پاکستان کیوں بنا؟ جناح، ہندو مسلم دشمنی اور تقسیم کی اصل کہانی

ہندو کا یقین یہ تھا کہ لاہور ہندوستان کو جائے گا اور مسلمان کا یہ تھا کہ امرتسر پاکستان میں آئے گا۔ 21 اور 22 جون 1947 کو لاہور شاہ عالمی گیٹ کو جہان ہندو رہتے تھے، آگ لگا دی جاتی ہے۔ اسکے بعد ہزاروں کی تعداد میں ہندو اور سکھ یہاں سے بھاگے۔ پھر بھی یہ لوگ یہ ہی سوچ رہتے تھے کہ ہم یہاں اکھٹے رہ سکیں گے

11:46 PM, 27 Aug, 2026

محمد شہزاد

(مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔)


پروفیسر اشتیاق احمد کا نواں وی لاگ: تقسیم ہند اور ہندو

 خلاصہ: محمد شہزاد

وہ کیا منطق تھی جس کی وجہ سے پاکستان بنا۔ وہ تھی ہندو کو مسلمان سے علیحدہ پیش کرنا۔ جناح کا 22 مارچ 1940، لاہور کا خطاب، اور اگلے دن قرارداد لاہور دیکھتے ہیں، جس کے مطابق ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں، جن میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کی دشمن قومیں ہیں۔ ایک ایک کر کے جناح نے یہ باتیں اس خطاب میں کیں جو درحقیقت چوہدری رحمت علی کے خیالات تھے مگر جناح صاحب نے یہ باتیں ایسے کیں جیسے یہ ان کی اپنی سوچ ہے۔ چوہدری رحمت کو انہوں نے کوئی کریڈٹ نہ دیا۔

یہ باتیں اٹھتے بیٹھتے کر کر کے مسلمانوں کو ہندووں سے خوفزدہ کیا گیا کہ متحدہ ہندوستان میں اسلام ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا نام تک باقی نہ رہے گا۔ اس لیے پاکستان بچاؤ اگر اسلام کو بچانا ہے۔

تشدد سیاست کا حصہ تب بنا جب جناح نے کلکتہ میں ڈائریکٹ ایکشن، 1946 شروع کروایا جس کے بعد ایک ناختم ہونے والے مسلم ہندو فسادات شروع ہو گئے۔ اس طرح تشدد باقاعدہ سیاست کا حصہ بن گیا۔ آزادی کے بعد بھی کئی مہینوں تک قتل عام ہوتا رہا۔ انگریز نے بہت کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح سے کیبنٹ مشن پلان کامیاب ہو جائے۔ ایک کمزور مرکز قائم ہو جائے۔ ساری پاور صوبوں کے پاس ہو۔ اور تینوں فریق دس سال بعد جب چاہیں اس پلان سے علیحدہ ہو جائیں۔ اور متحدہ ہندوستان ایک دفاعی معاہدے کے تحت انگریز کے ماتحت رہے۔ لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔


آٹھویں ولاگ کا خلاصہ یہاں پڑھیے: مودودی اور قیامِ پاکستان: ’ناپاکستان‘ سے اسلامی ریاست تک


اس کے بعد منظر پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن آ جاتا ہے۔ وہ سب سے بات کر کے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ متحدہ ہندوستان ناممکن ہے۔ ادھر سے 20 فروری 1947 میں (ماؤنٹ بیٹن کے آنے سے ایک مہینے پہلے)  انگریز حکومت یہ اعلان کر دیتی ہے کہ جون 1948 تک ہم ٹرانسفر آف پاور کر دینگے۔ مہا سبھا کہتی تھی کہ اگر ہندوستان تقسیم ہوا تو بنگال بھی تقسیم ہو گا۔ ان حالات میں 3 جون کا تقسیم پلان آ جاتا ہے۔ سب سے پہلے ماؤنٹ بیٹن تقریر کر کے بتاتا ہے کہ 400 ملین لوگ صدیوں سے اکھٹے رہ رہے تھے۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ یہ متحد رہیں۔ اس کے بعد پنڈت نہرو نے کہا کہ ہم نے کوشش کی تھی کہ ایک اور طرح کا ہندوستان آزاد ہو لیکن ہم ناکام ہو گئے۔ لہٰذا ہم تقسیم ہند کو مانتے ہیں۔ اس کے بعد جناح بولے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا شکریہ ادا کیا۔ پھر سکھوں کی طرف سے سردار بلدیو سنگھ بولے۔ انہوں نے کہا یہ تقسیم سکھوں کو بہت نقصان پہنچائے گی۔ اس کے بعد پنجاب اور بنگال اسمبلیوں نے تقسیم کا اعلان بھی کر دیا۔ ریڈ کلف ایوارڈ کے مطابق حد بندی بھی ہو گئی۔

