بجٹ 2025 سے تنخواہ دار طبقے کی توقعات

ٹیکس فوائد کے ذریعے آجروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین اور ان پر انحصار کرنے والے خاندان کے افراد کو طبی سہولیات فراہم کریں۔ اس طرح کے اخراجات کو ملازمین کے ہاتھ میں نہ تو مراعات کے طور پر سمجھا جانا چاہئے اور نہ ہی قابل ٹیکس رسید کے طور پر

11:52 PM, 24 Apr, 2025

حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق

جب کہ متوسط طبقے کے تنخواہ دار ملازمین ریونیو کریسی کی چیرا دستیوں کا شکار ہیں ، مراعات یافتہ طبقے محصولات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ لاتعداد فقیدالمثال ٹیکس چھوٹ کا مزا بھی لے رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں انگلیاں گھی میں اورسر کڑاہی میں ۔ ہمارے نام نہاد منتخب قانون ساز ، فنانس بل یا ٹیکس قانون میں ترمیم کے کسی بھی بل کو منظور کرتے ہوئے محض ربڑ اسٹامپ کا کام کرتے ہیں جب کہ اصل مُقنّہ تو ریونیو کریسی ہی ہے— بجٹ 2024 -25: تنخواہ دار طبقے کو دبانے کا حکومتی ارادہ، فرائیڈے ٹائمز، جون 8، 2024
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ تنخواہ دار افراد کی قابل ٹیکس آمدنی کی حد کو کم کرکے ان پر اور کاروباری افراد پر ایک ہی آمدنی کی حد پر ٹیکس لگائے، جس کے نتیجے میں 333,000 روپے ماہانہ آمدنی پر 35 فیصد انکم ٹیکس کی شرح وصول کی جائے گی—آئی ایم ایف کا مقصد تنخواہ دار افراد سے مزید ٹیکس وصول کرنا ہےایکسپریس ٹربیون ، مئی 8، 2024
 مُتوّسط طبقے کے ملازمین کے لیے”تنخواہ آمدنی“[جیسا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن (2)12 میں بیان کی گئی ہے] کے معاملے میں فنانس ایکٹ، 2024 کے ذریعے ٹیکس کی شرح میں اضافہ ظالمانہ، بھتہ خور، امتیازی اور غاصبانہ تھا۔ تنخواہ دار طبقے پر موجودہ ٹیکس بلاشبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 4، 14، 18، 23 اور 25 کے لحاظ سے غیر آئینی ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کے ناقابل برداشت بوجھ ، روزمرہ استعمال اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کی تاریخی بلند ترین شرح کے سبب پاکستانی قوم ، خاص طور پر تنخواہ دار افراد کا جینا دو بھر ہو چکا ہے ۔

اب خبر یہ ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2025-26 [ بجٹ 2025]، جو جون 2025 کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے، درمیانی آمدنی والے تنخواہ دار افراد کے لیے ریلیف لائے گا۔ ہر کوئی توقع کرتا ہے کہ یہ غریب اور متوسط طبقے کو درپیش معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے بامعنی اور خاطر خواہ ثابت ہوگا۔

اس مضمون میں محنت کش تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس میں ریلیف کا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں ایک منصفانہ ٹیکس نظام تجویز کیا گیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ سرزمین پاک میں اَثر ورسوخ رکھنے والے اصل حکمران ان پر بجٹ 2025 میں غور کریں گے۔

تعلیمی اخراجات: تنخواہ دار لوگ اسکول کی سطح پر اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پر اپنی محدود تنخواہ سے کافی رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں (جو بنیادی طور پر آئین کے آرٹیکل 25 اے  کے تحت اسکول کی سطح تک ریاست کا فرض ہے)۔ یہ تنخواہ دار افراد کے تئیں ہماری حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے، جو ملک میں متوسط طبقے کی بھاری اکثریت پر مشتمل ہے۔

اس کے برعکس، ان گنت ٹیکس چھوٹ اور فوائد معاشرے کے امیر طبقے تک پہنچائے گئے ہیں۔ تنخواہ دار افراد کو اسکول کی حد تک تعلیمی اخراجات کی پوری رقم کی ٹیکس چھوٹ ملنی چاہیے بشرطیکہ وہ فیس اور دیگر اخراجات کی رسیدیں پیش کرئے ۔

