ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو ریڈیو انتظامیہ نے سرکاری لیب سے ٹیسٹ کرانے کو کہا تاہم ان کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے اسے ٹالا گیا جس کے نتیجے میں اب 2 مزید ملازمین میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ شفٹ کو بند کر دیا گیا ہے. ذرائع نے بتایا کہ تازہ ترین کیسز میں کسی قسم کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی اور وہ ریڈیو پاکستان کے کئی ملازمین سے ملتے جلتے رہے۔ جس کے باعث خدشہ ہے کہ مزید افراد میں بھی وائرس منتقل ہوا ہوگا۔
ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ ملازمین کے لئے پمز میں ٹیسٹ کے لئے انتظامات بھی کروا دیئے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس میں تاخیر کی۔ پرائیویٹ لیبز کے ٹیسٹوں میں ان میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ۔انہوں نے بتایا کہ ابھی مزید ملازمین کے ٹیسٹ نتائج نہیں آئے ہیں اس کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ کتنے ملازمین میں یہ وائرس موجود ہے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن ختم کرنے ٹرانسپورٹ کھولنے، شاپنگ مالز اور مارکیٹیں کھولنے کے فیصلوں کے بعد اب عوام اس حوالے سے تشکیک کا شکار ہیں کہ آیا کرونا وائرس نام کی کوئی بلا ہے بھی یا نہیں۔ ایسے میں وہ جلد علاج اور حفاظتی اقدامات کے لئے تیار نہیں ہوتے اور پوری کمیونٹی کو لے ڈوبتے ہیں۔