ڈپٹی وزیر اعظم؛ 'اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا کاکڑ جبکہ نواز شریف ڈار پر بضد تھے'

رانا ثناء اللہ کو جب کابینہ میں لایا گیا تو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی اپنا بندہ کابینہ میں لانے کی باتیں ہونے لگیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انوار الحق کاکڑ کی تقرری سے متعلق فون آتا اور پریشر بڑھتا، نواز شریف نے جلدی سے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم لگوا دیا۔

ڈپٹی وزیر اعظم؛ 'اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا کاکڑ جبکہ نواز شریف ڈار پر بضد تھے'

نواز شریف کا پہلا انتخاب یہی تھا کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم بنایا جائے لیکن اسٹیبلشمنٹ انوار الحق کاکڑ کو اس عہدے سے نوازنا چاہتی تھی۔ وزارت خزانہ کے قلمدان کے لیے تو پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ اپنا بندہ لانے کے لیے پر تول چکی تھی تو کڑوا گھونٹ پی کر اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ لینی پڑی۔ تاہم جیسے ہی نائب وزیر اعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام کی بازگشت بلند ہوئی تو نواز شریف نے وقت ضائع کیے بغیر اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم لگوا دیا۔ یہ کہنا تھا سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا۔

سماء ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بتایا کہ یہ تاثر کہ اب نواز شریف وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں، غلط ہے۔ نواز شریف کی ایک پریشانی ہے کہ جو بھی اقدامات اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پی ڈی ایم حکومت نے لیے تھے ان کی وجہ سے ن لیگ کی لائن پِٹ چکی ہے۔ عام انتخابات 2024 میں متعدد سیٹیں ہارنے کے پیچھے وجہ بھی یہی تھی کہ عوام ناراض تھے کہ آپ نے پی ڈی ایم حکومت میں ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اب خدشہ ہے کہ حکومت مزید جو اقدامات کرے گی اس سے عوام مزید ن لیگ کے خلاف ہوں گے۔ نواز شریف کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے پارٹی کو بچا لیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایم ایف کے بیانیے کو شہباز شریف آگے بڑھائیں گے جس سے ن لیگ اُڑ جائے گی۔ ان پالیسیوں سے عوام ن لیگ کو معاف نہیں کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی کوشش ہے کوئی ایسا بیانیہ بنایا جائے جس کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے تھوڑی سی مخلتف لائن لی جائے کیونکہ اگلے دو سال میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور عوام کا غصہ مزید بڑھے گا۔ کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پنجاب حکومت اسی لیے مرکزی حکومت سے مختلف اقدامات کر رہی ہے جیسے آٹا سستا، روٹی سستی وغیرہ لیکن وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے رخ پر چل رہی ہے۔ نواز شریف کی کوشش ہے کہ عوام کے خلاف ہر بات کو نہ مانا جائے اور اندر سے بیٹھ کر حکومت پر کچھ پریشر ڈالا جائے کہ فلاں چیز ایسے کر لیں، فلاں کام ایسے نہ کریں۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

یہاں اینکر پرسن عائشہ ناز نے ان سے سوال کیا کہ کابینہ میں جا کر، نائب وزیر اعظم بن کر وہ اسٹیبلمشنٹ سے دوری کیسے اختیار کر سکیں گے؟ اس پر نجم سیٹھی نے کہا کہ اسحاق ڈار نواز شریف کا دایاں ہاتھ ہیں۔ وہ کابینہ میں نہیں تھے، اسلام آباد میں بھی کہیں نہیں تھے۔ ان کی عزت کا سوال تھا تو وہ کوئی نمبر 2 پوزیشن بھی نہیں لے سکتے تھے۔ 2، 3 عہدے ہی ایسے تھے جن سے ان کی اہمیت کا اعتراف کیا جاتا۔ سینیٹ چیئرمین وہ بن نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ عہدہ پیپلز پارٹی کو دینا تھا۔ اس کے بعد وزیر خزانہ اور نائب وزیر اعظم کے عہدے بچتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی تھی کہ وہ وزیر خزانہ بنتے۔ اس پر اسٹیبلشمنٹ نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا تھا کہ ہم کس کو لائیں گے اور کس کے ذریعے ایس آئی ایف سی چلائیں گے۔ فنانس ہم اپنے پاس رکھیں گے کیونکہ جب سخت اقدامات کرنے پڑتے ہیں تو سیاست دانوں کا رویہ تھوڑا نرم ہو جاتا ہے۔ تب پھر انہوں نے کڑوا گھونٹ پی کر وزارت خارجہ لے لی۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اُس وقت نواز شریف کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ اسحاق ڈار کو اگر وزیر خزانہ نہیں بنانا تو پھر نائب وزیر اعظم بنا دیتے ہیں۔ نواز شریف کی پہلی چوائس یہی تھی کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیراعظم بنایا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت سوچا ہوا تھا کہ انوارالحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ یا نائب وزیر اعظم بنائیں گے کیونکہ انہوں نے نگران حکومت کے دوران بہت کام کیا تھا جس کے لیے انہیں 'انعام' دینا ضروری تھا۔ ان کو بلوچستان میں بھی کچھ نہیں ملا۔ سینیٹ چیئرمین بنانا تھا لیکن وہ عہدہ بھی پیپلز پارٹی آخری وقت میں لے اُڑی۔ پھر یہی سوچا گیا کہ کاکڑ کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنا دیں۔ رانا ثنا اللہ کو جب کابینہ میں لایا گیا تو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی اپنا بندہ کابینہ میں لانے کی باتیں ہونے لگیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے انوار الحق کاکڑ کی تقرری سے متعلق فون آتا اور پریشر بڑھنا، نواز شریف نے جلدی سے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم لگوا دیا کیونکہ ایک مرتبہ جب تعیناتی ہو جاتی ہے تو اس فیصلے کو واپس لینا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سوچا گیا کہ ابھی تو پیپلز پارٹی کابینہ سے باہر ہے لیکن توقع ہے کہ بجٹ کے بعد ان کی انٹری بھی ہو جائے گی تو اگر وہ وزارت خارجہ مانگتے ہیں اور نائب وزیر اعظم بھی کاکڑ بن چکے ہوتے تو پھر اسحاق ڈار کی کوئی جگہ نہیں بچنی تھی۔ اس لیے انہوں نے فٹا فٹ اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم لگوا دیا۔ اس سب میں نواز شریف کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ راتوں رات رانا ثناء اللہ کو بھی لائے اور نائب وزیر اعظم کا بھی نوٹیفکیشن کروا لیا۔ یہ سب جلدی میں کیا گیا تا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے متوقع پریشر کو کم کیا جا سکے اور دوسرا پیپلز پارٹی کو بھی تھوڑا پیچھے دھکیلا جائے کیونکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے لیے کم سے کم وزارت خارجہ اور زیادہ سے زیادہ نائب وزیر اعظم کا عہدہ مانگے گی۔ اب چونکہ نائب وزیر اعظم ن لیگ کا ہے تو توقع یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کو وزارت خارجہ دی جائے گی۔