پختونخوا کی جامعات ملازمت کے خواہشمند امیدواروں سے لاکھوں بٹور رہی ہیں

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیاں پیسے بٹورنے کا منافع بخش کاروبار بن چکی ہیں جس سے نوجوانوں کے خوابوں اور امیدوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل حکومت کے سخت اقدامات اور طلبہ کی آگاہی میں مضمر ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے اشتہارات سے خبردار رہیں۔

پختونخوا کی جامعات ملازمت کے خواہشمند امیدواروں سے لاکھوں بٹور رہی ہیں

لکی مروت یونیورسٹی نے حال ہی میں ایک نیا اشتہار جاری کیا ہے جس میں پی ایچ ڈی اور دیگر کلاسز کے طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، لیکن یونیورسٹی اس پراسس کو مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی محنت اور مالی وسائل کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

لکی مروت یونیورسٹی پہلے بھی ایسے واقعات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے، جہاں درخواست دہندگان نے بھاری فیسیں ادا کیں، مگر دیگر مسائل کی بنا پر ان کا پراسس مکمل نہیں ہو سکا۔ یہ یونیورسٹیاں پیسے بٹورنے کے اس طریقے کو ایک منافع بخش کاروبار بنا چکی ہیں، جس سے وہ نوجوانوں کے خوابوں اور امیدوں کا فائدہ اٹھا کر پیسہ کماتی ہیں۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ اور نوجوان ایسے اشتہارات سے خبردار رہیں اور اپلائی کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں تاکہ اس قسم کی دھوکہ دہی سے بچ سکیں۔

یہ مسئلہ صرف لکی مروت یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے، بلکہ خیبر پختونخوا کی تقریباً تمام یونیورسٹیاں اس طریقہ کار کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں مستقل ملازمین کی بجائے کنٹریکٹ پر کام چلایا جا رہا ہے، اور جب درخواست دینے کے بعد پراسس رک جاتا ہے تو پھر ایک نیا اشتہار جاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ پراسس سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے اور طلبہ کی محنت اور پیسے ضائع ہو جاتے ہیں۔

مجھے خود بھی کئی یونیورسٹیوں کے پراسس کا علم ہے۔ ایک موقع پر میں نے ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو کہا تھا کہ یہ مشکل ہے کہ پراسس مکمل ہو، تو انہوں نے جواب دیا کہ معلوم ہے، مگر اس سے یونیورسٹی کے مالی معاملات میں پیسے تو آ جائیں گے اور وہی ہوا۔ لاکھوں روپے یونیورسٹی کو ملے مگر ملازمین کی بھرتی نہیں ہوئی۔

خیبر پختونخوا کا شاید ہی کوئی بے روزگار پی ایچ ڈی نوجوان ہو جس نے ایم فل کی ڈگری کے بعد لاکھوں روپے انٹری فیس کے طور پر ادا نہ کیے ہوں۔ یہ فیس اس لیے لی جاتی ہے کہ اس سے ملازمت کا پورا پراسس مکمل کیا جا سکے، جس میں بیرونی ممتحن کی فیس، کھانا، چائے اور رہائش شامل ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان امیدواروں کو ٹیسٹ اور انٹرویو کے دوران دور دراز سے آنے کے باوجود مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور رپورٹس کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

لکی مروت یونیورسٹی کا ماضی بڑا داغدار ہے۔ یہاں امیدواروں کو انٹرویو اور ٹیسٹ کی رسمی کارروائی سے گزار کر باہر کر دیا جاتا ہے اور کسی کو مستقل بنیادوں پر بھرتی نہیں کیا جاتا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ان یونیورسٹیوں کا مقصد صرف پیسے بٹورنا ہے، نہ کہ طلبہ کو بہتر مستقبل فراہم کرنا۔

حالیہ دنوں میں جب حکومت نے تمام ملازمتوں پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، تو لکی مروت یونیورسٹی نے ملازمتوں کا اشتہار جاری کر کے یونیورسٹی کے مالی معاملات میں مزید پیسے جمع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کی دیگر یونیورسٹیاں بھی طلبہ کے خوابوں کا استحصال کر رہی ہیں اور انہیں بے یقینی کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ایسی یونیورسٹیوں کے خلاف سخت اقدامات کریں جو طلبہ کا استحصال کر رہی ہیں۔ انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تعلیمی ادارے طلبہ کے حقوق کا احترام کریں اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

طلبہ کو چاہیے کہ وہ ان مسائل سے آگاہ رہیں اور کسی بھی یونیورسٹی میں اپلائی کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایسی یونیورسٹیوں کے اشتہارات کو نظرانداز کریں جو پہلے سے بدنام ہیں اور جہاں درخواست دہندگان کا پراسس مکمل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور ایسی دھوکہ دہی کے خلاف احتجاج کریں تاکہ ان کی محنت اور پیسے ضائع نہ ہوں۔

خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیاں پیسے بٹورنے کا ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہیں جس سے نوجوانوں کے خوابوں اور امیدوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل حکومت کے سخت اقدامات اور طلبہ کی آگاہی میں مضمر ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے اشتہارات سے خبردار رہیں اور اپلائی کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں تاکہ وہ دھوکہ دہی سے بچ سکیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔

مصنف کالم نگار، فیچر رائٹر، بلاگر، کتاب 'صحافتی بھیڑیے' کے لکھاری اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