3 جون، 1947 پلان کے مطابق مغربی بنگال میں 21 فیصد اور مشرقی بنگال میں 28 فیصد ہندو ہونے تھے۔ ہندو کا یقین یہ تھا کہ لاہور ہندوستان کو جائے گا اور مسلمان کا یہ تھا کہ امرتسر پاکستان میں آئے گا۔ 21 اور 22 جون 1947 کو لاہور شاہ عالمی گیٹ کو جہان ہندو رہتے تھے، آگ لگا دی جاتی ہے۔ اسکے بعد ہزاروں کی تعداد میں ہندو اور سکھ یہاں سے بھاگے۔ پھر بھی یہ لوگ یہ ہی سوچ رہتے تھے کہ ہم یہاں اکھٹے رہ سکیں گے کیونکہ جناح انگریز ٹائپ آدمی ہیں۔ سیکولر انسان ہیں۔ شراب پیتے ہیں۔ سور کھاتے ہیں۔ برج نارائین جو بہت مشہور معیشت دان تھے، انہوں نے ایک کتاب بھی لکھ ڈالی کی پاکستان بننا چاہیے۔ ہندو یہاں رہ سکیں گے۔ لیکن اگست میں انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد جتنے بھی ہندو اور سکھ تھے وہ یہاں سے بھاگ گئے۔ فکر تونسوی اور گوپال مٹھل نے اس پر لکھا بھی ہے کہ برج نارائن کے بعد ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ تقریباً سب ہندو اور سکھ مغربی پنجاب سے چلے گئے۔

چند اعلی ذات کے ہندو ابھی بھی لاہور میں ہیں۔ ان کے مندر بھی ہیں۔ راوی روڈ پر ان کے شمشان گھاٹ بھی ہیں۔ چند ہزار ہندو ہیں لاہور میں جو تقریباً چھپ کر رہتے ہیں۔

مشرقی پاکستان میں ہندووں پر حملے 1948 میں شروع ہوئے۔ سردار پٹیل اور پر ایک جنگ شروع کرنا چاہتے تھے جو نہرو نے رکوا دی۔ پھر 1950 میں فسادات ہوئے۔ اس کے بعد 28 فیصد ہندو کم ہوتے ہوتے 12 فیصد رہ گئے۔ اس وقت قریب آٹھ فیصد ہندو ہیں۔

کانگرس کی حکومت نے بھارت کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا۔ اور ہم نے ہندووں کو پاکستان سے بھگا دیا۔ اسی طرح جب سرحد میں کانگرس کی حکومت ختم ہوئی، خدائی خدمت گار والی، اور قیوم خان کو اختیارات ملے تو اس نے ہندووں پر حملے شروع کر دیے۔ سرحد سے ہندو بھاگ گئے۔ بلوچستان میں سرداروں نے حملے نہیں ہونے دیے۔ یہاں ہندو بہت ہی کم تھے اور سب ہی انڈیا ہجرت کر گئے۔

پاکستان تو اسی بنیاد پر بنا یہ مسلمان ہندو کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ لہذا ہم ہندو کے ساتھ اچھا برتاؤ کیسے کر سکتے تھے؟

مزیدخبریں