سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کر دیا

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سیکٹر جی 8 میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔

سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کر دیا

اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) اتھارٹی نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سیکرٹریٹ کو سیل کردیا۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سی ڈی اے نے کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کردیا جبکہ کارروائی سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کی گئی۔

اسلام آباد کے سیکٹر G-8 میں واقع پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر میں سی ڈے اے نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے آپریشن کیا۔ اس دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے عمارت کا ایک حصہ گرا دیا گیا۔

اس حوالے سےسی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی ایک سیاسی جماعت کی جانب سے قائم کی گئی تجاوزات کے قیام اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے جس میں بھاری مشینری نے حصہ لیا اور سینٹرل سیکریٹریٹ کے ارد گرد رکھے کنٹینرز، سیکیورٹی بیریئرز اور دیگر مبینہ تجاوزات کو مسمار کر دیا۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکٹر جی 8 میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلاٹ پر بلڈنگ بائی لاز کے خلاف ایک اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی جبکہ اس کے علاوہ بھی پلاٹ پر مالک کی طرف سے متعدد دیگر خلاف ورزیاں کی گئیں۔

اعلامیے میں پلاٹ کے مالک کو متعدد بار نوٹسسز جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹسز19نومبر2020، 22فروری 2021 اور 14جون 2022 کو جاری کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 4 ستمبر2023 کو خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جبکہ 10مئی کو پلاٹ کو سر بمہر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

آپریشن کے دوران تحریک انصاف کے کارکنوں نے مزاحمت بھی کی جس پر پولیس نے کچھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

بعدازاں  پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور  قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اس کارروائی کی مذمت کی جبکہ اپوزیشن لیڈر  نے معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سی ڈی اے سے کہا ہے ہمیں بتائیں کیا تجاوزات ہیں۔ ہم خود ہٹائیں گے۔ پارٹی عمارت پرحملہ غیرآئینی اورغیرقانونی ہے۔ پارٹی عمارت پرحملے کیخلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔ ہمیں تجاوزات سے متعلق کوئی نوٹس نہیں ملا، عدلیہ سے درخواست ہے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم سے زیادتیاں کی گئیں۔ گھروں میں داخل ہوئے۔ اب رؤف حسن پرحملہ کرایا گیا۔  رات کے اندھیرے میں کوئی تجاوزات کیخلاف آپریشن نہیں ہوتا۔ خواجہ سراؤں کے روپ میں ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ عمارتیں گرا سکتے ہیں۔ لوگوں سے ان کا نظریہ نہیں چھین سکتے۔ الیکشن میں انتخابی نشان لیا گیا۔ عوام نے پھر بھی ووٹ دیئے۔ الیکشن کے بعد ہم آگے بڑھنا چاہتے تھے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر آپریشن کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے ایم این اے عامر مغل کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے بغیر نوٹس کارروائی کی ، اچھے ماحول میں بات ہوسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بطور اپوزیشن لیڈر میرا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد کو کمیٹی میں بلائیں گے۔ عدالت کے ذریعے مقابلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور محسن نقوی فاشسٹ ہیں۔ خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کیخلاف صبح مقدمہ کرائیں گے۔ آئی جی اسلام آباد کو کمیٹی میں طلب کریں گے۔ پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پر آپریشن کا معاملہ قومی اسمبلی میں اُٹھائیں گے۔