابت ہوا کہ (ایف بی آر نے بجٹ میں مقررکردہ  ہدف  سے   116 ارب روپے  کم  اکھٹے   کیےاور12  ارب  کی  زائدجعلی   وصولی  ظاہر  کی  جس پر تا حال کوئی تادیبی کاروائی نہیں کی گئی۔     افسوس  کہیہ  نا  قابل تردید حقیقت  تاحال وزارت خزانہ  اور ایف بی آرنے   تسلیم نہیں  کی!!  وزیر  اعظم  محترم  کو  اس دانستہ  فریب   کا  نوٹس  لینا  چاہیے اور  تادیبی  کاروائی  کا  حُکم  صادر  کرنا  چاہیے) ۔ 
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر کسی مالی سال کے دوران جاری نہ کیے گئے (جان بوجھ کر  روکنابہتر مفہوم ہے)   طے شدہ ریفنڈز کے جمع شدہ اعداد و شمار کو ظاہر نہیں کرتا۔ دوسرے لفظوں میں، اس حد تک، مجموعی  وصولی  کو ہمیشہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پہلو کو ان کالموں میں بار بار اجاگر کیا جاتا ہے،  لیکن آج تک آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی آزادنہ  آڈٹ نہیں کرایا گیا، حالانکہ یہ ایک آئینی ذمہ داری ہے،  جس کی یاد دہانی 6 جولائی 2024 کو شائع ہونے والے کالم میں کرائی گئی تھی۔ 4  جنوری2025 کو شائع ہونے والے حالیہ کالم میں وفاقی ٹیکس محتسب کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرائی گئی تھی ۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایف بی آر نے ابھی تک اپنی ویب سائٹ پر ٹیکس دہندگان کے ریفنڈز کی اصل رقم جو ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے ظاہر نہیں کی،  جس  سے کل وصولی کے  اعداد  و  شمارپر کئی سوالیہ نشان جنم لیتے ہیں ۔
یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایف بی آر انکم ٹیکس کا بہت زیادہ حصہ ود ہولڈنگ ٹیکسز  کے ذریعے جمع کرتا ہے، جو کہ بالواسطہ ٹیکسز کی تشکیل کرتے ہیں، جو سامان کی کلیئرنگ کے وقت اور خدمات پیش کرنے سے پہلے جمع کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگلے مالی سال سے متعلق ایڈوانس ٹیکس بینکوں اور حکومتی کمپنیز  وغیرہ کے ذریعے اربوں  روپے میں ادا کیا جاتا ہے۔
ایف بی آر ، اہم وفاقی  ادارہ،  متعدد خامیوں سے دوچار ہے، جیسے بنیادی لاجسٹکس (logistics) اور  جدید آلات کی کمی، مالیاتی تحقیق کے لیے کوئی مرکز نہیں، انتظامیہ کی  جدید  تربیت  کا  فقدان،    تمام ٹیکس قوانین انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 ، سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990، کسٹمز ایکٹ، 1969 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005  میں انسدادِ اجتناب کی دفعات کو نافذ کرنے کے لیے تربیت یافتہ  افراد کی  عدم  دستیابی ۔
ماضی میں ایف بی آر اپنی سالانہ کتابوں میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی وصولی سے متعلق تفصیلی  ڈیٹا جاری کرتا تھا، جس میں اس کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے کامیابیوں، کمزوریوں اور دیگر انکشافات کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ مالی سال 2019-20  سےآج تک، یہاں تک کہ تازہ ترین شائع شدہ ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب میں، ٹیکس سال 2024 کے لیے موصول ہونے والے کل انکم ٹیکس گوشواروں اور سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے تحت 30 جون، 2024 تک رجسٹرڈ افراد کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ معیشت کے مختلف شعبوں کی طرف سے کتنا ٹیکس دیا گیا کا  بھی کوئی  تذکرہ  نہیں؟
