بالآخر پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔ اگر پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ بھی جاتا تو کوئی خاص خوشی نہ ہوتی، درحقیقت پاکستان اس قابل ہی نہ تھا کہ سیمی فائنل تک جاتا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم ہر صورت میں ہم سے بہتر تھی۔
اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان صرف ایک اچھی ٹیم، سری لنکا، سے جیتا — وہ بھی سری لنکن کپتان کی ناسمجھی کے باعث۔ اس نے ایک شاندار اننگز کھیلی، 31 گیندوں پر 76 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، شاہین کے آخری اوور میں تین چھکے اور ایک چوکا لگایا، مگر آخری گیند جو وائیڈ تھی، امپائر کے غلط فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔ سری لنکن کوچ سنتھ جے سوریا، جو ماضی کے میچ ونر آل راؤنڈر بھی رہے ہیں، وہ بھی خاموش رہے۔
پہلے راؤنڈ میں پاکستان نیدرلینڈز سے بمشکل جیتا، بھارت سے ہار گیا اور امریکہ سے جیت گیا۔ سپر ایٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بارش کی وجہ سے ایک پوائنٹ مل گیا، ورنہ وہاں بھی شکست ہوتی۔ پھر انگلینڈ سے بھی ہار گئے۔ سری لنکا کے حوالے سے سطورِ بالا میں لکھا جا چکا ہے کہ سری لنکن کپتان اور کوچ کی ناسمجھی انہیں لے ڈوبی، ورنہ سری لنکا جیت جاتا۔
عہدِ محسن نقوی پاکستان کرکٹ کا سیاہ ترین دور ہے۔ ہم مسلسل چوتھا آئی سی سی ایونٹ ہار چکے ہیں۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں امریکہ سے شکست، پھر چیمپئنز ٹرافی ون ڈے 2025 میں اپنے ہی گھر میں پہلے راؤنڈ میں باہر ہو گئے، اور ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025 میں بھی ناکام رہے، جس میں ہم بنگلہ دیش سے ہوم ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش ہوئے۔ اب 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناکامی — آخر یہ سیاہ ترین عہد کب ختم ہو گا؟
ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے سیاسی ڈھونگ بازی کی گئی کہ ہم بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ٹورنامنٹ نہیں کھیلیں گے، پھر کھیلنے پر تیار ہو گئے۔ پھر کہا بھارت سے نہیں کھیل سکتے، پھر بھارت سے بھی کھیلے۔ ڈھونگ رچایا گیا کہ سری لنکا کی دوستی میں کھیل رہے ہیں۔ اس سے پہلے ایشیا کپ بھی ہارے تھے، بھارت سے مسلسل تین میچ ہار کر ٹرافی بھی گنوا دی۔
یہ سب سیاسی ڈھونگ اور شعبدہ بازی ہوتی ہے، اصل مقابلہ کھیل کے میدان میں ہوتا ہے، جہاں آپ مسلسل ہار رہے ہیں۔ چونکہ آپ کو کرکٹ کی “ق” کا بھی نہیں پتہ، اس لیے میدان میں شکست فاش ہو رہی ہے۔
آئی سی سی نے اب کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں تقریباً ہر سال بڑا ٹورنامنٹ رکھ دیا ہے۔ 2026 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہوا، 2027 میں ون ڈے ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہو گا، پھر 2028 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2029 میں ون ڈے چیمپئنز ٹرافی ہو گی۔ ان تینوں فارمیٹس کے ہر میچ کو عالمی درجہ بندی کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
لہٰذا جب تک چیئرمین کرکٹ بورڈ کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والا نہیں ہو گا، تب تک کھیل کے میدان میں شکست ہوتی رہے گی، چاہے سیاسی ڈھونگ اور شعبدہ بازی جتنی مرضی کر لی جائے۔