گلگت بلتستان کی اسمبلی نے اپنا پانچ سالہ آئینی دور مکمل کر لیا ہے۔ سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت اسمبلی کا آخری اجلاس ہوا، جس میں 13 اہم قانون سازیوں پر غور کیا گیا۔
یہ اسمبلی 15 نومبر 2020 کو منعقدہ عام انتخابات کے بعد وجود میں آئی تھی، تاہم ایک نشست (GBA-3، گلگت-III) پر امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ 22 نومبر کو ہوئی۔ ارکان نے 26 نومبر 2020 کو حلف لیا، اور اسی دن سے ان کے سرکاری فرائض کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس کے بعد خالد خرشید خان کو لیڈر آف ہاؤس منتخب کیا گیا اور وہ 1 دسمبر 2020 کو چیف منسٹر کا حلف اٹھانے والے پہلے رہنما بنے۔
اس اسمبلی میں کل 33 نشستیں تھیں: 24 عام نشستیں، 6 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 ٹیکنوکریٹ نشستیں۔ سادہ اکثریت کے لیے 17 نشستیں درکار تھیں۔ 2020 کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اتحادیوں و آزاد اراکین کی حمایت سے حکومت قائم کی۔
تاہم پانچ سال کے دوران سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ 2023 کے وسط میں پی ٹی آئی کے اندر ایک فارورڈ بلاک وجود میں آیا، جس نے چیف منسٹر خالد خرشید کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو جنم دیا۔ نتیجتاً، 13 جولائی 2023 کو حاجی گلبر خان نئے چیف منسٹر منتخب ہوئے اور اسی روز انہوں نے حلف بھی اٹھایا۔ یوں انہوں نے باقی مدت حکومت کی قیادت کی۔
اس اختتامی اجلاس کے ساتھ گلگت بلتستان اسمبلی اپنا آئینی مینڈیٹ مکمل کرتی ہے اور خطہ ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عبوری حکومت اور نگران انتظامات کی تشکیل پر توجہ دی جائے گی تاکہ آئندہ انتخابات کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