آخری بار ایسا ڈیٹا باضابطہ طور پر ایف بی آر کی ائیر بک 2018-19 میں جاری کیا گیا تھا، جس میں ٹیکس سال 2018 کے لیے  سالانہ کتاب کو حتمی شکل دینے کی تاریخ تک کل 2,666,256 انکم ٹیکس گوشوارے ملے تھے، جن میں سے 43,246 کمپنیوں کے تھے۔ تاہم، ’تمام ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری برائے ٹیکس سال 2018‘ کے ساتھ ساتھ ’ٹیکس ڈائریکٹری تجزیہ برائے ٹیکس سال 2018‘ میں، ٹیکس سال 2018 کے لیے 14 ستمبر 2020 تک موصول ہونے والے انکم ٹیکس گوشواروں کی کل تعداد 2,852,349 دکھائی گئی۔ بار بار درخواستوں کے باوجود نئے فائلرز سے وصول کیے گئے ٹیکس کی بنا پر   محصولات میں اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس طرح کے غیر انکشافات آئین کے آرٹیکل 19اے  کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں، جو کہتا ہے:”قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں اور ضوابط کے تابع ہر شہری کو عوامی اہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو گا“۔نئے فائلرز سے وصول کی گئی  رقوم   برائے ٹیکس سال 2024 کا ڈیٹا  آج تک عام نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستانی شہری کسی خاص ٹیکس دہندہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مانگ رہے ہیں، جسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 کے تحت تحفظ حاصل ہے، لیکن وہ صرف ہر ٹیکس سال کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی شراکت جاننا چاہتے ہیں۔ ٹیکس دہندگان کے تمام زمروں، یعنی کمپنیوں، افراد کی ایسوسی ایشن (AOPs) اور افراد (تنخواہ دار، غیر تنخواہ دار) کے ساتھ ساتھ کاروبار اور پیشے سے منسلک افراد کی جانب سے ادا کیے جانے والے سیکٹر وار ٹیکس کا تجزیہ بھی چاہتے ہیں۔ یہ ڈیٹا اب مسلسل چھ سالوں سے بشمول  ریونیو ڈویژن 2024    سالانہ کتاب میں دستیاب نہیں ہے۔
جہاں تک ایف بی آر کے  بہت زیادہ غیر معمولی کارکردگی کے دعوے  کا    تعلق  ہے کہ ،”مالی سال 2023-24 کو ایک تاریخی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں وفاقی ٹیکس کی وصولی ایک بے مثال سنگ میل تک پہنچ گئی، جو کہ  پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 9  کھرب  روپے سے تجاوز کر گئیں“ ، یہ بتانا مناسب ہے کہ انکم ٹیکس کی کل خالص وصولی 4530.7 ارب روپے میں ، صرف 15 قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس کا حصہ2183.8  ارب روپے تھا۔ بقیہ ودہولڈنگ پروویژنز سے 556.275 ارب روپے (کل 2740 ارب روپے) حاصل ہوئے۔ ایڈوانس ٹیکس1530 ارب روپے ادا کیا گیا تھا اور  گوشواروں کے ساتھ 162 ارب روپے ۔ ایف بی آر نے  اپنی  کوششوں  سے صرف126.8   ارب روپے   (31.8  ارب روپے کے بقایا جات اور موجودہ ڈیمانڈ میں سے 95  ارب روپے)اکٹھے کئے، جو کہ کل انکم ٹیکس وصولی کا صرف 2.8 فیصد ہے۔
 ناقدین کی یہ دلیل کہ ان لینڈ ریونیو سروس   کا بہت بڑا عملہ اپنی کوششوں سے کل وصولی میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے ہر سال ریونیو ڈویژن کی  سالانہ کتب،  2024 سال سالانہ  کتاب اور سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) میں موجود اعداد  و شمار  کی روشنی میں تقویت پا رہا ہے ، 11 جنوری 2025 کو شائع ہونے والے مضمون میں اس  پر  تفصیل سے بحث کی گئی ہے ۔
ان لینڈ ریونیو سروس    کا یہ دعویٰ کہ انکم ٹیکس کی وصولی میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا بڑھتا حصہ فیلڈ افسران اور عملے کی جانب سے بہتر اور سخت نگرانی کی وجہ سے ہے بھی غلط ہے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کی ڈیفالٹ کے لیے، اگر کوئی خاطر خواہ ڈیمانڈ پیدا کی گئی تھی، تو اسے ریونیو ڈویژن 2024 کی سالانہ کتاب کے جدول 7 اور 11 میں ظاہر کیا جانا چاہیے تھا، جس میں بقایا جات اور موجودہ طلب سے  حاصل  ہونی  والی وصولیوں کو دکھایا  گیا ہے۔
