تاخیرِ انصاف سے قتلِ انصاف تک

یہ کیس ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کی نااہلی، بے حسی اور پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کی ایک نادر مثال ہے۔ قانونی اور حقائق پر غور کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا: ”مالک کو شو کاز نوٹس سونا ضبط ہونے کے15 سال بعد اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے نفاذ کے آٹھ سال بعد جاری کیا گیا، جبکہ سونا اب کسٹمز ایکٹ 1969 کے نفاذ کے دو ماہ بعد مالک کو واپس کرنے کے قابل ہو گیا کیونکہ مقررہ وقت کے اندر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا“

05:24 PM, 19 Mar, 2025

حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق

سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ کئی دنوں کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی ایک بڑی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ اس نے  ناقدین کے اس دعوے کو ثابت کیا  ہے کہ ایف بی آر اکثر مقدمات میں بے بنیاد اپیلیں دائر کرتا ہے،  اور آسانی سے  اعلی ٰعدالتوں اور  ٹیکس ٹریبونلز پر الزام عائد کرتا ہے کہ فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں روپے کا ریونیو کئی سالوں تک متاثر رہتا ہے۔

ایف بی آر کا یہ دعویٰ کہ اعلیٰ عدالتوں اور ٹیکس ٹریبونلز کی طرف سے ٹیکس کے معاملات میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے،  ٹیکس دہندگان بھی اسی بات سے متفق ہیں۔

تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل غلطی ایف بی آر کی ہے۔ یہ نہ صرف ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری قانونی چارہ جوئی اور بھاری لاگت کا بوجھ ڈالتا ہے،  بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے وقت اور وسائل کو بھی ضائع کرتا ہے، جو ٹیکس کے علاوہ دیگر معاملات میں بڑھتے ہوئے بیک لاگ کو حل کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ ایف بی آر حکام  اپنے خلاف ہر منفی حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کو حق سمجھتے ہیں، چاہے اس کا کوئی جواز ہو یا نہ ہو!

حیرت کی بات یہ ہے کہ  محض حقائق پر مبنی تنازعات،  جن میں عوامی اہمیت کے کسی بھی قانونی سوال کا فقدان تھا،   متعدد درخواستیں ناقابل سماعت قرار دینے کے بعد  بھی سپریم کورٹ نے غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے پر  ایف بی آر پر جرمانہ عائد نہیں کیا، جیسا کہ   ماضی میں بہت سے کیسز میں کیا گیا تھا۔ ان میں سے  ایک کیس  کمشنر آف ان لینڈ ریونیو لاہور  بمقابلہ بینک آف پنجاب  (2022) 125 ٹیکس 271 ( سپریم کورٹ آف پاکستان) تھا۔ اس کا فیصلہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں رائے دی:

”ہمیں یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ انکم ٹیکس حکام نے غیر ضروری طور پر وقت، پیسہ اور محنت ضائع کی جو کہ زیادہ پیداواری مقاصد کے لیے بہتر طریقے سے استعمال ہو سکتی تھی۔ انہوں نے3  فورمز کے واضح فیصلوں اور ای ایف یو کیس کے حوالے کو نظرانداز کیا۔

اس طرح کی حقارت اور ضد ٹیکس دہندگان میں اعتماد پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا نظام قائم کرنے میں مدد دیتا ہے جس انصاف اور قانون کے مطابق برتاؤ کیا جاسکے۔ اپیلوں کے خلاف حکام کے پاس اپیل کرنے کی کوئی وجہ نہیں  تھی ، لہٰذا اپیل کی اجازت رد کی جاتی ہے اور اپیل کی درخواست کرنے والے فریق  کو  مخالف پارٹی کو مقدمے کی اب تک لاگت ادا کرنی ہو گی“۔