حکومت کو چاہیئے کہ وہ صنعتی گھرانوں کو تعلیمی سرمایہ کاری کے لیے لبرل مراعات دے تاکہ وہ اپنے کارکنوں کو اعلیٰ ہنر مند اور تعلیم یافتہ بنا سکیں۔ ملازمین کو تعلیمی الاؤنس ٹیکس سے پاک ہونا چاہیے اور اسے مراعات کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ہم چند سالوں میں اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں اگر تعلیم سے متعلق ٹیکس فوائد کو حکومت کی ٹیکس پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا جائے۔

طبی اخراجات: صحت کی دیکھ بھال اور اس کی انشورنس ایک اور اہم شعبہ ہے جس کو لبرل ٹیکس مراعات کے ذریعے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ فی الحال، درج ذیل ٹیکس فری ہیں:

(i) ملازم کے لیے طبی علاج یا ہسپتال میں داخل ہونے یا دونوں کے لیے آجر کی طرف سے مفت فراہمی؛ یا 

(ii) میڈیکل چارجز یا ہسپتال کے چارجز یا دونوں کی ملازم کی طرف سے وصول کردہ معاوضہ، جہاں ایسی فراہمی یا معاوضہ ملازمت کی شرائط کے مطابق ہو

اوپر ٹیکس فری کی شرط یہ ہے کہ ملازم ہسپتال یا کلینک کا نیشنل ٹیکس نمبر فراہم کرے اور ساتھ ہی آجر کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ میڈیکل یا ہسپتال کے بلوں کی تصدیق کرے۔

متبادل طور پر، ملازم کی بنیادی تنخواہ کے دس فیصد سے زیادہ نہ ہونے والا کوئی بھی طبی الاؤنس نقد میں وصول کیا جائے تو ٹیکس سے مستثنیٰ ہے ، اگر ملازمت کی شرائط میں مفت طبی علاج یا ہسپتال میں داخل ہونے یا میڈیکل یا ہسپتال میں داخل ہونے کے معاوضے کی ادائیگی نہ کی گئی ۔ تاہم، اگر کوئی ملازم ان مقررہ حدوں سے زیادہ خرچ کرتا ہے، تو اسے اس پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جو کہ انتہائی ناانصافی ہے۔

ٹیکس فوائد کے ذریعے آجروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین اور ان پر انحصار کرنے والے خاندان کے افراد کو طبی سہولیات فراہم کریں۔ اس طرح کے اخراجات کو ملازمین کے ہاتھ میں نہ تو مراعات کے طور پر سمجھا جانا چاہئے اور نہ ہی قابل ٹیکس رسید کے طور پر۔ اب ملازم کے منظور شدہ فنڈ میں آجر کی طرف سے ادا کی جانے والی گریچویٹی کا %50 بھی اس کے ہاتھ میں ٹیکس ہو گا اور اس کو قابل ٹیکس آمدنی سے منہا نہیں کیا جاسکتا ، جو نہ صرف ظالمانہ، عوام دشمن بلکہ غیر آئینی بھی ہے۔ بجٹ 2025 میں اس کا تدارک کیا جانا چاہیے۔

کنوینس الاؤنس: فی الحال، کنوینس الاؤنس قابل ٹیکس ہے۔ تنخواہ دار لوگ اپنی روزی کمانے کے لیے طویل سفر کرتے ہیں۔ وہ حقیقی طور پر گھر اور دفتر کے درمیان آنے جانے پر اپنی تنخواہ میں سے کافی رقم خرچ کرتے ہیں۔ 

ٹیکس فری کنوینس الاؤنس، قیمتوں کی موجودہ سطح کے پیش نظر، 56,000روپے سالانہ ہونا چاہیے۔ 

سود سے پاک یا رعایتی قرضوں پر عدم ٹیکس: انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کا سیکشن 13(7) ملازمین کو دیئے گئے سود سے پاک یا رعایتی قرضوں سے پیدا ہونے والے تصوراتی فائدہ پر ٹیکس لگاتا ہے جو آئین کے آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 38(f) کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ شق مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل 38(f) حالیہ ترمیم کےبعد 1 جنوری 2028 سے پہلے سود کو ختم کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سنٹرل بورڈ آف ریونیو (CBR) نے 1979 کے منسوخ شدہ آرڈیننس کے تحت ایک سرکلر لیٹر 4(8)IT-J/91 مورخہ 30 جون 1991 کو جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ”...اس طرح کی تصوراتی آمدنی پر ٹیکس لگانا مناسب نہیں ہے... “ اسی پوزیشن کو بحال کیا جانا چاہیے ۔

