جب درخواست گزار "ملزم جج” کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے بنچ کے سربراہ کو مخاطب کر کے کہا "مائی لارڈ ! میرے (یعنی میرے مؤکل کے) خلاف دائر کیا گیا ریفرنس قابل پذیرائی تو کیا ، قابل سماعت ہی نہیں۔
جسے بھیجتے ہوئے وزیراعظم نے پڑھا ہے نہ صدر پاکستان نے، نہ اٹارنی جنرل نے ، نہ وزیر قانون نے ،سیکرٹری قانون نے اور نہ دائر کردیئے جانے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین و دیگر ارکان نے ، حتیٰ کہ یہاں موجود حکومتی وکلاء شریف الدین پیرزادہ نے ابھی تک اسے پڑھا ہے نہ جسٹس (ر) ملک قیوم نے۔