جیسا کہ توقع تھی، ایف بی آر مذکورہ بالا  فیصلے سے کوئی  بھی سبق سیکھنے میں ناکام رہا۔ درحقیقت اس کیس میں  غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے والے حکام  کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،اور اس کے بعد بھی ایف بی آر نے فیلڈ افسران کی سفارش پر سپریم کورٹ میں بہت سی غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے کی منظوری جاری رکھی  ، جہاں ایف بی آر کے خلاف  اسی موضوع پر اعلی ٰعدالتوں کے فیصلے  موجود تھے۔ اس سے فیلڈ افسران کی اہلیت کی سطح اور ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹرز میں انتظامی نگرانی  کے فقدان کا انکشاف ہوتا ہے۔جہاں  21 گریڈ کے ممبر  قانون ، اپنے عملے اور قانونی پینل کے کئی ماہر وکلا کے ساتھ، مقدمات دائر کرتے ہیں اور ان کی   پیروی کی نگرانی بھی کرتے ہیں ۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر  جسٹس یحییٰ آفریدی نے 10 فروری 2025 کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ٹیکنیکل مشن کے ساتھ ملاقات سے بہت پہلے  ،نومبر 2024 میں دیرینہ ٹیکس کیسز کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے:     

”سپریم کورٹ کے پاس محصولات سے متعلق تقریبا 6000   مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں اربوں پاکستانی روپے کی ممکنہ  ٹیکس وصولی شامل ہے،  تقریبا 2000 مقدمات ٹریبونل اور عدالتوں کے سامنے زیر التوا ہیں، جہاں عبوری احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 108366 مقدمات زیر التوا ہیں جن میں  4457 ارب روپے   کا ٹیکس زیر التوا ہے“۔ 

سپریم کورٹ اور دیگر فورمز پر ایف بی آر کے تقریبا 90 فیصد کیسز مسترد ہونے سے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس میں ادارہ جاتی فریم ورک کا فقدان ہے ،  جو افسران کو ان کے خلاف فیصلے ہونے والے ہر کیس میں اپیل دائر کرنے سے روک سکتا ہے،  غیر ضروری اپیلز اس لئے بھی دائر ہوتی ہیں کہ افسران اپنے اوپر کوئی  ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔   اس کے لئے کوئی کمیٹی ہونی چاہیے تا کہ  اپیل دائر کرنے کا فیصلہ اجتماہی ذمہ داری سے ہو۔

 ایف بی آر کا  غیر ضروری اپیلز  دائر کرنے کا طرز عمل بار بار اور مستقل ہے۔ اس طرز عمل نے ماضی میں بھی سپریم کورٹ کو ناراض کیا تھا۔ ایک کیس چیئرمین ایف بی آر اور دیگر بمقابلہ حضرت حسین اور دیگر 118 ٹیکس 260 (سپریم کورٹ آف پاکستان) کے ذریعے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کی گئی تھیں،   لیکن ہمیشہ کی طرح ایف بی آر نے  ان کو نظر انداز کر دیا:

”یہ بات نوٹ کی جائے کہ اپیلیں روٹین کے طور پر یا صرف اس وجہ سے نہیں دائر کی جانی چاہئیں کہ محکمہ کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے۔ فیصلے ایک معقول بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ حکومت کے اداروں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ روٹین کے طور پر اپیلیں دائر کر کے عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کریں“۔

ایف بی آر کئی مہینوں سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ چار کھرب روپے سے زائد کا ریونیو صرف ٹیکس کیسز میں پھنسا ہوا ہے جو اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور یہ کیسز ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جانے چاہئیں۔ یہ ایف بی آر کا ایک جائز مطالبہ ہے لیکن اسے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے اور عوام کے سامنے یہ بھی لانا چاہیے کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ٹریبونلز میں دائر کردہ کیسز کی کامیابی کی شرح کیا ہے۔ یہی وہ چیز ہوگی جو مقدمات کے اخراجات کے جواز کو ثابت کرے گی ؛ وہ عوامی فنڈز جو ایف بی آر پر خرچ ہوتے ہیں اور ٹیکس دہندگان جو اپنے کیسز کے دفاع میں بھاری اخراجات اٹھاتے ہیں، اس کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں اور ٹریبونلز کے قیمتی وقت کا استعمال جو ان کیسز کے فیصلے میں لگتا ہے۔

انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے انکار ہے اور عجلت میں انصاف کا مطلب انصاف کا قتل ہے  یہ دونوں مقولے ہمارے قدیم استعماری نظام عدلیہ کی حالت اور بحران کی موجودہ صورتحال کو بہترین طریقے سے بیان کرتے ہیں، جو تمام سطحوں پر اصلاحات کی سخت ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس پر مختلف کالموں میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

بدقسمتی سے نوآبادیاتی عدالتی نظام کے تجزیے اور اس کے از سر نو اصلاحات کے مکمل ایجنڈے پر، کئی مضامین میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ متوقع تھا، ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی  ، نا ہی ان کی طرف سے جو قانونی نظام میں اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی سی جے پی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے ۔ کمیٹی کی رپورٹ، جو  کہنے کو اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات پر مبنی ہے، اس میں  جمع شدہ زیر التوا کیسز کے بیک لاگ (backlog) کو ختم  کرنے اور اضافی ٹیکس مقدمات کے وجوہات کی نشاندہی کرنے کے لیے کوئی انقلابی حل تجویز نہیں کیا گیا۔ بدقسمتی سے یہ ہے کہ موجودہ  ناکارہ اور سڑے ہوئے نظام کے فائدہ اٹھانے والے، جو اضافی مقدمات کی بڑی وجہ ہیں، ٹیکس دہندگان کو ٹیکس انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت میں لوٹتے ہیں، اور ان میں سے کچھ کمیٹیوں میں بیٹھ کر اپنے مفادات کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔نتیجتا ًمذکورہ بالا مضامین میں تجویز کردہ نتائج پر مبنی ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور جدید حل کی عدم موجودگی میں زبانی وعدوں کے باوجود ہر سطح پر التوا میں بلا روک ٹوک اضافہ ہو رہا ہے۔

مندرجہ ذیل دو ٹیکس تنازعات کو بطور  کیس اسٹڈی پیش کیا جا رہا ہے (ایک بہت حالیہ 2024 کا اور دوسرا 2007 کا)جو سپریم کورٹ نے حل کیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے حتمی فیصلے میں عدلیہ کے نظام میں کتنا وقت لگا، جس سے ٹیکس دہندگان کو ناقابل تلافی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف بی آر کو  کوئی اخراجات  ادا کرنے کا حکم نہیں  دیا۔ یہ کیسز اس  خیال کو بھی بے نقاب کرتے ہیں کہ بھاری تنخواہیں اور بے شمار ٹیکس فری الاؤنسز، مراعات اور فوائد اعلیٰ عدلیہ کو مؤثر اور فوری انصاف دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں!

لاہور ہائی کورٹ کے 12 اپریل 2001 کے حکم کو  29 مئی    2002کو معطل کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے 02.10.2024 کو ٹیکس کیس (کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس دہندگان آفس لاہور اور دیگر بمقابلہ مے فیئر سپننگ ملز لمیٹڈ اور دیگر   )کا حتمی تصفیہ کیا۔ یہ  15 سپتمبر 1998  کو ایڈجوڈیکیٹنگ افسر کی طرف سے جاری کردہ غیر منصفانہ حکم کے خلاف، انصاف میں تاخیر کی ایک  افسوسناک مثال ہے۔کیس میں فریق ٹیکس دہندگان  کو 26 سال انتظار کے بعد 30.69 ملین روپے کا ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ملا،  اس کیس میں اس کو بھاری قانونی اخراجات برداشت  کرنے پڑے اور  وقت بھی ضائع ہوا! اس فریق کو 26 سال تک مقدمات میں پھنسے ہوئے فنڈز کی وجہ سے کوئی معاوضہ نہیں ملا، نہ تو موجودہ قانون کے تحت (ٹیکس  قوانین ریاست کے حق میں ہیں کیونکہ تاخیر سے ادائیگی نہ کرنے پر ڈفالٹ سرچارج عائد ہوتے ہیں لیکن ایسے معاملات میں کوئی معاوضہ نہیں ملتا) اور نہ ہی سپریم کورٹ نے مقدمے کے اخراجات اور جرمانہ  کا  حکم دیا۔