 قابل ٹیکس آمدنی کی حد: تنخواہ دار افراد پر بے جا ٹیکس نہیں لگایا جانا چاہیے کیونکہ وہ اپنی تنخواہ کے خلاف کسی قسم کے اخراجات کا دعویٰ نہیں کر سکتے، حالانکہ وہ اس کا کچھ حصہ خالصتاً ملازمت کے مقاصد کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے معاملے میں، کم از کم قابل ٹیکس حد دوسرے افراد سے زیادہ ہونی چاہیے جو ٹیکس کی کٹوتی کی رقم کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

اس کے پیش نظر ملازم پر مجموعی قابل ٹیکس تنخواہ1,200,000 روپے تک ٹیکس نہیں لگایا جانا چاہیے۔ اور ان کے کیس میں ٹیکس سلیب درج ذیل ہونے چاہئیں:

1.  Rs. 1,200,001 to Rs. 3,000,000               5%

2.  Rs. 3,000,001 to Rs. 6,000,000               15%

3.  Rs. 6,000,001 and above                25%

تنخواہ دار طبقہ اس وقت جو وصول کرتا ہے اس سے کہیں بہتر ٹیکس ڈیل کا مستحق ہے۔ اسے ان کے بچوں کی تعلیم اور کنبہ کے افراد کی صحت کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ کنوینس الاؤنس کی مد میں مناسب ٹیکس ریلیف دیا جانا چاہئے جہاں آجر ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت فراہم نہیں کرتا ہے۔

تعلیم و صحت اور سستی ٹرانسپورٹ کی سہولیات ریاست کی ذمہ داری ہیں لیکن پاکستان میں (اور ہم اسے اسلامی جمہوریہ کہتے ہیں!) عوام ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی معمولی آمدنی سے خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ ظاہر ہے کہ ٹیکسوں کا معاشرتی اور معاشی سہولیات سے کوئی باہمی تعلق نہیں ہے جیسا کہ دنیا کی تمام سماجی جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔

تنخواہ دار افراد معاشرے میں جو حصہ ڈالتے ہیں اس کے لیے ان کی آمدنی پر جائز اور منصفانہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے اور اس سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے تمام اخراجات جو اصل میں مکمل طور پر اور خصوصی طور پر ملازمت کی کارکردگی کے لیے کیے جاتے ہیں ان کی کٹوتی کے طور پر اجازت دی جانی چاہیے۔

ایک ملازم کے طور پر کام کرنے والے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو اپنے علم کو تازہ ترین رکھنے کے لیے بہت زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے باوجود مہنگے پروگراموں اور سرٹیفیکیشنز کی لاگت کا دعویٰ کرنے کے لیے قانون میں کوئی بندوبست دستیاب نہیں ہے، اور تنخواہ کی آمدنی حاصل کرنے والے دیگر تمام پیشہ ور افراد کے لیے بھی یہی بات ہے۔

آئی ٹی انڈسٹری میں کوئی بھی اعلیٰ معاوضہ لینے والا سافٹ ویئر انجینئر، جو ملک کے لیے بہت زیادہ زرمبادلہ لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، محض موجودہ غیر منصفانہ ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے پاکستان میں کام کرنے کو تیار  نہیں۔ اس  طرح   کے  بھاری  ٹیکس  لگانے  سے   ماہرین کی  کسی  بھی  ادارے  میں  بطور  تنخواہ  دار حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔

 تنخواہ دار طبقے کے لیے موجودہ ٹیکس پالیسیوں کو معقول بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ معاشی ترقی اور سماجی ترقی میں خاطر خواہ حصہ ڈالتے ہیں اور ہمیں رجعت پسند اور غیر منصفانہ ٹیکس اقدامات سے ان کی پیداواری صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

