بظاہر پاکستان ' استخراجی ریاست' کی تعریف پر پورا اترتا ہے جو، ماہر معاشیات جیمز کے گالبریتھ کے مطابق، "ایک ایسا سیاسی نظام ہے، جس میں اشرافیہ کا ایک محدود گروہ اپنے مفاد کے لئے پالیسی سازوں کا استعمال کرتا ہے، جب کہ باقی آبادی اس کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔ یہ ہی ہماری ریاست کی اصلیت کو بے نقاب کر رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک ناکام ریاست کی علامت ہے" — ایک استخراجی ریاست، زاہد حسین، ڈان، 26 مارچ 2025
پاکستان کی موجودہ سیاسی، سماجی، معاشرتی اور اقتصادی زبوں حالی کی ذمہ دار طفیلی اوراستخراجی اشرافیہ — فوجی-عدالتی-افسر شاہی گٹھ جوڑ، کاروباری سیاستدان، ملا، پیر اور غیر حاضر جاگیردار — ہے۔ ملک کو قرضوں کی بھیانک دلدل میں دھکیل کر فوجی اور سول حکومتیں، عالمی مالیاتی اداروں سے بھیک طلب، ہر نئی قسط ملنے پر جشن منانے کے ساتھ، جلد 'خود انحصاری' کی منزل حاصل کرنے کے دعوے کرتی رہی ہیں۔ اس سے بڑی خود فریبی اور صنعت تضاد (oxymoron) کیا ہو سکتے ہیں۔
ہم ہمیشہ سے نظام محصولات کی اصلاح کے نام پر عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک سے قرضوں کے حصول کا ذکر سنتے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اشرافیہ (State Oligarchy) فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کا استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے لاتعداد اور غیر معمولی ٹیکس چھوٹ حاصل کرتی رہی ہے۔
ایف بی آر کو مکمل طور پر غیرموثر کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ طاقتور طبقوں کی آمدنی اور اثاثوں پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس پر ظالم یہ ہے کہ ریاستی اشرافیہ کے ارکان ٹیکس دہندگان کے بل بوتے پر عیش و عشرت کی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ریاستی اشرافیہ کو مفت عالیشان رہائش اور ملازمین، یوٹیلیٹیز اور مراعات، مہمان خانوں، کلب اور گولف کورس، پلاٹ اور بیرون ملک طبی علاج جیسی سہولتیں حاصل ہیں۔
ریاستی اشرافیہ کی عیش وعشرت کی خاطر عوامی فنڈز کا استعمال اور ان کی بہت سی منافع بخش سرگرمیوں کو ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کوبھاری بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کےجج صاحبان، جنرلز اورافسر شاہی کو حاصل ٹیکس مراعات کے نتیجہ میں tax expenditure میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ ان مراعات کو جاری رکھنے کے لئے حکومت بھاری سود پر مقامی بینکس سے قرضے حاصل کرتی ہے۔
ٹیکس مراعات کے خاتمے کے نتیجے میں ٹیکس شرح کا کل قومی پیداوار میں معقول اضافہ ممکن ہے۔ یہ شرح مالی سال 2024 میں محض 9.5 فیصد تھی اور رواں مالی سال کی پہلے چھ ماہ میں 4.9 فیصد۔
ریونیو کریسی، بین الاقوامی قرض دہندگان اور عطیہ دہندگان، تجزیہ کاروں، ٹی وی اینکرز، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں میں مقبول، 'پاکستانی ٹیکس ادا نہیں کرتے'، بار بار دہرائی جانے والی یہ دلخراش داستان جھوٹی اور فریب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قابل ٹیکس آمدنی سے کم آمدنی والے غریب اور متوسط تنخواہ دار افراد جابرانہ بالواسطہ ٹیکسوں کا شکار ہیں۔ موبائل کے استعمال پر 19.5 فیصد صوبائی سیلز ٹیکس اور 15فیصد پیشگی انکم ٹیکس ادا کرنے کے علاوہ وہ روزانہ استعمال کی اشیا جیسے آٹا، چاول، چینی، نمک وغیرہ (برانڈز کے تحت فروخت) پر 18 فیصد وفاقی سیلز ٹیکس اور اب 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کے طور پر بھی برداشت کر رہے ہیں۔
یہاں تک کہ غریب سے غریب ترین افراد بھی جو بینظیر انکم سپورٹ حاصل کر رہے ہیں، بطور پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ موبائل صارفین، صوبوں کو خدمات پر 19.5% سیلز ٹیکس کے علاوہ 15% ایڈوانس ایڈجسٹ انکم ٹیکس اور 75%، ان کی صورت میں جو انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 114B کے تحت جاری کردہ جنرل آرڈر میں درج ہیں، ادا کر رہے ہیں۔
145 ملین براڈ بینڈ اور انٹرنیٹ صارفین یوٹیلیٹی بلوں کے ساتھ بلا واسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا بے تحاشہ ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود ہمارے حکمرانوں کی جرآت ہے کہ قوم کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ وہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں سنجیدہ ہیں۔ انہیں تو عالمی سطح پر آئی سی ٹی اشیا کی نوعیت اور حقیقی حجم کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کہ عالمی سپلائی کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے!
