ارشد شریف کا قتل غیر قانونی تھا، پولیس ہرجانہ ادا کرے؛ جیادو ہائیکورٹ

ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں تو انصاف مل گیا ہے مگر انہیں پاکستان میں انصاف ملنا باقی ہے، ارشد شریف کے قتل کے اصل ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے پاکستان میں انہیں 16 مقدمات میں نامزد کیا تھا۔

ارشد شریف کا قتل غیر قانونی تھا، پولیس ہرجانہ ادا کرے؛ جیادو ہائیکورٹ

کینیا کی عدالت نے ارشد شریف کے قتل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لواحقین کو 2 کروڑ 17 لاکھ پاکستانی روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

کینیا کی جیادو ہائیکورٹ کے جج جسٹس سٹیلا نے ارشد شریف کی بیوہ اور صحافی جویریہ صدیق کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کا دعویٰ مسترد کر دیا کہ ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ غلط شناخت کا نتیجہ تھا۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی اداروں کے خلاف تحقیقات کے بعد تادیبی کارروائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

کینیا کی عدالت نے ارشد شریف کے لواحقین کو 2 کروڑ 17 لاکھ پاکستانی روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں تو انصاف مل گیا ہے مگر انہیں پاکستان میں انصاف ملنا باقی ہے، ارشد شریف کے قتل کے اصل ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے پاکستان میں انہیں 16 مقدمات میں نامزد کیا تھا۔

یاد رہے اکتوبر 2022 میں نیروبی کی ایک چیک پوائنٹ کے نزدیک سے گزرنے والی ایک گاڑی پر پولیس کی فائرنگ سے ارشد شریف جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے ڈرائیور کو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔

نیروبی پولیس چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بچے کے اغوا کاروں کی تلاش میں پولیس نے اس گاڑی کو اشارے کے باوجود نہ رکنے پر نشانہ بنایا جس میں ارشد شریف موجود تھے۔ اس پر ارشد شریف کی بیوہ اور صحافی جویریہ صدیق نے ایلیٹ پولیس یونٹ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا۔ عدالت نے تین سماعتوں کے بعد اپریل 2024 میں مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا ہے۔