 ٹیکس کے شعبے میں عظیم باصلاحیت آنجہانی نانی پالکھی والا نے اپنی کتاب وی دی نیشن دی لاسٹ ڈیکیڈز میں بجا طور پر کہا کہ 'بجٹ آنے والے اچھے وقتوں کا محرک ہے'، امید ہے کہ بجٹ 2025 کم از کم کچھ اہم مسائل کو حل کرے گا جو اوپر بیان کیے گئے اور مشکلات میں دبے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو بہت ضروری ریلیف فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی مخلوط حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مبینہ احکامات پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا۔ بینکنگ میں کیریئر رکھنے والے ٹیکنوکریٹ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں وزارت خزانہ نے 12 جون 2024 کو مالی سال 2024-2025 کے لیے اپنا پہلا بجٹ واضح پیغام کے ساتھ پیش کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستانیوں کو کچھ ناخوشگوار مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہے کہ طاقتور سول ملٹری بیوروکریسی، اعلیٰ عدلیہ اور سیاسی اشرافیہ نے مالی سال 2022-23 میں مراعات اور فوائد کے طور پر سرکاری خزانے سے 1800 بلین روپے وصول کئے ۔ یہی نہیں، ان طاقتور طبقات نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 13(11) کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے، مفت یا رعایتی شرحوں پر حاصل ہونے والے فوائد پر ٹیکس کے طور پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کا سیکشن 13(11) کہتا ہے:

”جہاں، ٹیکس کے سال میں، جائیداد کی منتقلی یا خدمات کسی آجر کی طرف سے ملازم کو فراہم کی جاتی ہیں، اس سال کے لیے “تنخواہ” کے عنوان کے تحت ملازم پر ٹیکس کے لیے قابل وصول رقم میں جائیداد یا خدمات کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو شامل ہو گی جو پراپرٹی کی منتقلی یا خدمات فراہم کیے جانے کے وقت طے کی جاتی ہے، جیسا کہ ملازم کی طرف سے جائیداد یا خدمات کے لیے کی جانے والی کسی بھی ادائیگی سے کم ہوتی ہے۔ “

انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کا سیکشن 39(1)(j) درج ذیل کو ٹیکس کے قابل انکم کے طور پر قرار دیتا ہے:

”کسی بھی فوائد کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو، چاہے وہ رقم میں تبدیل ہو یا نہ ہو، جائیداد کی فراہمی، استعمال یا استحصال کے سلسلے میں موصول ہوئی ہے“۔

دوسری بار وزیر اعظم بننے والے شہباز شریف کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعووں کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اپنے من پسندیدہ چیئرمین کو ان تمام سرکاری ملازمین سے واجب الادا ریونیو کی وصولی کا حکم دینے میں ناکام رہے جنہوں نے پلاٹ یا زمینیں یا کوئی اور فائدہ مفت یا رعایتی شرح پر حاصل کیا تھا۔ وہ ایسے فوائد کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 13(11) اور سیکشن 39(1)(j) کے تحت واجب الادا ٹیکس ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ شہباز شریف نے آج تک اس بات کی بھی تحقیقات کا حکم نہیں دیا کہ BS 20-22 کے کتنے افسران انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ II کی شق (27) کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ساتھ ہی سرکاری ٹرانسپورٹ کے استعمال پر 5 فیصد کی کمی کی شرح سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کو معلوم کرنا چاہیے کہ قانون کے غلط استعمال کا یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کے علم میں کیوں نہیں لایا گیا۔

 ایف بی آر کے حکام نے وزیر خزانہ کو اس شق سے آگاہ کیوں نہیں کیا جس سے گریڈ 20 سے 22 کے افسران کو فائدہ ہوتا ہے؟ واضح طور پر آئی ایم ایف پر حکومت کو تمام ٹیکس قوانین کے تحت مراعات یافتہ طبقوں کو دستیاب تمام ٹیکس چھوٹ، رعایتیں اور چھوٹ ختم کرنے پر مجبور کرنے پر کوئی دباؤ نہیں ہے ورنہ ایسا ہو چکا ہوتا— مالی سال 2023-24 میں حکومت ٹیکس اخراجات کو کم کرکے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی تھی جو کہ تقریباً 4 ٹریلین روپے  تک پہنچ چکا تھا ۔

1991 سے، پاکستان میں انکم ٹیکس کو بڑی حد تک بالواسطہ ٹیکس میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ امیروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے- یہ نواز شریف نے کیا اور اس کے بعد مرحوم جنرل پرویز مشرف سمیت تمام حکومتوں نے اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں برقرار رکھا۔ فرضی (presumptive) اور کم از کم (minimum ) ٹیکس، حقیقت میں، بالواسطہ ٹیکس ہے۔ مثال کے طور پر، ایک ٹھیکیدار کنٹریکٹ کی مجموعی قیمت پر انکم ٹیکس کی مقررہ شرح ادا کرتا ہی ہے — یہ بوجھ انکم ٹیکس پیشگی منہا کرنے والے پرہے جس کو وہ ایف بی آر میں جمع کرتا ہے۔ اسی رقم پر سیلز ٹیکس صوبے کو ادا کیا جاتا ہے ۔ اس طرح، معاہدہ کرنے والا مجموعی قیمت پر ٪30-٪35 ٹیکس ادا کرتا ہے!