مالی سال 2024 اور 2023 کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس کے نظام کے تحت 15 بڑے شراکت داروں کی تقسیم ٹیبل 9، ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب کے صفحہ 10 میں دستیاب ہے،  جو نیچے دی گئی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ باقی 45 ودہولڈنگ ٹیکس کی دفعات جو متعلقہ سال کے دوران رائج تھیں کی تفصیل  دستیاب  نہیں  ہے۔ وہ   اشیاء   یا  خدمات  جہاں ودہولڈنگ ٹیکس کو  صارفین پر  منتقل کر  دیا  جاتا ہے کا  ٹیکس  کی  کو  وصولی میں  حصہ کا    پتہ لگانے کے لیے ایک تفصیلی انکشاف ضروری ہے ،جو ایف بی آردانستہ ظاہر نہیں کرتا  ۔
 مثال کے طور پر، درآمدات پر  پیشگی انکم ٹیکس جو ہمیشہ صارفین کو سیلز ٹیکس کی طرح منتقل کیا جاتا ہے، پھر بھی اسے ایف بی آر براہ راست (direct ) ٹیکس کے طور پر شمار  کرتا ہے  جب  کہ  یہ  بالاواسطہ  ہے  ہی  نہیں!  یہ  در  حقیت  بالواسطہ  ٹیکس  ہے۔ مندرجہ بالا آئٹمز پر ایک سرسری نظر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انکم ٹیکس ود ہولڈنگ ٹیکس نظام کے تحت جمع کی گئی رقم کا کم از کم %65 بالواسطہ ٹیکس کی نوعیت کا تھا جو  کسی  بھی  طور ذاتی/کارپوریٹ انکم ٹیکس  کے  ضمن  میں  نہیں  شمار  کیا  جا   سکتا ۔
مندرجہ بالا اعداد و شمار ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب کے صفحہ 6 پر ایف بی آر کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں کہ ایف بی آر کی کل ٹیکس وصولی میں انکم ٹیکس کا حصہ 48.7 فیصد اور جی ڈی پی کا تقریباً 4 فیصد تھا (صفحہ 8)۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی نوعیت میں ود ہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد، یہ کل ٹیکس وصولی کے 30 فیصد اور جی ڈی پی کے تقریباً 2.8 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایف بی آر کی قابل رحم کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے!
ایف بی آر کو مالی سال 2024 کے آخری دن تک ادا نہ کیے گئے تمام واجب الادا انکم ٹیکس ریفنڈز کا بھی انکشاف کرنا چاہیے۔ ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب میں صرف  ڈائریکٹ ٹیکسز  کے تحت ادا کیے جانے والے ریفنڈز 53.13   ارب  روپے کا ذکر ہے ، جو    مالی سال 2023 میں 54 ارب روپے تھا،  یہ  سال 2024 کے لئےمنفی نمو دکھا  رہا  ہے  ۔
 تمام ٹیکسوں کے تحت 700  ارب  روپے سے زیادہ کے تمام واجب الادا ٹیکس کی واپسی  کو  اگر   ایف بی آر   کی مالی سال 2024  کی   وصولی سے منہا کر  دیا  جائے ، تو  کل وصولی9 کھرب  روپے سے تجاوز کرنے کے دعوے کی نفی ہوتی  ہے ۔ 
ریونیو ڈویژن 2024  سالانہ کتاب میں فراہم کردہ اعداد و شمار غریب عوام کی معیشت اور زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر، بالواسطہ ٹیکس (کئی لین دین پر فرضی/کم سے کم ٹیکس کے نظام کے ذریعے انکم ٹیکس کی آڑ میں بھی)پر بہت زیادہ انحصار کی تصدیق کرتے ہیں۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہر قسم کی بے جا  وصولیوں ، ریفنڈز کو روکنے اور غیر منصفانہ

 ود ہولڈنگ ٹیکسوں کا سہارا لینے کے باوجود ایف بی آر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر کی وصولی کے لیے یہ قابل رحم طور پر  8.7 فیصد تھا۔ ایف بی آر9.4  کھرب روپے بھی جمع نہیں کر سکا   جو مالی سال 2024 کا اصل ہدف تھا ۔
ریاست کو ٹیکس وصول کرنا چاہیے جہاں واجب الادا ہے اور پیشگی نہیں ہے یا ان لوگوں سے  نہیں جو ٹیکس کے قابل نہیں ہیں۔ سیکشن 236 جیسی فراہمی اور بہت سی دوسری چیزیں حقیقی آمدن کے بجائے لین دین پر  پیشگی ٹیکسوں کو   حاصل  کرنا ایک خراب ٹیکس پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں جو کہ غریب مخالف اور امیر اور طاقتور پر مستعدی سے ٹیکس لگا کر براہ راست ٹیکس بڑھانے کے ایف بی آر کے دعوے سے متصادم ہے۔
جب مالی سال 2023 اور مالی سال 2024 میں ٹیکس کے اخراجات چار کھرب  تک  پہنچ گئے تو بجلی کے بلوں اور کھانے پینے کی متعدد اشیا اور شہریوں کے روزمرہ استعمال کی اشیاء پر بھاری ٹیکس لگانا مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے۔ 
بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے ٹیکس کریڈٹ جو فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے ٹیکس کی شرح میں اضافے سے پہلے دستیاب تھے، موجودہ حکومت کو 2024 کے بجٹ میں بحال کر دینا چاہیے تھا، لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔
 رسمی شعبے میں تنخواہ دار افراد پر غیر متناسب اور ظالمانہ ٹیکس عائد کرنا ایپکس ریونیو اتھارٹی کی بدترین میراث ہے جیسا کہ ایک مضمون میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
فکسڈ اور ٹرن اوور ٹیکس ناجائز ہیں۔ کئی سال پہلے، اس طرح کے غیر منصفانہ ٹیکس کے بارے میں استفسار پر، ڈاکٹر احتشام احمد، معروف ماہر اقتصادیات اور مختلف ممالک کے ٹیکس نظام کی تنظیم نو کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں، نے تبصرہ کیا: ”یہ بڑی فرموں کے لیے ایس ایم ایز (SMEs) کے طور پر اصل آمدن چھپانے کے لیے مراعات بھی پیدا کر سکتا ہے، یا  مکمل قدر کی زنجیروں (value- added supply chains) کو چھپا سکتا ہے۔ ناقابل شناخت SMEs کے ساتھ لین دین کرنا  بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ GST/VAT کیسے لاگو ہوتا ہے۔ Mexicans نے مؤثر طریقے سے VAT رجسٹریشن کی حد کو صفر پر گرا کر، SMEs یا SMEs کا استعمال کرنے والی بڑی فرموں (مثال کے طور پر ٹیکسٹائل میں اہم) کی طرف سے ہیرا پھیری کے امکان کے بغیر مکمل ویلیو چینز لا کر مسئلہ حل کیا ہے“۔
اشیا اور خدمات پر ہم آہنگ سیلز ٹیکس ، واحد قومی ٹیکس ایجنسی اور نیشنل ٹیکس کورٹ کی  تجاویز پر ، ڈاکٹر احتشام احمد نے جواب دیا:
”میں ذکر کردہ تینوں مسائل کی بھرپور حمایت کرتا ہوں، لیکن یہ شامل کروں گا کہ آئی ایم ایف کے تجویز کردہ ایک مختلف ایڈمنسٹریشن ماڈل پر غور کرنا مفید ہے جو بنیادی طور پر بڑے ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔  SMEs کو ٹیکس کے باقاعدہ نظام میں ضم کرنا بہت ضروری ہے ۔ ان کی ترقی کے لیے بھی، بشمول الیکٹرانک انوائسنگ اور زیادہ کارکردگی اور عالمی ویلیو چینز کے ساتھ انضمام۔ اس کے علاوہ، زیادہ درست اور بروقت معلومات انکم ٹیکس میں لیکیجز  (leakages)کو روکنے میں مدد کرے گی، بشمول بڑے ٹیکس دہندگان جو پوشیدہ چھوٹے ٹیکس دہندگان/سپلائرز کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے پیداوار، روزگار اور منافع کو چھپاتے ہیں- تاکہ پوری  سپلائی چینز غائب ہو جائیں (جیسا کہ ٹیکسٹائل میں)۔  آئی  ایم  ایف پروگرام میں درمیانی آمدنی والے  نوکری پیشہ افراد  کو  ہی ٹیکس کے بوجھ تلے پیٹتے رہنا ایک  سنگین غلطی ہے۔ یہ رجعت پسند رویہ کی بد ترین مثال ہے، کیونکہ غیر  تنخواہ والی  (non-wage)آمدنی پر ٹیکس لگانا بدنام زمانہ مشکل کام ہے ۔ آپ کو معلومات پر مبنی آڈٹ کے ساتھ  ایک قابل اعتبار اور آزاد  انتظامیہ کی بھی ضرورت ہے۔ اور غیر جانبدار ٹیکس عدالتیں کی بھی جیسا کہ آپ تجویز کرتے ہیں“۔
وزیر اعظم شہباز شریف کو مندرجہ بالا سفارشات میں ذاتی دلچسپی لینا چاہیے اور ایف بی آر کو یہ بھی حکم دینا چاہیے کہ وہ  کروڑوں موبائل صارفین سے گزشتہ 10 سالوں کے دوران  پیشگی جمع کیے گئے  ایڈجسٹ ایبل (adjustable) ٹیکس  کی ادائیگی کریں،  ان تمام افراد کو جن کی کوئی آمدنی نہیں  تھی یا  قابل ٹیکس حد  سے کم  تھی ۔  آج کے مشکل دنوں  میں ضرورت مندوں کو ٹیکس کی واپسی (refund)   ریاست کی جانب سے ایک مثبت   قدم ہو گا کہ  نظام میں ابھی  کچھ انصاف باقی ہے،   جب کہ  فنانس ایکٹ، 2024 کے ذریعے لاگو بلند شرح کے  جابرانہ  محصولات لاکھوں  متوسط طبقہ کے تنخواہ دار   یا محدود آمدنی کے حامل پاکستانیوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل  رہے ہیں۔ 

مضمون نگار وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینیئر وزٹنگ فیلو ہیں۔