پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’فتنہ الخوارج‘ جیسے ’گمراہ گروہ‘ کو ملک میں ان کی اقدار مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستان فوج ان کے خلاف کامریڈوں کی طرح لڑ رہی ہے۔پاکستان فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان کے عسکریت پسندوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیتی ہے۔
پاکستان میں ایک سال کے دوران عسکریت پسندوں کے متعدد حملوں کی ذمہ داری ان کالعدم گروہوں نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے اتوار کو جنرل عاصم منیر کی مختلف جامعات کے طلبہ نے ملاقات کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ”جب تک قوم خصوصاً نوجوان ساتھ کھڑے ہیں پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی، ہم کامریڈز کی طرح لڑتے ہیں، ہمارے لیے پاکستانیت سب سے اہم ہے۔“
آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، ہم مذہب کی ان کی تشریح سے متفق نہیں ہیں، اسلام دنیا میں سب سے پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو عزت دے کر آسمان تک پہنچایا، چاہے ایک عورت ماں ہو، بیوی یا بہن کسی بھی کردار میں اسلام نے عورت کو عزت دی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ”آپ (فتنہ الخوارج) کون ہوتے ہیں اس مقام کو چھیننے والے؟ تمہیں یہ اختیار کس نے دیا؟ اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔“
جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا ’اگر وہ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں تو ریاست سے رحم کی توقع کر سکتے ہیں۔‘گذشتہ ایک سال کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جس میں ملک کے مختلف حصوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان فوج ان میں سے کئی حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر عائد کرتی ہے، جنہیں پاکستان فوج کے مطابق افغانستان میں قائم طالبان کی عبوری حکومت کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔البتہ افغان حکومت اس الزام سے انکار کرتی رہی ہے۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں ’دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے بھی ثبوت دے چکی ہے۔