جہاں عوام، بالخصوص متوسط طبقے کے تنخواہ دار افراد اور کارپوریٹ سیکٹر، کو ظالمانہ ٹیکسوں کے نیچے کچلا جا رہا ہے، وہیں ہماری استخراجی ریاست کی طفیلی اشرافیہ ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی پر پھل پھول رہی ہے۔
عام طور پر میڈیا معیشت اور ریاستی اداروں کو تباہ کرنے میں طفیلی اشرافیہ کے مکروہ کردار کو بے نقاب کرنے کی طرف مائل نہیں ہے۔ میڈیا مالکان اور اینکرز استحصالی نظام کے مستفید ہونے کے ناطے کھوکھلے ٹاک شوز کے ذریعے عوام کی توجہ غیر اہم مسائل کی طرف مبذول کرواتے ہیں۔
طفیلی اشرافیہ کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے: ذاتی مفاد کا تحفظ اور طاقت کو قائم رکھنے کے لئے حصول زر۔ ان کے ہاتھوں میں طاقت اور دولت کے ارتکاز، کنٹرول کی ہوس نے دائمی ادارہ جاتی تصادم، سماجی بدامنی اور معاشی تفاوت کو جنم دیا ہے۔
اراکین پارلیمان (قانون سازوں)، ریاستی عہدیداروں (منتظمین) اور بے ایمان تاجروں (قانون توڑنے والوں) کے درمیان اتحاد ہماری بہت سی برائیوں کی جڑ ہے، جن میں سیاسی طور پر محرک قرضوں کی معافی اور ملک سے سرمائے کی اڑان نے عوام کو معاشی ابتری میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس عوام دشمن اتحاد کی وجہ سے قومی خزانہ کو سالانہ اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
چونکہ امیر اور طاقتور لوگ واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لئےرجعت پسند ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جس سے غریب، متوسط طبقے اور مقررہ تنخواہ دار ملازمین کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایک طرف، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب بہت ہی کم ہے، اور دوسری طرف، وصولی کا بڑا حصہ غیر پیداواری اخراجات یعنی ریاستی مشینری اور اشرافیہ کی عیش و عشرت کے لئے بے دردی سے ضائع کر دیا جاتا ہے۔ جلتی پہ تیل کا کام کرتے ہوئے، پچھلے تین سالوں میں ٹیکس کے اخراجات (tax expenditure) اوسطاً 3.5 ٹریلین روپے تھے — اس سال یہ اخراجات 4 ٹریلین روپے سے تجاوز کر جائیں گے!