کسی بھی جمہوریت میں، ریاست اپنی آئینی ذمہ داری کے طور پر اپنے تمام شہریوں کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کی پابند ہے، جس کی وضاحت سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہلا ضیاء بمقابلہ واپڈا (PLD 1994 SC 693) میں کی ہے۔ اس کی پابندی آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت تمام حکومتی اداروں اور عدالتوں پر لازم ہے۔ اگر حکومت سب کے لئے صحت کا انتظام نہیں کر سکتی تو اپنے ملازم کو مفت صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے یا بنیادی تنخواہ کا ٪10 فکسڈ میڈیکل الاؤنس دینے والے آجروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور انہیں مزید ٹیکس مراعات دی جائیں اگر وہ خود ہسپتال بناتے ہیں ۔

بنیادی انسانی حقوق اور زندگی کے تحفظ کا کیا ذکر، ہماری حکومتیں تو تنخواہ دار افرد ، خود ملازمت افراد یا محدود/مقررہ آمدنی کے ذرائع کے حامل افراد کے لیے بھی رجعت پسند بالواسطہ ٹیکسوں کا نفاذ جاری رکھے ہوئے ہیں ، جن کے اثرات، خاص طور پر یوٹیلٹیز، کھانے پینے کی اشیاء (دودھ سمیت)، روزمرہ استعمال کی اشیاء، ادویات اور تعلیمی آلات پر، تباہ کن ہیں ۔ اس سے بِلا خوف تردید یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا نفاذ انتہائی عوام دشمن، کاروبار مخالف اور ترقی کے خلاف ہے۔ بلا شبہ یہ غریب، متوسط طبقے اور اب اعلیٰ متوسط طبقے کے لیے بھی تباہ کن ہے۔

جو چیز صورتحال کو مزید تکلیف دہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ٹیکس فری الاؤنسز، مراعات یافتہ طبقے کو ملنے والے ٹیکس استثناء  کو نہ صرف برقرار رکھا جاتا ہے بلکہ مدت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ مراعات یافتہ افراد طفیلی  ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے پروان چڑھتے ہیں اور/یا مہنگے ادھار کی رقم کے ذریعے جن کی مالی اعانت فراہم کرتے ہیں، سب کا بوجھ بالآخر عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 12(2)(f) میں تنخواہ کی تعریف میں پنشن شامل ہے، اس طرح یہ عام شرحوں پر قابل ٹیکس ہے۔ تاہم، شق (8)، (9)، (12) اور (13)، انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے دوسرے شیڈول کے حصہ اول میں مسلح افواج کے ارکان، سرکاری ملازمین اور ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں کے ہاتھ میں بغیر کسی حد کے مستثنی پنشن یا اس کی کمیوٹیشن، شامل ہیں، چاہے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت یا آمدنی کے کسی دوسرے ذرائع سے بھی زیادہ لطف اندوز ہوں۔

عام شہریوں کے لیے، پنشن مستثنیٰ ہے، اگر کسی سابق آجر سے موصول ہوئی ہو، اس کے علاوہ جہاں وہ شخص آجر (یا آجر کے ساتھی) کے لیے کام جاری رکھے۔ ایسی صورت میں جہاں فرد کو ایسی ایک سے زیادہ پنشن ملتی ہے، چھوٹ صرف موصول ہونے والی زیادہ پنشن پر لاگو ہوتی ہے۔

حکومت امیر مستثنیٰ پنشنرز پر ٹیکس لگا کر بجٹ 2024 میں تنخواہ دار افراد پر بے تحاشا انکم ٹیکس سے بچ سکتی تھی [ایف بی آر کی ٹیکس اخراجات کی رپورٹ 2024 کے مطابق اس کی کل لاگت مالی سال 2024 میں 78.34 بلین روپے تھی]۔ تنخواہ دار طبقے میں برابری لانا بھی ضروری ہے ۔

 رواں سال کے وفاقی بجٹ میں پنشن کے لیے1014 ارب روپے مختص کیےگئے، جس میں سے662 ارب روپےفوج کے لیے اور220 ارب روپے سول ملازمین کے مختص کیے گئے ۔اس کے علاوہ 122 ارب روپے  کا اضافہ دیکھایا گیا!

