پاک فون کے جوان نائیک محمد آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کی شہادت کو اپنی طاقت، حوصلہ اور جینے کا مقصد بنالیا۔
نائیک محمد آصف نواز شہید پنجاب رجمنٹ کے دلیر سپاہی تھے، نائیک محمد آصف نواز شہید نے 22 نومبر 2017ء کو سیاچن کے محاذ پر دفاع وطن میں جام شہادت نوش کیا، سیاچین جانے سے قبل وہ دہشتگردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز کا حصہ بھی رہ چکے تھے، ان آپریشنز میں انہوں نے 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔
آصف نواز شہید کی اہلیہ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اے ایس ایف کو جوائن کیا۔ ثمرین کوثر کا کہنا تھا کہ کہ میرے شوہر کی شہادت نے مجھے مزید مضبوط اور پرعزم بنا دیا، میں نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھ سکوں۔
ثمرین کوثر نے مزید کہا کہ میں وردی پہن کر وطن کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں، یہ میرا عزم ہے۔
پاک فوج نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے انہیں ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) میں شامل ہونے کا موقع دیا۔ ثمرین کوثر اب اے ایس ایف اکیڈمی کراچی میں تربیت حاصل کررہی ہیں اور ان کی پاسنگ آؤٹ قریب ہے۔
ثمرین کوثر کی ہمت و قربانی ہر پاکستانی کیلئے مثال ہے اور ان کی کہانی حب الوطنی کی روشن علامت ہے، نائیک آصف نواز شہید اور ان کی اہلیہ جیسے عظیم لوگ قوم کا فخر ہیں، ان کی جدوجہد یہ پیغام دیتی ہے کہ شہداء کا خون وطن کیلئے لازوال محبت کی علامت ہے۔
ثمرین کوثر پاکستان کے فوجی جوانوں کے گھر والوں کیلئے ایک زندہ مثال ہے جس نے اپنے خاوند کی شہادت کے بعد اپنے آپ کو مضبوط کیا اور اسکے نقشِ قدم پر چل پڑی اور آج پورے پاکستان میں ان کے جذبے کی تعریف کی جا رہی ہے۔