جو چیز صورتحال کو مزید تکلیف دہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ طفیلی اشرافیہ انعامات اور انعامات کے بہانے (مفت یا غیر معمولی قیمتوں پر) ریاستی املاک حاصل کرتے ہیں اور اس پر کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے ہیں۔ عوام سے بے رحمی سے اکٹھا کیا جانے والا ٹیکس ریاستی اشرافیہ کی عیش و عشرت پر خرچ کیا جاتا ہے — شاہی بنگلے، گاڑیوں کے بیڑے، نوکروں کی فوج، غیر ملکی دورے اور کیا نہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ جن شہریوں کی آمدنی انکم ٹیکس قانون کے تحت قابل ٹیکس حد سے بھی نیچے آتی ہے ان پر ود ہولڈنگ ٹیکس نظام کی چالاکی سے بنے ہوئے جال کے ذریعے مجرمانہ طور پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ان کی محنت سے کمائی گئی رقوم لوٹی جاتی ہیں جو ریاستی اشرافیہ کی آسائشوں پر ضائع ہوتی ہیں، جب کہ طفیلی اشرافیہ (سرکاری ملازمین) انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 13(11) اور سیکشن 39(1) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مفت یا رعایتی فوائد اور الاٹ کیے گئے پلاٹوں پر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (2008-13) کی حکومت کے دوران، ایف بی آر کے ایک سابق ممبر نے اس وقت کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ایک خط لکھا تھا کہ رعایتی فوائد اور سرکاری املاک کی الاٹ پر ٹیکس نہ لگنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری/ریونیو کا نقصان ہوا ہے۔ جیسا کہ توقع کی تھی، اس شکایت پر عبدالحفیظ شیخ نے کوئی کارروائی نہیں کی، اور یہی بے حسی کا معاملہ 2013 میں جب محمد اسحاق ڈار نے اقتدار سنبھالا، تب بھی رہا۔
2018 میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کے خاتمے کے قریب مفتاح اسماعیل نے بھی اس کو نظر انداز کیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بھی خصوصی بریفنگ کے باوجود معاملے کا جائزہ لینے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ اسد عمر کے بعد دوبارہ عبدالحفیظ شیخ اور پھر شوکت ترین کا بھی یہی حال تھا کہ ریاستی اشرافیہ کو ٹیکس کی چھوٹ حاصل رہے۔
اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کے وزرائے خزانہ نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہی حال موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا بھی ہے۔
2009 سے اب تک ایف بی آر کے تمام سربراہان بھی اس معاملے پر خاموش رہے۔ موجودہ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ سول سروسز میں اپنے امیر اور طاقتور ساتھیوں کو پکڑنے میں کم ہی دلچسپی لیں گے، ان سے طاقتور فوجی افسران اور اعلیٰ عدلیہ کے ارکان سے سرکاری زمینوں سے فائدہ اٹھانے والوں سے نہ حاصل کردہ ٹیکس کی وصولی کی کیا تَوقع کی جا سکتی ہے!
پنجاب میں خود ساختہ خادم اعلیٰ کے تحت اور بعد میں مرکز میں ان کے منظور نظر کے طور پر منافع بخش عہدوں پر فائز مسٹر لنگڑیال نے تمام بینکوں کے شائع شدہ اعداد و شمار کی دستیابی کے باوجود کبھی بھی فیلڈ افسران سے قرضوں کی معافی سے فائدہ اٹھانے والوں سے اربوں کا ٹیکس وصول کرنے کے لئے کہنے کی زحمت نہیں کی۔ تاہم، وہ بہت زیادہ جوش و خروش سے بینکوں سے ناجائز ٹیکس وصول کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اربوں کا ایڈوانس بھی، جو ابھی تک واجب الادا نہیں ہے!