بدقسمتی سے، پاکستان میں، ٹیکسوں کا بوجھ کم مراعات یافتہ طبقوں، خاص طور پر سفید پوش تنخواہ دار افراد اور مقررہ آمدنی والے نچلے اور متوسط طبقے کے افراد پر مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، امیر اور طاقتور معمولی رقم ادا کر رہے ہیں۔ ملیٹرو جوڈیشل کمپلیکس کے ارکان اور ارکان پارلیمنٹ غیر معمولی ٹیکس فری مراعات اور فوائد سے لطف اندوز ہو رہے ہیں—ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے اس بے رحمانہ ضیاع کے بارے میں کوئی نہیں بولتا۔

تنخواہ دار لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی تنخواہ سے بڑی رقم اپنے سکول جانے والے بچوں کی تعلیمی ضروریات پر خرچ کریں (جو بنیادی طور پر آئین کے آرٹیکل 25 اے  کے تحت ریاست کا فرض ہے) اور اس کے باوجود پوری رقم کے لیے ٹیکس کریڈٹ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن D 60 کے تحت دستیاب نہیں ہے اور قابل ٹیکس آمدنی کی حد 1.5 ملین روپے تک محدود ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے کے تئیں ہماری حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے جو ملک میں متوسط طبقے کی بھاری اکثریت پر مشتمل ہے۔ 

اس کے برعکس، ٹیکس میں چھوٹ اور فوائد معاشرے کے امیر طبقے تک پہنچائے گئے ہیں۔ اس سے موجودہ حکومت کے ان دعوؤں کے کھوکھلے پن کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ ملازمین پر ٹیکسوں کا بوجھ نہ بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور تمام شہریوں کی تعلیم اور صحت کو ترجیح دینے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے ہیں۔ حقیقت کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے جیسا کہ اوپر بحث کی گئی ہے۔

تنخواہ دار افراد کے لیے زیادہ ٹیکس سلیب اور رجعت پسند ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا اثر تمام ملازمین بشمول پبلک سیکٹر کے ملازمین کو متاثر کر رہا ہے، تنخواہ میں اضافے کو کالعدم قرار دے رہا ہے۔ لیکن گریڈ 20-22 کے لوگ اب بھی انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے دوسرے شیڈول کے حصہ II کی شق (27) کے تحت خصوصی رعایت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے: “سرکاری ملازمین کے لیے BS-20 سے BS-22 میں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لازمی منیٹائزیشن کے تحت ادائیگیوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے گی۔% 5 آمدنی کے الگ بلاک کے طور پر۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف لاکھوں تنخواہ دار افراد جن کی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے، وہ اپنے زیر کفالت بچوں کی تعلیم کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں، ان پر ظلمانہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، خصوصی عدالتی الاؤنس سمیت تمام الاؤنسز، نیز ہمارے اعلیٰ عدلیہ اور ہائی کورٹس کے اعلیٰ تنخواہ دار ججوں کی پنشن کے متعدد فوائد انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001کے شیڈول II ، پارٹ I کی شق (55) اور (56) کے تحت مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں! اس طرح کی ٹیکس چھوٹ افواج پاکستان کے سربرہان کو بھی کی شق (15) اور (25) میں حاصل ہے!! 
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی دفعہ 13(11) اور 39(1)(j) کا تقاضا ہے کہ کسی بھی ملازم کو مفت یا رعایتی شرح پر فراہم کردہ کسی بھی فائدے کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو اس کی آمدنی میں شامل کی جائے۔ ریاست کے نام نہاد خادموں سے اربوں کے ریونیو کی وصولی، جنہوں نے مفت یا رعایتی پلاٹ یا زمینیں یا کوئی اور فائدہ حاصل کیا ،اور معاشرے کے طاقتور طبقوں کو دستیاب اربوں روپے کی چھوٹ واپس لے کر، غریبوں اور ناداروں کو ٹارگٹ ریلیف دینے کے لیے خاطر خواہ وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں، نیز بجٹ میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس کی شرح میں خاطر خواہ کمی کی جا سکتی ہے۔

مزیدخبریں