فیصل واؤڈا اور مصطفی کمال کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری، ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ طلب

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک کام کرنا ہے کہ ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ آپ نے بڑی جدوجہد کر دی تقریر کر کے۔ لیکن بہتری کیلئے کوئی بھی تحریری طور پر نہیں جاتا۔ فیصل واؤڈا کے بعد مصطفٰی کمال بھی سامنے آ گئے۔ دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں تو ایوان میں بولتے۔ ایسی گفتگو کرنے کیلئے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں پتا ہے ہمارا انڈیکس میں نمبر 137 یا جو بھی ہے۔ ہمیں پتہ ہے ہماری عدلیہ کون سے نمبر پر ہے۔ گالیاں دینا مناسب نہیں۔ ہر چیز پر حملہ نہ کریں۔ آپ ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔

فیصل واؤڈا اور مصطفی کمال کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری، ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ آف پاکستان نے متنازع پریس کانفرنسز کرنے پر سینیٹرفیصل واؤڈا اور رہنما متحدہ قومی موومنٹ مصطفٰی کمال کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے 5 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کا ادارہ ہے آپ اس کا وقار کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تنقید کرنی ہے تو سامنے آکر کریں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپلیمنٹری کیس کی سماعت کی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ میں شامل ہیں۔ 

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے فیصل واؤڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کر لیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ کے روبرو پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی؟ توہین عدالت ہوئی یا نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مجھے جو ویڈیو ملی ہے اس کے متعلقہ حصے میں آواز نہیں تھی۔ کچھ حصہ خبروں میں سنا ہے۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ پریس کانفرنس توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے؟ کوئی مقدمہ اگر عدالت میں زیر التوا ہو تو اس پر رائے دی جا سکتی ہے؟ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا۔ میرے نظر انداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں۔ لیکن کیا آپ اداروں کی توقیر کم کرنا شروع کر دیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ وکلا ججز اور صحافیوں سب میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ برا کیا ہے تو نام لے کر مجھے کہیں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہوسکتا ہے میں نے بھی اس ادارے میں 500 نقائص دیکھے ہوں۔ کیا ایسی باتوں سے آپ عدلیہ کا وقار کم کرنا چاہتے ہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے عوام کے ہوتے ہیں۔ اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں۔ اداروں میں کوتاہیاں ہوسکتی ہیں۔ میں کسی اور کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بتائیں، تنقید کریں۔ ہم ہر روز ہم اچھا کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عمل کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جس کے پاس دلائل ہوں گے وہ ہم ججز کو بھی چپ کرا دے گا۔ میں نے اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ ادارے کیلئے حلف لیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چیخ و پکار کر کے اپ ادارے کی خدمت کر رہے ہیں؟ میں مارشل لاء کی توثیق کرنے والوں کا کبھی دفاع نہیں کروں گا۔ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کی سزا دیگر ججز کو نہیں دی جا سکتی۔ بندوق اٹھانے والا سب سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ دوسرے درجے کا کمزور گالی دینے والا ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ایک کمشنر نے مجھ پر الزام لگایا۔ بھئی بتاو تو صحیح چیف جسٹس کیسے دھاندلی کروا سکتا ہے؟ سارے میڈیا نے اسے چلا دیا۔ مہذب معاشروں میں کوئی ایسی بات نہیں کرتا اس لئے وہاں توہین عدالت کے نوٹس نہیں ہوتے۔ چیخ و پکار اور ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تعمیری تنقید ضرور کریں لیکن تنقید کی ایک حد ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان کے بعد ایک اور صاحب آگئے جن کا نام مصطفی کمال ہے۔ انہوں نے بھٹو کا ذکر کیا۔  بھائی اگر ہم نے غلط کیا ہے تو بتائیں۔ بھٹو کے بارے میں آپ نے کیا کیا ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو کو ہم زندہ تو نہیں کر سکتے لیکن غلطی تو مان لی۔ صرف ایک کام کرنا ہے کہ ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ آپ نے بڑی جدوجہد کر دی تقریر کر کے۔ لیکن بہتری کیلئے کوئی بھی تحریری طور پر نہیں جاتا۔ آپ نے تقریر کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا، پریس کلب کیوں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ کیا کسی صحافی نے ان سے سوال کیا کہ یہاں کیوں بول رے ہیں؟ بس ان کو سامعین چاہیے۔ فیصل واؤڈا کے بعد مصطفٰی کمال بھی سامنے آ گئے۔ دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں تو ایوان میں بولتے۔ ایسی گفتگو کرنے کیلئے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں پتا ہے ہمارا انڈیکس میں نمبر 137 یا جو بھی ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ باپ کے گناہ کی ذمہ داری بیٹے کو نہیں دی جا سکتی۔ اسی عدالت نے مارشل لاء کی بھی آئینی توثیق کی ہے۔ اگر ایک ممبر قومی اسمبلی غلط ہے تو سارے پارلیمان کو غلط نہیں کہہ سکتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہماری عدلیہ کون سے نمبر پر ہے۔ گالیاں دینا مناسب نہیں۔ ہر چیز پر حملہ نہ کریں۔ آپ ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔ اگر توہین عدالت کی کارروائی چلائی تو کیس میں استغاثہ کون ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ استغاثہ اٹارنی جنرل ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اب وزن آپ کے کندھوں پر ہے، کیا شوز کاز نوٹس ہونا چاہیے یا صرف نوٹس ہونا چاہیے؟ ملک کا ہر شہری عدلیہ کا حصہ ہے۔ جرمنی میں ہٹلر گزرا ہے وہاں آج تک کوئی رو نہیں رہا۔ غلطیاں ہوئیں انہیں تسلیم کر کے آگے بڑھیں۔ سکول میں بچے غلطی تسلیم کرے تو استاد کا رویہ بدل جاتا ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے فیصل واؤڈا اور مصطفیٰ کمال سے 2 ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل واؤڈا اور مصطفی کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔ دونوں کو بلا لیتے ہیں۔ ہمارے منہ پر آ کر تنقید کر لیں۔

بعدازاں عدالت نے پیمرا سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کر دی۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے آج کی کارروائی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا۔

حکم نامے کے مطابق بادی النظر میں توہین عدالت ہوئی ہے۔ فیصل واؤڈا اور مصطفی کمال اپنے بیانات کی وضاحت کریں۔ دونوں رہنماؤں سے 2 ہفتے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیں۔ اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

سید صبیح الحسنین اسلام آباد میں مقیم رپورٹر ہیں اور دی فرائیڈے ٹائمز سے منسلک ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @SabihUlHussnain ہے۔