وزیر اعظم شہباز شریف نے بینکوں سے ونڈ فال (windfall) ٹیکس کی وصولی پر نہ صرف مسٹر لنگڑیال کی تعریف کی ہے بلکہ انٹیلی جنس بیورو کے ڈی جی اور ڈی جی ایف آئی اے سمیت بہت سے افسران کی بھی تعریف کی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انٹیلیجینس ایجنسیز نے ریکوری اور سازگار فیصلے کے لئے کیا کردار ادا کیا ہو گا؟
مسٹر لنگڑیال، لمبے چوڑے دعووں کے باوجود، آمدنی/اثاثوں کو کم بتانے والے تقریباً 40 لاکھ انتہائی امیر افراد (ان میں سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں اور تاجروں کے علاوہ بیوروکریسی میں ان کے ساتھی بھی شامل ہیں) سے درست ٹیکس حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آج تک وہ 20 لاکھ شہریوں سے، جو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، انکم ٹیکس ریٹرن داخل کروانے میں بھی ناکام رہے ہیں، پھر ان سے ریاستی اشرافیہ کے انتہائی امیر اور طاقتور ارکان پر ٹیکس لگانے کی کیا بات کی جائے۔
عوام نے 2018 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا تاکہ وہ طاقتور اشرافیہ اور ٹیکس چوروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں، لیکن اس پارٹی نے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح بے حسی سے کام لیا، اور ریاستی اشرافیہ کا تحفظ کیا، جو اپنے مفاد کے لئے ان کی مدد کررہی تھی۔
2008 میں نام نہاد جمہوری حکمرانی کے احیا کے بعد، شہریوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ PPP اور PMLN کے ادوار میں ایف بی آر نے ٹیکس نادہندہ منتخب اراکین پر کیوں ہاتھ نہیں ڈالا (ان میں سے 99% نے ٹیکس سال 2013 کے لئے انکم سپورٹ لیوی بھی ادا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی، جو اسحاق ڈار نے لگایا، لیکن اگلے ہی سال اسے ختم کر دیا تھا)۔
2009 کے بعد سے تمام سویلین حکومتیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 39(1)&(j) اور سیکشن 68 کے ساتھ پڑھے گئے سیکشن 13(11) کے تحت اپنی ٹیکس ذمہ داریوں کو رضاکارانہ طور پر ادا نہ کرنے پر طاقتور فوجی اور سول ملٹری افسران سے واجب الادا ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر بحالیِ جمہوریت کے بعد وہ ایسا کر پاتے تو ریاستی اشرفیہ بلکہ سب کے لئے ایک موثر پیغام ہوتا کہ منتخب حکومتیں احتساب میں سنجیدہ ہیں، اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ وہ خود درست ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں تھے تو اوروں پر کیا نفاذ کرتے؟
چونکہ معاشرے کے طاقتور طبقے واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کر تے رہے ہیں، اس لئے عام لوگ اپنی ٹیکس ذمہ داریوں کی ادائیگی کے خلاف بحث کرتے ہیں، خاص طور پر جب ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، ایسے میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، رہائش، نقل و حمل وغیرہ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کی کیا بات کی جائے۔
مملکت خداداد میں ریاستی اشرافیہ کے طاقتور ارکان محل نما گھروں میں مفت سہولیات کے ساتھ رہتے ہیں، گالفنگ اور کلب لائف کی مفت اور/یا رعایتی سہولیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں — یہ سب کچھ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ہوتا ہے، جب کہ غریب اور نادار بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تقریباً 120 ملین افراد بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جیسے پینے کا صاف پانی، سیوریج وغیرہ۔
نہ صرف یہ کہ طاقتور اور مراعات یافتہ طبقات پلاٹوں اور دیگر فوائد پر ٹیکس ادا نہیں کرتے، ایک مخصوص گروہ کے اندر صریح ٹیکس امتیاز (discrimination) موجود ہے۔ مثال کے طور پر، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کا اعلیٰ عدالتی الاؤنس اور تقریباً تمام الاؤنسز، مراعات اور پنشن انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ I کی شق (56) کے تحت مستثنیٰ ہیں، جب کہ ماتحت عدلیہ کے ججوں کا وہی جوڈیشل الاؤنس قابل ٹیکس ہے۔ کیا یہ صریح امتیاز، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کی بنیاد پر کارروائی کا مطالبہ نہیں کرتا؟
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز، بنیادی حقوق کے محافظ، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انصاف اور مساوات کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ تاہم، حقیقی زندگی میں، انہوں نے کبھی بھی اپنے ماتحت ججوں کے لئے جوڈیشل الاؤنس کے لئے ٹیکس معافی کی زحمت گوارا نہیں کی، جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ صرف امید ہی کی جا سکتی ہے کہ آنے والے وفاقی بجٹ میں، موجودہ وزیر خزانہ طفیلی اشرافیہ کے لئے دستیاب تمام ٹیکس چھوٹ ختم کر دیں گے!