لڑکیوں کی شادی کا کیس: عدالت کا مبینہ دلہا کی جنس معلوم کروانے کے لیے ٹیسٹ کرانے اور تحفظ فراہم کرنے کا حکم

لڑکیوں کی شادی کا کیس: عدالت کا مبینہ دلہا کی جنس معلوم کروانے کے لیے ٹیسٹ کرانے اور تحفظ فراہم کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے دو لڑکیوں کی شادی کے کیس میں مبینہ دلہا کی جنس معلوم کروانے کے لیے جینڈر میڈیکل ٹیسٹ کرانے اور تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں ٹیکسلا کی 2 لڑکیوں کی مبینہ شادی کیس کی سماعت ہوئی۔ دلہا علی آکاش اور دلہن نیہا آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئیں تاہم ان دونوں کے وکلا عدالت میں حاضر ہوئے، جنہوں نے بتایا کہ علی آکاش کا جینڈر میڈیکل ٹیسٹ تاحال نہ ہوسکا۔

پولیس نے بتایا کہ دلہا اور دلہن لاہور چلے گئے اور اب 10 روز سے کوئی رابطہ نہیں۔

علی آکاش کے وکیل نے اس کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے مطابق علی کا کرونا ٹیسٹ منفی آگیا۔ وکیل نے بتایا کہ علی آکاش کو ٹائیفائیڈ کی تشخیص ہوئی ہے اور ڈاکٹرز نے 10 دن آرام کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے 4 اگست کو علی آکاش کا جینڈر میڈیکل کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہسپتال کو چار اگست کے لئے میڈیکل بورڈ قائم کرنے کی ہدایت کی جبکہ سی پی او راولپنڈی کو دلہا کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

فاضل جج نے کہا کہ بغیر جینڈر میڈیکل ٹیسٹ کے کوئی آرڈر پاس نہیں کرسکتے، اگر جینڈر ٹیسٹ ہی منفی آگیا تو پھر کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ عدالت نے دلہا کے وکلا کی کیس دس دن التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