یہ ممکن ہی نہیں کہ موسم، ماحول اور فطرت کی بات کی جائے اور بارش کا ذکر نہ ہو۔ بارش کا موسم انسان کے ذوق کو تسکین بخشتا ہے اور فطرت کی تبدیلی کی ایک علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش کا موسم ماحول کے ساتھ انسان کے مزاج پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔
اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ سردی، گرمی، خزاں اور بہار کے اپنے اپنے رنگ ہیں، مگر برسات کو ہمیشہ ایک منفرد اہمیت اور خصوصیت حاصل رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر موسم کا اپنا حسن ہے، مگر برسات کا رنگا رنگ اور خوبصورت موسم انسان کے گرد و پیش کے مناظر کو یکسر بدل دیتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بارش کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے — کبھی ساون بھادوں، کبھی بھری برسات، برسات کی رم جھم، برکھا رت، مینہ برسنا، جل، رم جھم کی لڑی، اور ابر کرم۔ یہ الفاظ نہ صرف بارش کے رومانی، جذباتی اور فطری مناظر کو بیان کرتے ہیں بلکہ موسم کی تبدیلی اور ماحولیاتی اثرات کی وضاحت میں بھی مددگار ہیں۔ اردو ادب میں ان الفاظ کے ذریعے بارش کو مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ہے، اور شاعری، نثر، ناول، مضامین اور افسانوں میں بارش کے مناظر کو خوبصورتی، احساسات، خوشبو اور زندگی کے تعلقات سے جوڑا گیا ہے۔
بارش ہمیشہ موسم کو خوشگوار بنا دیتی ہے اور انسان کے اندر اور باہر کے موسم کو شگفتہ کر دیتی ہے۔ یہاں میری مراد کراچی کی بارش نہیں بلکہ انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں گزشتہ شب ہونے والی بارش ہے، جہاں میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں موجود ہوں۔ ایسی بارش جس کے بعد نہ معمولاتِ زندگی میں کوئی خلل آیا، نہ سڑکوں پر پانی جمع ہوا، لوگ معمول کے مطابق پیدل چلتے رہے — بس ایک چھتری کا اضافہ ہوگیا۔ شہر کی ٹرانسپورٹ بھی جاری رہی، عمارتیں اور درخت دھل کر نکھر گئے۔
یہ صرف انگلینڈ ہی کا خاصہ نہیں۔ پچھلے سال انٹرنیشنل وزیٹرز لیڈرشپ پروگرام کے تحت امریکہ کی کئی ریاستوں میں جانے کا موقع ملا تو نیویارک کی بارش بھی اسی طرح رہی۔ یہی تجربہ سنگاپور میں بھی ہوا — ایئرپورٹ سے ہوٹل جاتے ہوئے شدید بارش ملی مگر کہیں کوئی خلل نہیں، شہر کی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں ہمارے ادارے اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
خیر، ہم اردو ادب اور بارش کی بات کر رہے تھے — یہ شہر، ادارے اور لوگ کہاں سے بیچ میں آ گئے؟
بارش اردو ادب میں ہمیشہ ایک محبوب موضوع رہی ہے جس پر بے شمار نظمیں، قصائد اور افسانے لکھے گئے ہیں۔ بارش ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے اور اس کا ذکر ادبی کالموں، نظموں، نثر اور دیگر اصناف میں بار بار ملتا ہے۔ میر ہوں یا غالب، درد ہوں یا نظیر اکبر آبادی، جوش، ناصر، فراز، امجد اسلام امجد، یا پروین شاکر — سب نے بارش کے مناظر کو رومانوی جذبات، ہجر و وصال، تنہائی، محبت اور تڑپ سے جوڑا ہے۔ کبھی آنسوؤں کو بارش کا نام دیا، کبھی تشنگی اور سیرابی سے اس کا تعلق جوڑا۔
جیسے میر نے کہا:
بارشوں کے موسم میں محبت کی باتیں
کہتے ہیں بارش آئی تو پھول بچھڑ گئے
اسی طرح غالب کے اشعار میں بھی بارش کی لطافت، غمگینی اور انسانی احساسات کی عکاسی ہوتی ہے:
بارش کی بوندیں لے کر آئی ہیں
دل کی کیسی ہیں ہوشیاریاں
کراچی کے مکینوں کے لیے ایک وقت تھا جب مون سون کی آمد کے ساتھ چہروں پر مسکراہٹ بکھر جاتی تھی۔ سیاہ بادلوں کی آمد دل و دماغ کو تازگی بخشتی تھی، مٹی کی خوشبو موسم کو خوشگوار بناتی تھی، اور بارش کی بوچھاڑ ذہن کی مایوسی کو دھو دیتی تھی۔ گھروں کے پچھواڑے میں جھولے ڈالے جاتے، مختلف پکوان تیار ہوتے۔
مگر اب تو مون سون کے ساتھ ہی چہروں پر فکر اور پریشانی چھا جاتی ہے۔ کہیں ٹین کی چھت ٹپکے گی، کہیں پورا گھر پانی سے بھر جائے گا، اور گٹروں کا گندا پانی مزید مصیبت لائے گا۔ گلی محلوں میں کھلے گٹر اور سڑکوں پر نالے لوگوں کی جانیں لے جائیں گے۔ کئی دنوں تک پانی کھڑا رہے گا، بیماریاں پھیلیں گی، اور اموات بھی ہوں گی۔
بات تو بارش کے موسم کے لطف کی ہو رہی تھی — یہ پھر شہر کی فکر کہاں سے آ گئی؟
واقعی، ہم جیسے لوگ ہمیشہ اندیشۂ سود و زیاں میں گرفتار رہتے ہیں، اور شہر کا دکھ ہی کھائے جاتا ہے۔ کیا کریں — ابھی مئی میں مون سون کی پہلی بارش ہو چکی ہے، اور جون کے شروع میں شہر کے میئر صاحب کا بیان آتا ہے کہ ستمبر تک نالوں کی صفائی مکمل کر لی جائے گی۔ یعنی ممکنہ تباہی کے بعد صفائی کا کام مکمل ہوگا! یہ صفائی سال کے آغاز میں ہو سکتی تھی مگر شاید انتظار فنڈز کے اجرا کا تھا، تاکہ نیا مالی سال شروع ہو اور کچھ کام ہو — چاہے مون سون تباہی پھیلا کر گزر چکا ہو۔
ارے یہ کیا — میں مانچسٹر کی بارش انجوائے کرنے کے بجائے پھر کراچی جا پہنچا اور اپنے شہر کا دکھ بیان کرنے لگا!
تحریر: محمد توحید