دوسرا کیس اسسٹنٹ کلکٹر آف سینٹرل ایکسائز اینڈ لینڈ کسٹمز بمقابلہ ایم ایس ٹی صدیق افضل اور دیگر 2008 پی ٹی آر 34 کا ہے۔ یہ ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کی نااہلی، بے حسی اور پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کی ایک نادر مثال ہے۔ قانونی اور حقائق پر غور کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا:

”مالک کو شو کاز نوٹس سونا ضبط ہونے کے 15 سال بعد اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے نفاذ کے آٹھ سال بعد جاری کیا گیا، جبکہ سونا اب کسٹمز ایکٹ 1969 کے نفاذ کے دو ماہ بعد مالک کو واپس کرنے کے قابل ہو گیا کیونکہ مقررہ وقت کے اندر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا“۔ 

اوپر بیان کیے گئے کیس میں کھلی بدانتظامی کے اس عمل پر، کسی بھی مہذب معاشرے میں ٹیکس محکمے کو مجبور کیا جاتا کہ وہ خاندان کو قابلِ ذکر مالی معاوضہ ادا کرے۔ ملزم مقدمے کے دوران انتقال کر گیا اور اس کی بیوہ کو غیر ضروری طور پر اور مجبوری میں ایک طویل قانونی جنگ میں گھسیٹ لیا گیا جو نہ صرف مہنگی رہی ہوگی بلکہ اس کے لیے وقت کے ضیاع کے لحاظ سے اذیت ناک بھی رہی ہوگی۔

مندرجہ بالا امور ہمارے ٹیکسز سے متعلق ہمارے عدالتی نظام کی افادیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا اسے واقعی ”انصاف کا نظام“ کہا جا سکتا ہے، جہاں 1963 میں شروع ہونے والی کارروائی بالآخر 2007 میں 44 سالوں کے بعد طے پائی۔

پہلے معاملے میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 8 کی غلط تشریح کو 26 سال میں درست کر دیا گیا۔ تاہم، کوئی مالی ہرجانہ نہیں دیا گیا، ٹیکس حکام کو ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے اور جرمانے کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی، جہاں ان کے ناپاک مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہیں۔

اب، ایف بی آر کے ’شور و غوغا‘ اور ’اربوں کے مقدمات‘   ہونے کے غلط دعووں کے پیش نظر، ٹیکس قوانین کی مختلف دفعات کی تشریح سے متعلق بہت سے مقدمات میں، اعلیٰ عدالتیں اور یہاں تک کہ جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اپیلوں کی اجازت اور آئینی درخواستوں کو سرسری طور پر مسترد کر رہی ہیں یہ پھر ’فوری نمٹانے کے عمل ‘ کے تحت ’عجلت انصاف سے  قتل ا نصاف ‘  کی نایاب مثال ہے۔

عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کا خاتمہ اور ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان معاملات کو ہموار طریقے سے چلانے میں آسانی فراہم کرنا ہونا چاہئے۔ ایک بار جب دونوں فریق قانون کے دائرے میں کام کرنا سیکھ لیں گے، تو مقدمات میں نمایاں کمی آئے گی۔

یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں سب سے بڑے مدعی ہیں۔ وہ لوگوں کے حقوق کا استحصال کرتی ہیں اور پھر غریب شہریوں/ٹیکس دہندگان کو عدالتوں میں گھسیٹ لیتی ہیں۔ بدقسمتی سے، دوسرے مدعیوں کے مقابلے میں، وہ اپنے غلطیوں پر جرمانے سے بچ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر التوا کی درخواستیں۔۔ جہاں دوسرے افراد کو بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، وہ بار بار التوا دائر کر کے بچ جاتے ہیں، جو خوش دلی سے منظور کی جاتی ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سطح پر اور تمام سرکاری محکموں میں گورننس کی خراب حالت کی وجوہات کیا ہیں لیکن کوئی بھی ان پر توجہ دینا اور ان کو ٹھیک کرنا نہیں چاہتا۔ عدالتی اصلاحات میں مزید ججوں اور فنڈز کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کا خاتمہ شامل ہے۔

ایک مثال کے طور پر، برطانیہ کو لیا جا سکتا ہے (جہاں سے ہم نے اپنے ٹیکس قوانین مستعار لیے ہیں)۔ 2023 میں صرف انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد تقریباً 39 ملین تھی، جبکہ بالغ آبادی 68.3 ملین تھی، اور اس کے مقابلے میں ٹیکس کی اپیلیں جو سپریم کورٹ آف یونائیٹڈ کنگڈم تک پہنچتی ہیں، سالانہ دس سے کم ہیںْ!

پاکستان میں ہر سال 70,000 سے زائد اپیلیں/آئینی دارخوستیں   / ٹیکس حکام کے احکام/کارروائیوں کے خلاف دائر کی جاتی ہیں، جبکہ 2024 میں 18 سے 60 سال کی عمر کے درمیان 120 ملین کی آبادی کے مقابلے میں ٹیکس دہندگان کی مجموعی تعداد ابھی تک سات ملین کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر سکی۔ مدعیوں کو فیصلے حاصل کرنے کے لیے سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، مہذب ممالک میں بہت کم کیسز اعلیٰ عدالتوں تک پہنچتے ہیں۔

ہمارے قانون سازوں اور ججوں کو برطانیہ کی سپریم کورٹ اور ان کی دیگر عدالتوں کے اعداد و شمار کی سالانہ رپورٹس اور اکاؤنٹس کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ انہوں نے انصاف کی فراہمی میں کس طرح قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں! برطانیہ اور دیگر جگہوں پر انصاف کے نظام کی کامیابی عوامی اطمینان اور اداروں پر اعتماد میں مضمر ہے۔

ٹیکس نظام کی عوامی ساکھ اور مالیاتی انتظامیہ کی جانب سے گڈ گورننس برطانیہ کے مجموعی گورننس ماڈل کی نشانیاں ہیں، جس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ ایف بی آر کے برعکس وہ بھاری لاگت، نقصانات اور جرمانے کے خوف سے ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری طور پر عدالتوں میں گھسیٹنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

پاکستان میں بے ایمان ٹیکس دہندگان اور ان کے چالاک مشیر بھی اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکس ادائیگیوں سے بچنے یا تاخیر کے لیے فضول اپیلیں دائر کرتے ہیں۔ عدالتوں کو ایف بی آر اور ایسے ٹیکس دہندگان پر  غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے پر بھاری جرمانے عائد کرنے چاہئیں۔ یہی اختیارات ٹیکس ٹریبونلز کو بھی دیے جانے چاہئیں جب انہیں بھی عوامی ساکھ حاصل ہو جائے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے تمام ساتھی ججوں کی مدد سے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ حد سے زیادہ قانونی چارہ جوئی، انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور فضول قانونی چارہ جوئی کے خلاف مالی نقصانات عائد کرنے اور لاگت کی وصولی کے لیے سخت قوانین بنائے جا سکیں۔  عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد سب کے لئے فوری انصاف اور غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ریاست کے تینوں ستونوں مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ کو آئین پاکستان کی حدود کے اندر مل کر کام کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں